سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد6، شمارہ1

ایک لائبریری یا لائبریرین کی تمام تر سرگرمیوں کا مرکزی نقطہ یا نیوکلیئس اس کا صارف یا قاری ہوتا ہے ۔ صارف یا قاری کو کس قسم کی معلومات چاہئیں؟ان معلومات کی نوعیت و شکل کیسی ہو؟وہ معلومات کن ذرائع سے حاصل ہوں گی؟ ان معلومات کی لائبریری کے اندرترتیب اور درجہ بندی کیسی ہو؟معلومات کس ماحول میں رکھی جائیں؟صارف کو اس کی مطلوبہ معلومات کس شکل یا فارمیٹ میں  چاہئیں؟ایک لائبریرین کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ ان تمام سوالات کے جوابات عملی طور پر جانتا ہو اور ان جوابات کی تکمیل کے لئے مطلوب مہارتوں پر اسے عبور حاصل ہو تبھی جا کر وہ اپنے صارف کی علمی  ومعلوماتی ضرورت کی تسکین کرسکے گا۔اگر ایک لائبریرین اپنے صارف کی علمی و معلوماتی تسکین کا سامان کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ ایک ناکام لائبریرین ہے ۔

فی زمانہ کسی بھی ادارے کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اپنی لائبریری کے لئے ہر طرح کے وسائل مہیاکرسکے ۔بہت سی لائبریریوں میں کمپیوٹر نہیں ہیں اگر کمپیوٹر ہیں تو انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے۔ اگر کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی سہولیات میسر ہیں تو ضروری ڈیٹا بیسز تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح آگے چلتے جائیں  لائبریرین کو لائبریری میں درپیش چیلنجوں کی ایک طویل فہرست   سامنے آجاتی ہے۔یعنی محدود وسائل کے ساتھ اسے لامحدود چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ہمارےلائبریرین  کو وہ تمام مہارتیں حاصل ہیں جن کی مدد سے وہ محدود وسائل کے ساتھ لامحدود چیلنجز کا سامنا کرسکے؟

مندرجہ بالا منظرنامے میں پاکستانی لائبریرین کی مثال میدان میں پڑے اس فٹ بال کی مانند ہے جس کا اپنا کوئی رخ نہیں ہوتابلکہ جس کی سمت کا تعین کھلاڑیوں کے پاؤں کی ٹھوکر یں طے کرتی ہیں۔ایک بے جان، ساکن و جامد فٹ بال جسے ایک کھلاڑی ٹھوکر مارتا ہے تو وہ حرکت کرتی ہوئی مشرق کی طرف چل پڑتی ہے لیکن اگلے ہی قدم پر مقابل کھلاڑی  اپنی ٹھوکر سے اس کا رخ موڑ دیتا ہے اور وہ مشرق کی بجائےمغرب یا شمال یا جنوب کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔یہی حال ہمارے لائبریرین کا بھی ہے۔ وہ بھی ٹھوکروں پر ہی ہے۔ ٹھوکریں ہی اس کی سمت کا تعین کرتی ہیں۔اس کے پاس اپنی تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے نہیں جس کا استعمال کرکے وہ اپنی سمت متعین کرسکے، یہ جان سکے کہ اس کے لئے کیا اچھا ہے کیا برا ہے، یا پھر اسے یہ اندازہ ہو کہ  کونسی سمت اس کے مستقبل کے لئے  بہتر ہوسکتی ہے۔ لائبریرین کو یہ معلوم ہی نہیں پڑتا کون سی مہارتیں اس کے لئے ضروری ہیں اور کون سی سرگرمیاں لاحاصل  اور وقت اور سرمائے کا ضیاع ہیں۔

