مبصرہ: ڈاکٹر نسرین شگفتہ

دنیائے اردو ادب ۲۰۱۷ءکو سر سید احمد خاں کے دو سو سالہ جشن ولادت کے سال کی حیثیت سےمنا رہی ہے۔ اس سلسلے کے تحت مختلف اداروں میں  پروگرام منعقد ہو رہے ، مضامین تحریر  کئے جا  رہے ہیں،کتب شائع ہورہی ہیں اور رسائل کے سرسیدنمبر کا اہتمام  کیا جا رہا ہے جس کا مقصد سرسید  کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرناہے۔ زیر تبصرہ کتاب ” سرسید احمد خاں: منظوم نذرانہ عقیدت” اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یہ کتاب ڈاکٹر نسیم فاطمہ کی ادارت میں صائمہ قدیر اور فرزانہ عباس نے تدوین کی ہے۔ ایک اور کتاب ” سر سید احمد خاں: تحقیقی و مطالعاتی مآخذ” ڈاکٹر نسیم فاطمہ کی ادارت میں زیر طباعت ہے  جس کی تحقیق و تدوین ڈاکٹر نسرین شگفتہ،ڈاکٹر آمنہ خاتون اور دیگر نے کی ہے جو سرسید احمد خاں کے دوسو سالہ جشن ولادت کے موقع پر ۱۷  اکتوبر ۲۰۱۷ء کو لائبریری پروموشن بیورو کی طرف سے رونمائی کے لئے پیش کی جائے گی ان شاءاللہ۔

سر سید  کا اصل نام سید احمد خان ہے۔ والد کا اسم گرامی متقی خان ہے۔ ولادت جمعہ ۶ ذالحجہ ۱۲۳۲ھ/ ۱۷  اکتوبر ۱۸۱۷ء کی ہے۔ جائے پیدائش دہلی ہے۔ سرسید ایک نبیل گھرانے میں پیدا ہوئے جس کے مغل دربار کے ساتھ مضبوط تعلقات تھے۔ انھوں نے قرآن اور سائنس کی تعلیم دربار میں ہی حاصل کی جس کے بعد ان کو ولایت کی اعزازی ڈگری یونیورسٹی  آف ایڈنبرا سے عطا  کی گئی۔

۱۸۳۸ءمیں سرسید احمد خاں نے ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔ ۱۸۶۷ء میں وہ چھوٹے مقدمات کے جج مقرر کئے گئے۔ ۱۸۷۶ء مین ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے دوران وہ سلطنت برطانیہ کے وفادار رہے ۔ بغاوت ختم ہونے کے بعد انھوں نے اسباب بغاوت ہند  پر ایک رسالہ لکھا جس میں رعایائے ہندوستان کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو بغاوت ہند کے الزام سے بری کیا۔ سرسیداحمد خاں نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجراء کیا۔ان کو پاکستان اور بھارتی مسلمانوں میں ایک موثر شخصیت  کے طور پر دہکھا اور جانا جاتا ہے اور اکثر ود قومی نظریہ کا بانی تصور کیا جاتا ہے جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔

پاکستان میں کئی عمارتوں اور اداروں کے نام سرسید کے نام پر ہیں مثلاً سرسید گرلز کالج، سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی۔ان کی مشہور تصانیف مندرجہ ذیل ہیں: آثار الصنادید، خطبات احمدیہ، الکلام، سفرنامہ لندن، تاریخ بجنور، اسباب بغاوت ہند اور تفسیر القرآن۔

سرسید احمد خاں نے ۱۸۷۵ء میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج کی داغ بیل ڈالی جسے ۱۹۲۰ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور آج  اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا،

“میں ہندوستان میں ایسی تعلیم چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ ان کو اپنے حقوق حاصل ہوجائیں اگر گورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق اب تک نہیں دیئے ہیں جن کی ہم کو شکایت ہو تو بھی ہائی ایجوکیشن وہ چیز ہے کہ خواہ مخواہ طوعاً و کرعاً ہم کو دلا دے گی۔”

