سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد7، شمارہ1

کوئی ایک ڈیڑھ ماہ سے اوپر ہوگیا ہے، شمارہ تیار کرکے رکھاہے لیکن اداریہ لکھنے کی کوشش کرتا ہوں لکھ نہیں پاتا۔ ایسا نہیں ہے کہ لکھنے کو کچھ نہیں ہے۔ ڈھیر سارے موضوعات ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے، جن پر بات ہونی چاہئے لیکن بات کیوں کی جائے؟ کس کے لئے کی جائے؟

خدائے سخن میر تقی میؔر نے کہا تھا:

میؔر کیا سادے ہیں ، بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

میر تقی میر خوش نصیب تھے ، عطار کے جس لونڈے کے لئے بیمار ہوئے وہ کم از کم انہیں گھاس تو ڈالتا تھا  مگر لائبریرین وہ بیمار لوگ ہیں کہ یہ جس عطار کے لونڈےکے سبب بیمار ہوئے جاتے ہیں وہ انہیں دوا دینا تو دور کی بات،ڈھونڈنے سے ملتا بھی نہیں ہے۔حال یہ ہے کہ بیمار کی بیماری اور عطار کے لونڈے کی بے حسی دونوں انتہا کو پہنچتی جارہی ہیں۔ کوئی بھی تو پرسانِ حال نہیں ہے۔ ایسے میں کیا بات کی جائے؟ کس سے کی جائے؟ اور کیوں کی جائے؟

؎بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق

چاروں طرف ایک بے سمت سا پراگندہ ومنتشر اپنی منزل سے ناآشناذاتی مصلحتوں میں گھِرا ہجومِ بے پناہ ہے۔ سلگتے مسائل کا انبار، نئے زمانے کے بیشمار چیلنجز اور ایک پوری ایسوسی ایشن۔۔۔۔سب کچھ غائب۔ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ کسی کو کچھ خبر نہیں۔ایسے میں کیا لکھا جائے؟کس کے لئے لکھا جائے؟اور کیوں لکھا جائے؟؟

‏دل چاہتا ہے

غارِ اصحابِ کہف میں جا کر سو جاؤں

جب نیند سے اٹھوں

میرا زمانہ گزر چکا ہو

میرے سکے کھوٹے ہو چکے ہوں

میری بات کوئی نہ سمجھتا ہو

مجھے کوئی نہ جانتا ہو

رب سے پوچھوں

بتا، اب کہاں جاؤں

رب کہے

تیرے زمانے اب نہیں رہے

انسان سبھی مر چکے ہیں

صرف ہجوم زندہ ہے

جنون زندہ ہے

تو لوٹ جا

غارِ اصحابِ کہف میں

پھر سے جا کر سو جا

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.