سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد6، شمارہ3

آج جنوبی پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں کا وہ بچہ بہت شدت سے یاد آرہا ہے جسے کتاب  اور مطالعے سے عشق تھا۔ چھوٹی سی عمر میں بہت سے مطالعہ نے اسے باور کرادیا تھا کہ وہ بھی لکھ سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے اس زمانے میں جبکہ وہ ابھی چھٹی یا ساتویں کلاس میں تھا، لکھنا شروع کر دیا۔ اس نے لکھنے کا آغاز کہانیوں  سے کیا۔ وہ کہانیاں لکھتا اور پھر انہیں اپنے ارد گرد لوگوں کو پڑھنے کے لئے دیتا ۔ وہ لوگ اس کی کہانیاں پڑھتے اور اسے داد دیتے۔ اگر کہانی ادھوری ہوتی تو اسے مکمل کرنے یا اس کا اگلا حصہ لکھنے کی فرمائش کرتے۔ یوں اس بچے کو لکھنے کا اعتماد ملا۔ اس اعتماد نے اسے اپنی کہانیاں کسی رسالے میں چھپوانے پر مائل کیا اور یوں اس نے اپنی ایک کہانی بچوں کے ایک رسالے ”آنکھ مچولی“ کو ارسال کردی۔

رسالےمیں کہانی بھیجنا اس کی زندگی کا انتہائی اہم واقعہ تھا۔ اسے لگا کہانی چھپتے ہی وہ بھی ملک کے قلمکاروں کی صف میں شامل ہوجائے گا ۔قلمکار ہونا اس کی نظر میں انسانیت کا  اہم ترین وصف تھا۔ اس بچے کا یہ ماننا تھا کہ انسان کی تمام تر فضیلت اس کے علم کی وجہ سے ہے اور علم کی تمام تر روشنی قلم کی نوک سے پھوٹتی ہے۔ قلم کار بننے کے خواب آنکھوں میں سجائے اس نے ”آنکھ مچولی“کے تازہ شمارے کا انتظار شروع کردیا۔

مہینے بعد جب رسالہ آیا تو اس میں اس کی کہانی چھپی نہیں تھی۔اس نے پورے رسالے کی ایک  دو بار نہیں کئی بار ورق گردانی کر دی لیکن اس کی کہانی کسی صفحے پر نہیں تھی۔کہانی نہ چھپنا اس کے لئے کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اسے ایک صدمہ اور سہنا پڑا۔ اس رسالے کا اصول تھا کہ جو مضامین یاکہانیاں ناقابل اشاعت ہوتیں  ان کی بھی فہرست دے دی جاتی تھی۔ اس کی کہانی کا نام اس فہرست میں بھی نہیں تھا۔ مایوسی تو بہت ہوئی لیکن اس نے سوچا شاید اگلے شمارے میں اس کی کہانی چھپ جائے۔ لیکن   ایسا نہ ہوا۔اس کی کہانی  آنے والے کسی بھی شمارے کا حصہ نہ بن سکی۔

ڈائجسٹ میں کہانی نہ چھپنے کا واقعہ اتنا تکلیف دہ تھا کہ آنے والی پوری زندگی میں بھلایا نہ جا سکا۔ اس بچے نے اپنی تکلیف کے اس احساس کو بہت سنبھال کر رکھا۔ اس احساس کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے اپنی طاقت بنایا اور 2014ء میں اس  احساس کو زمانے کے سامنے سہ ماہی  صدائے لائبریرین  کی شکل میں پیش کردیا۔

اس واقعے کے پسِ منظر میں مجھے آپ سے دو باتیں کہنی ہیں:

پہلی بات  علامہ اقبال ؒ کے الفاظ میں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:

تو شب آفریدی، چراغ آفریدم
سفال آفریدی، ایاغ آفریدم

تو نے رات بنائی میں نے چراغ بنا لیا۔ تو نے مٹی بنائی میں نے اس سے پیالہ بنا لیا۔

بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم

تو نے بیابان، پہاڑ اور میدان بنائے۔ میں نے اس میں خیابان، گلزار اور باغ بنا لیے۔

یعنی آپ کی زندگی میں آنے والی رکاوٹیں اصل میں وسیع امکانات ہوتے ہیں جنہیں  کام میں لا کر آپ جدت و اختراع کے کتنے ہی نئے جہان آباد کرسکتے  ہیں۔صدائے لائبریرین میری زندگی کی ”رکاوٹوں“سے کشید کئے ہوئے امکانات میں سے ایک امکان ہے۔

دوم، ہمیں دوسروں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لئے تخلیق کیا گیا ہے۔ہم جس حال میں بھی ہوں ، کیسی ہی بے سروسامانی کی حالت میں کیوں نہ ہوں، ہم اتنے امیرتو  ہوتے ہی  ہیں کہ کسی نہ کسی کی مدد کرسکیں، کسی نہ کسی کی حالت بہتر کر سکیں۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کوہماری مسکراہٹ، ہماری محبت، ہماری توجہ اور ہماری حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو  اپنے احساسِ محرومی ، احساسِ کمتری اور مایوسی سے نجات پائیں اور وہ کرنے کی کوشش کریں جس کے لئے آپ کو یہاں بھیجا گیا ہے۔یقین کریں اس سے آپ  دوسروں کے لئے تو راحت کا سبب بنیں گے ہی، آپ کی اپنی زندگی بھی راحتوں سے بھر جائے گی۔

صدائے لائبریرین انہی دو نظریوں کو لے کر شاہراہ زندگی پر رواں دواں ہے۔ ابھی حال ہی میں صدائے لائبریرین ٹی وی (Sadaelibrarian TV) کے نام سے یو ٹیوب چینل کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ یہ چینل پاکستانی لائبریرین شپ کی تاریخ کا اپنی نوعیت کا پہلا چینل ہے۔اس پر ہم لائبریرین شپ کے حوالے سے معلوماتی ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے ہیں۔  مقصد صرف اتنا ہے کہ ظلمتِ شب پر واویلا مچانے، اپنا اور دوسروں کا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے صرف اپنے حصے کاکام کیا جائے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اس چینل کو  سبسکرائب کریں  اور مزید لوگوں تک پہنچائیں تاکہ اس کی فعالیت کو بہتر کیا جا سکے۔

خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیں۔ اگلے شمارے میں آپ کے ساتھ پھر ملاقات ہوگی۔ تب تک کے لئے اللہ حافظ!

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.