سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد6، شمارہ4

پاکستان میں لائبریرین شپ کو جن بحرانوں کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا بحران شاید کمپلیکس کا ہے۔

بیشمار ایسے لوگ جو کسی دوسرے پیشے کو اختیاررکرنا چاہتے ہوتے ہیں وہ کسی وجہ سے جب اسے اختیار نہیں کرپاتے اور لائبریرین شپ میں آجاتے ہیں توان کے اندر ایک شدید قسم کا  نفسیاتی ردعمل پیدا ہوجاتا ہے۔انہوں نے ذہن میں کسی بڑے بارعب افسر بننے کا تصور سجایا ہوتا ہے جس نے شان بان اور ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزارنا ہوتی ہے یامخدوم بن کر رہنا ہوتا ہےلیکن وہ ایک ایسے پیشے میں آجاتے ہیں  جس میں مخدوم نہیں  بلکہ علم کے متلاشیوں کا خدمت گزار بننا پڑتا ہے تو وہ  اندر سے پیچ وتاب کھا کر رہ جاتے ہیں۔ اندر کی افسری انہیں لائبریرین بننے پر شدید ملامت کرتی ہے۔وہ ہر فن مولا ہوتے ہیں ۔ بس نہیں ہوتے تو اچھے لائبریری پروفیشنل نہیں ہوتے۔ اس لئے اگر ایسے لوگوں کو آپ لائبریرین شپ کا ”فرقہ ملامتیہ“ کہہ لیں تو بالکل بھی غیرمناسب نہیں ہوگا۔اس فرقے کے لوگ آپ کو اپنے ارد گرد کثیر تعداد میں مل جائیں گے۔ ویسے تو ایسے لوگوں کی حالتِ زار پر  ترس ہی کھانا چاہئے کیونکہ یہ لوگ بنیادی طور پر مظلوم ہوتے ہیں لیکن بعض معاملات میں ان کی وجہ سے  پیشے کی حالت قابلِ رحم اور قابلِ ترس ہوجاتی ہے۔

 یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے کس طرح سے ہماری زندگی کے ساتھ جُڑی چھوٹی سے چھوٹی  چیز اور معاملے  کو متاثر کیا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب آچکا ہے۔ لیکن کچھ باتیں نہ کبھی بدلی ہیں نہ بدلیں گی۔ مثلاً صدیوں پہلے جب سائنس اور ٹیکنالوجی نے ابھی اتنی جادوئی  ترقی نہیں کی تھی تب بھی ڈاکٹر ، ڈاکٹر ہی کہلاتا تھا۔ استاد کو اس قدیم زمانے میں بھی استاد  ہی کہا جاتا تھا اور رہتی صدیوں تک وہ استاد ہی کہلاتا رہے گا۔ اسی طرح مختلف پیشے جو پرانے زمانے میں کسی نام سے جانے جاتے تھے تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود وہ اسی نام سے آج بھی جانے جاتے ہیں اور شاید ہمیشہ انہی پرانے ناموں سے جانے جاتے رہیں گے کیونکہ یہ نام انہیں مہذب معاشروں نے بہت سوچ سمجھ کردئیے تھے۔ وہ کبھی کسی کمپلیکس کا شکار نہیں ہوئے لیکن ہمارے لائبریرین شپ کے ساتھ عجیب المیہ گزرگیا ۔ بجائے اس کے  کہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کے نتیجے میں  پیشے کو لاحق خطرات سے نپٹنے کے بارے میں سوچ بچار کی جاتی اور کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جاتا، لوگ لفظ”لائبریرین“ اور ”لائبریری“ کے پیچھے پڑگئے۔چنانچہ صدیوں پہلے اہلِ علم  کے اجتماعی شعور نے اس مقدس پیشے   اور اس سے منسلک افراد کے لئے جو محترم نام تخلیق کئے تھے وہ ہمارے دور کے علمی طور پر مفلوج اور سطحی لوگوں کے نزدیک محترم کیا ہوتے الٹا  شرمندگی کا ذریعہ بن گئے۔ اس لئے میں  خود کو ایک لائبریرین کہلانے کے بجائے انفارمیشن سائنٹسٹ، انفارمیشن مینیجر، انفارمیشن آفیسر، لائبریری آفیسروغیرہ جیسے ”دلکش“ ناموں سے مخاطب کروانا پسند کرتا ہوں۔ میرے ”دفتر“ کو کوئی لائبریری کہے  مجھے بہت برا لگتا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں اسے انفارمیشن ریسورس سنٹر جیسے جدید نام سے پکارا جائے۔

صاحبو، ذرا سوچو تو سہی اپنے تشخص اور اپنے پیشے کے بارے میں اس طرح کے کمپلیکس لے کر لائبریرین شپ کو درپیش اصل چیلنجوں کے ساتھ کیسے نپٹا جاسکتا ہے اور چیلنج بھی ایسے کہ آنے والے ہر لمحے میں جن کی تعداد اور گھمبیرتا میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہو۔جہاں علم بہت تیزی سے تحلیل ہوکر معلومات میں بدل رہا ہو اور معلومات کاغذ کے پنوں سے نکل کر برقی آلات میں نئی نئی شکلیں لے کر سامنے آرہی ہوں وہاں  ایک سنجیدہ لائبریرین اپنے کردار کا تعین کرنے کے بجائے اپنے نام کو بدلنے کی لایعنی مشق میں الجھا ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟

کہتے ہیں 2020ء کے آخر تک 5Gدنیا بھر میں لانچ ہوجائے گی۔اور سنا ہے 5Gانسانیت کو ایسے ہی بڑے انقلاب سے دوچارکردے گی جیسا کبھی پہیے اور www کی ایجاد سے ہوا تھا۔ وقت اور حالات اتنے برق رفتار ہوجائیں گے کہ شاید پھر کچھ بھی مٹھی میں نہ رہے۔ ہر طرف مشینوں کا دور دورہ ہوگا۔ اورمشینیں ٹھہریں جذبات سے بالکل عاری۔نام بچاتے بچاتے کہیں پروفیشن سے بھی ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں۔

 سوچئے گا ضرور!

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.