 ایک مکتبہ فکرکا خیال ہے کہ لائبریرین اگر ایم فل کی ڈگری حاصل کر لے تو اس کی زندگی کی تمام مشکلیں حل ہوجائیں گی۔اس میں تو کچھ شک نہیں کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں  تحقیق اور شعبہ تدریس کے لئے انتہائی ضروری ہیں ، یہ ڈگریاں ایک لائبریرین کے لئے کیوں ضروری ہیں اور اوپر بیان کئے گئے چیلنجز کاسامنا کرنے اور قاری کو علمی و معلوماتی تسکین بہم پہنچانے میں کس حد تک معاون ثابت ہوتی ہیں  ، اس کا جواب تا حال  ہمیں معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

دوسرے مکتبہ فکر کے پاس کچھ سافٹ وئیر کی فہرست ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر لائبریرین کو یہ سافٹ وئیر انسٹال کرنا آجائیں اور وہ ان کو چلانا سیکھ جائیں تو ان کی کامیابی یقینی ہے۔ چنانچہ یہ لوگوں کو سافٹ وئیر سکھانے کے لئے ورکشاپوں کا انعقاد کرتے ہیں اور انہیں کچھ فیس کے عوض سافٹ وئیر سکھاتے ہیں۔ سافٹ  وئیر انسٹال کرنا آجانایقیناً  ایک خوبی ہے ۔ لیکن کیا ایک لائبریرین کا کام سافٹ وئیر انسٹال کرناہے؟آپ کو نہیں لگتا سافٹ وئیر کی انسٹالیشن جیسے معاملات ادارے کے آئی ٹی شعبہ کی ذمہ داری ہوتی ہے؟چلیں آپ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو سافٹ وئیر انسٹال کرنا آنا چاہئے تو اس کے لئے انٹرنیٹ پر درجنوں بیسیوں ٹیوٹورئیل موجود ہیں جنہیں دیکھ کرآپ کسی بھی سافٹ وئیر کو انسٹال کرنے سے لے کر اسے بہ آسانی استعمال کرنے  کے تمام مراحل تک میں مہارت حاصل کرسکتے ہیں۔

کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے، آپ جس چیز کو کُل لائبریرین شپ سمجھ رہے ہیں وہ اس کُل کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔آپ اس چھوٹے سے حصے کو سب کچھ سمجھ کر اپنا بہت سارا وقت، پیسہ اور توانائی برباد کر رہے ہیں۔ آواز سے زیادہ رفتار میں چلنے والے طیاروں کے زمانے میں آپ اونٹوں پر سواری کرنے کے شوق میں مبتلا ہیں۔آپ کے ہاتھ میں اینڈرائڈ اور انٹر نیٹ  ہے جس میں بے شمار مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع موجود ہیں لیکن آپ وہ مہارتیں پیسے دے کر کہیں اور سے سیکھنے کے متمنی ہیں۔ آپ ایک لائبریرین ، ایک انفارمیشن مینیجر ہیں جس نے اپنے صارفین کی علمی و معلوماتی تسکین کاسامان کرنا ہے لیکن آپ کو خود اصل معلومات کے ذرائع معلوم نہیں ہیں۔

حالات بہت تیزی سے آپ کی گرفت سے نکل رہے ہیں۔معلومات کی نوعیت،ماہیت اور ساخت آئے دن تیزی سے بدل رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صارف کا ان معلومات کے حوالے سے رویہ  اور رجحان بھی تبدیل ہورہا ہے۔    یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کرلیں، محض ایم فل کی ڈگری اور چند  سافٹ وئیر کی مہارتوں کی ریت میں سرچھپاکر آپ اپنے سر پر کھڑے اپنے صارف کو اپنے اوپر طنز بھری ہنسی ہنسنے سے نہیں روک سکتےکیونکہ ممکن ہے وہ آپ سے زیادہ باخبر ہو۔اس پر سوچئے گا!

خوش رہیں اور دوسروں کے لئے خوشیوں کا سبب بنیں۔انشاءاللہ اگلے شمارے میں ملاقات ہوگی۔

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.