سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد6، شمارہ2

اس راہ میں جو سب       پہ گزرتی ہے وہ گزری

صدائے لائبریرین اپنی زندگی کے چھٹے سال میں داخل ہوگیا۔الحمد للہ علیٰ ذالک!

اگرچہ ان پانچ سالوں میں

چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوک دشنام

چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرز ملامت

کے مصداق دل پر داغِ ندامت کے علاوہ سب داغ لگے مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس نے استقامت بخشی اورتاریکی میں روشنی دکھائی ۔ اب  صدائے لائبریرین محض ایک خواب نہیں بلکہ روز ِ روشن جیسی ایک حقیقت ہے۔اسے ایک عظیم حقیقت بنانے میں بلاشبہ  اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم شامل حال  رہا۔ صدائے لائبریرین کی ٹیم کی مخلصانہ  جدوجہد ، اس میں لکھنے والے تمام معززین کی تحریریں اور قارئین کی پسندیدگی بلاشبہ  اسے حقیقت بنانے میں معاون ثابت ہوئیں۔

اے  ابابیلوں کے  رب!  صدائے لائبریرین  اور اس کی پوری ٹیم کو ہاتھی والوں کے تکبر ، حسد  اور دست برد سے محفوظ رکھے، آمین!

پروفیسر انور شعیب  خان ۔ ایک عظیم انسان

پروفیسر انور شعیب  خان اس دنیا سے رخصت ہوگئے  بالکل ویسے ہی جیسے ہر ذی روح نے بالآخر اس جہانِ فانی سے کُوچ کرنا ہے۔لیکن کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کا جانا ہمارے لئے بہت بڑا خسارہ ثابت ہوتا ہے۔

پروفیسر صاحب کے ساتھ میرا تعارف تب ہو ا جب انہیں اس جہان سے رخصت ہوئے دو ہفتے ہوچکے تھے۔ اس سے دو ہفتے پہلے 7 جون کو بروز جمعہ ان کے انتقال کی خبر جب سوشل میڈیا پر چلی تو اسے پڑھ کر ایسا ہی ایک عمومی تاثر پیدا ہوا جیسا کہ اس طرح کی خبریں پڑ ھ کر پیدا ہوتا ہے،جس کے نتیجے میں ہم  انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے اور مرحوم کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔لیکن اس ایک معمولی خبر کے پیچھے پروفیسر صاحب کی شخصیت زیادہ دیر چھپی نہ رہ سکی۔ وہ آہستہ آہستہ زُوم ہوتی ہوتی دو ہفتوں میں ہی میرے سامنے عظمت کے ایک مینار میں ڈھل گئی۔ میں اس شخصیت کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا۔ ن کی ذات میرے لئے عجز و وفا، خلوص و محبت اور ایثار کیشی  کا ایک عظیم استعارہ  بنتی چلی گئی۔یوں مجھے لگا کہ پروفیسر صاحب کا انتقال ایک فرد کا  نہیں اس  ایک استعارے کا انتقال ہےجو بہت تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہےاورہم محبت اور خلوص کے شدید قحط کا شکار ہوئےجارہے ہیں۔

ان  کا تعلق اس قلیل اقلیت کے ساتھ  تھاجو سوالاکھ انبیاء  علیہم السلام کی دعوت و تبلیغ کے نتیجے میں ان کی ساتھی بنی۔ایک المیہ یہ ہے کہ اس اقلیت کے لوگ ہمارے ارد گرد سے کم ہو رہے ہیں۔اس کمی کے نتیجے میں اکثریت کی کثرت ہوتی جارہی ہے وہ اکثریت جس کے بارے میں اللہ کی کتاب حکم صادر کرچکی:

أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا۔ سورہ الفرقان، آیہ 44

ترجمہ :یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔

 اور ایک  دوسراالمیہ یہ ہے کہ پروفیسر صاحب جیسے لوگ اپنی وفات کے بعد ہی کیوں جانے جاتے ہیں؟شاید اس لئے کہ ہم بنیادی طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک  بہت چھوٹا سا  گروہ جو تماشہ گر ہے اور دوسرا بہت بڑا جو تماش بین ہے۔ ہم تماشہ گروں اور تماش بینوں میں بٹ چکے ہیں ۔ ان دو گروہوں کے ہنگام درمیان میں سے کہیں پروفیسر صاحب جیسے  لوگوں کا  خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے انخلاء جاری ہے۔ تماشے ارزاں اور خلوص ناپید ہے۔ ہمیں قحط الرجال کا سامنا ہے۔

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق

بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

دعا ہے کہ  رحیم اور کریم اللہ مرحوم پروفیسر صاحب کی قبر کو اپنے انوار سے منور کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے ، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل دے اور ان کی بیوی اور بچوں کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین!

ناصر نایاب صاحب نے  چند اشعار پروفیسر انور شعیب صاحب کی نذر کئے ہیں جو قارئینِ صدائے لائبریرین کی خدمت میں پیش ہیں:

سادگی! اخلاق کا پیکر تھے وہ

اور اپنی ذات میں خوگر تھے وہ

جو اندھیروں میں دکھائے روشنی

یوں سمجھ لیں جیسے اک خاور تھے وہ

پُر نہ ہوگا شعبہ میں ان کا خلاء

نہ ملے گا پھر ایسا گوہر تھے وہ

ان تلک اپنا پہنچنا ہے محال

کیا بتائیں کتنے قد آور تھے وہ

کیا کہوں کہ وہ کیا تھے میرے لئے

دوست تھے،استاد تھے، رہبر تھے وہ

اور یہ کہ:

وہ تو نیکی کا استعارہ

اور چمکتا ہوا ستارہ تھے

عاجزی میں بتائی عمر تمام

حسن ِ اخلاق کا مینارہ تھے

گو کسی سے کہا نہیں لیکن

کتنے لوگوں کا وہ سہاراتھے

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.