۱۹۵۰ء میں حکومت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو دیگر یونیورسٹیوں کے ساتھ اس کو بھی تحول میں لے لیا۔ آج اس یونیورسٹی کے تین کیمپس کیرالہ، مغربی بنگال اور بہار میں قائم ہیں۔یونیورسٹی کی سب سے پرانی عمارت جس کی بنیاد ۱۸۷۷ء میں لارڈ لٹن نے خود اپنے ہاتھوں سے رکھی آج بھی لارڈ لٹن کے نام سے یہاں ایک لائبریری موجود ہے اس کے آرکیٹیکچراسٹائل کو دیکھ کر آپ یہ پہچان سکتے ہیں کہ سرسید نے یہ کہا تھا کہ وہ اس ادارے کو آکسفورڈ آف ایسٹ بنانا چاہتے تھے۔ایک زمانہ تھا کہ یہاں کے سٹی ہال کے اندر فیکلٹی آف آرٹس، فیکلٹی آف کامرس، فیکلٹی آف سائنس اور ڈین آفس بھی ہوا کرتے تھے۔ یہاں کے  آج ۵۰۰ سے زیادہ طالبعلموں کے رہنے کا بندوبست ہے۔ یہاں ملکی اور غیر ملکی طلبا آکے یہاں کے علم کے چراغ سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔

مسلم علی گڑھ یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری ایشیا کی دوسری بڑی لائبریری ہے۔ اس لائبریری میں ۱۸ لاکھ کتابیں اور ۵۵  ہزار جرنلز سے زیادہ موجود ہیں۔۱۹۶۰ء میں پنڈت جواہر لال نہرو نے اس لائبریری کا افتتاح کیا۔

زیر نظر کتاب ڈاکٹر نسیم فاطمہ کی ادارت میں بزم اکرم سے شائع ہوئی۔ آپ سابق صدر شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس، جامعہ کراچی ہیں۔ آپ کا شمار ملک کی ان نمائندہ خواتین میں ہوتا ہے جنھیں بجا طور پر رجحان ساز کہا جاتا ہے۔  استاد کی حیثیت سے کامل، تحقیق میں معتبر، ۴۶ کتابوں اور بے شمار مضامین کی مصنفہ ہیں۔ پاکستان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جرنل کی ڈپٹی چیف ایڈیٹر ، لائبریری پروموشن بیورو کی نائب صدراور ادب و کتب خانہ  کی مدیرہ اعلیٰ ہیں۔ اردو مخطوطات و دستاویزات، مطالعہ نسواں، انفارمیشن ٹکنالوجی کے علاوہ شخصی ذخائر پر کام کیا۔ اردو شعراء پر تنقیدی مضامین لکھے۔ اردو میں کتب خانوی ادب تخلیق کیا اور شاگردوں میں تصنیف و تحقیق کا ذوق پیدا کیا۔

اس کتاب کی تحقیق و تدوین ڈاکٹر نسیم فاطمہ کی قابل شاگرد صائمہ قدیر اور فرزانہ عباس نے بڑی لگن اور محنت سے کی۔یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔  صائمہ قدیر نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز پامسیٹ سے ۲۰۰۶ء میں کیا اس کے بعد  سندھ آرکائیو اور حسن علی آفندی لائبریری، سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی میں خدمات انجام دیں۔ پاکستان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جرنل اور ادب و کتب خانہ میں تحقیقی مضامین  شائع ہوئے۔ فرزانہ عباس نے ۲۰۰۹ء  میں سندھ  آرکائیو سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ ریسرچ  اسسٹنٹ رہیں۔ ۲۰۱۳ء سے اسکول آف لائبریرین شپ میں لکچرار کی حیثیت سے تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بحیثیت ٹیوٹر منسلک ہیں۔ ادب و کتب خانہ اور لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جرنل میں ان کے مضامین شائع ہوئے۔

سرسید احمد خاں کا شاعری سے بھی گہرا رشتہ ہے۔ لیکن قومی سرگرمیوں اور عملی جدوجہد کی بنا پر وہ شاعری کو زیادہ وقت نہ دے سکے۔ سرسید اردو اور فارسی کے شاعر تھے۔ ان کے چھ فارسی اشعار بہت مشہور ہوئے۔ ان اشعار میں انھوں نے اپنی ذات کو سمو دیا ہے۔ سرسید اپنا تخلص آہی لکھتے تھے۔ مشہور فارسی اشعار درج ذیل ہیں،

فلاطوں طفلکے باشد  بہ  یونانے کہ من دارم۔۔۔مسیحا رشکِ می آروذ  درمانے کہ من  دارم

زکفر من چہ می خواہی زایمانم چی می پرسی۔۔۔ہماں یک جرعہ عشق ست ایمانے کہ من  دارم

خدا  دارم دل  برہاں زعشق مصطفی  دارم۔۔۔نہ  دار د  ہیچ   کافر سازوسامان  کہ من  دارم

ز جبریل  امیں قرآں بہ  پیغامے نمی خوانم۔۔۔ ہمہ گفتار معشوق ست قرآنے  کہ من  دارم

فلک یک مطلع  خورشید  داد  با ہمہ شوکت ۔۔۔ ہزاراں مطلع   ہا دار گریبانے کہ من  دارم

ز برہاں تا بہ ایماں سنگ ہا  دار  رہ  واعظ۔۔۔نہ  دارد  ہیچ  واعظ ہم چو  بر ہانے کہ من دارم

یہ اشعار اچھی شاعری کے بیشتر تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔

زیر نظر کتاب کا مقدمہ سید معراج جامی نے تحریر کیا۔ پیش لفط ڈاکٹر نسیم فاطمہ کا ہے۔  اس میں ۵۶ شعراء کی منظومات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔اس مجموعہ میں نوحہ، مرثیہ، نظم، قصیدہ، مسدس، نذرانہ عقیدت اور خراج تحسین خوبصورت انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔مختلف ادوار کے مشہور شعراء کی شاعری شامل ہے۔

علامہ محمد اقبال نے” سید کی لوح تربت” کے عنوان سے جو اشعار پیش کئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں،

۔اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیر۔۔۔اے کہ تیری روح کا طاہرقفس میں ہے اسیر

۔ سنگ  تربت  ہے  میرا  گرویدہ تقریر  دیکھ۔۔۔ چشم باطن  سے  ذرا  اس  لوح کی تحریر  دیکھ

۔ مدعا   تیرا  اگر  دنیا  میں  ہے تعلیم  دیں۔۔۔ ترک  دنیا   قوم کو  اپنی  نہ  سکھانا  کہیں

۔ ہو   اگر   ہاتھوں میں تیرے  خامہ معجز رقم۔۔۔ شیشہ  دل  ہو   اگر تیرا  مثال جام  جم

۔ سونے  والوں  کو جگا دے شعر کے اعجاز سے۔۔۔ خرمنِ  باطل جلا دے شعلہ آواز  سے

ڈاکٹر نسیم فاطمہ، صائمہ قدیر اور فرزانہ عباس نے سرسید احمد خاں کے مشن کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھا اور مختلف کتب، اخبارات اور رسائل سے مختلف شعراء کی منظومات کو اکٹھا کیا اور کتابی صورت میں پیش کیا۔ اس مجموعہ میں سرسید احمد خاں کی شخصیت و کارناموں کے مختلف پہلووں کو شاعری کی شکل میں  پیش کیا۔ اس مجموعہ کی اشاعت پر میں ان تینوں  قابل قدر محققین کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں یہ اشاعت کتب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ شاعری سے شغف رکھنے والے اس مجموعے کو پسند کریں گے۔