سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد5، شمارہ3

ایک اندازے کے مطابق زمین نام کے اس نیلے سیارے پر ساڑھے اسی لاکھ  سے زائد انواع کی جاندار مخلوقات پائی جاتی ہیں  جن میں سے ایک مخلوق کا نام انسان ہے۔ ایک انسان کا زمین پر وجود ایسا ہی ہے جیسے بے کنار پھیلے صحرا میں لاتعداد ریت کے ذروں میں سے ایک حقیر سا  ریت کا ذرہ۔پھر یہ زمین سورج کے جس خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس میں اس کی حیثیت ایک ننھے منھے بچے کی سی ہے۔ اس خاندان کا سربراہ سورج اتنا بڑا ہے کہ اس میں ہماری زمین جیسی تیرہ لاکھ زمینیں سماجائیں۔سورج کے خاندان میں کل آٹھ سیارے ہیں۔ سورج سےدور ترین سیارہ نیپچون ہے  جو چار ارب تریپن  کروڑ اڑسٹھ  لاکھ ستر ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اگر کوئی جسم دولاکھ ننانوے ہزار سات سو بانوے کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سورج سے روانہ ہو تو نیپچون تک پہنچتے پہنچتے اسے چار گھنٹے بارہ منٹ لگ جائیں گے۔اس سے  سورج کے خاندان کی وسعت کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے   جبکہ اس فاصلے کو ہم کائناتی سفر کی طرف ایک ہلکا سا قدم بھی نہیں کہہ سکتے۔ہمارا سورج اور اس کے گرد گھومتے سیارے جس کہکشاں میں واقع ہیں اس کا نام ”ملکی وے“ ہے۔  رات کے وقت کھلے آسمان کی طرف دیکھیں تو ہمیں جتنے بھی ستارے نظر آتے ہیں یہ ملکی وے کا تھوڑا سا حصہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہماری کہکشاں میں 400 ارب ستارے   ہیں۔ ان میں سے ہر ستارہ  ہمارے سورج سے کروڑوں گنا بڑا ہے۔ روشنی کی رفتار سے اگر کوئی ملکی وے میں سفر کرنا چاہے تو اسے اس کہکشاں سے نکلنے میں ایک لاکھ سال لگ جائیں گے۔ ملکی وے سے نکلیں تو قریب ترین دوسری کہکشاں ”اینڈرومیڈا“ ہے ۔ ہماری زمین سے روشنی کی رفتار سے سفر اختیار کریں تو  اینڈرومیڈا تک پہنچنے میں لگ بھگ پچیس لاکھ سال درکار ہوں گے۔ہماری ملکی وے اور اینڈرومیڈا جیسی بے شمار کہکشائیں مل کر ایک گیلکٹک گروپ (Galactic Group)بناتی ہیں۔ اس گروپ میں ہماری کروڑوں سورج رکھنے والی کہکشاں کی حیثیت ایک ذرے سے زیادہ نہیں ہے۔اس سے آگے جائیں تو لاتعداد گیلکٹک گروپ مل کر ایک سوپر کلسٹر بناتے ہیں سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ  کائنات ایک کروڑ سوپر کلسٹرز  سے مل کر بنی ہے۔

یہ اس کائنات کی انتہائی مدھم سی ایک تصویر ہے جس سے اس کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔سائنسدان کہتے ہیں کہ اس طرح کی اور کائناتیں بھی موجود ہیں۔ اب سوچیں کہ اس کائنات کا خالق کس عظمت اور شان کا مالک ہے۔وہ رات کی تاریکی میں کسی سیاہ چٹان پر رینگنے والے ننھے سے کیڑے ، نظر نہ آنے والے ایک بیکٹیریا اور وائرس کی حرکت  تک سے واقف ہے۔ کائنات کی وسعتوں میں گم کھربوں کہکشاؤں کا انتظام اسی کے پاس ہے۔اس نے صفر سے کائنات تخلیق کی اور جب چاہے گا ایک طومار کی طرح لپیٹ کر اسے دوبار صفر کر دے گا۔

اب ایک لمحے کے لئے اس کائنات کا مقابلہ زمین پر بسنے والے انسان کے ساتھ کریں ۔5/6 فٹ کا ننھا منا سا یہ انسان کائنات تخلیق کرنے والے کا انوکھا لاڈلا ہے۔ یہ کائنات کا راج دلارا اور دولہا ہے۔قرآن میں ارشادِباری تعالیٰ ہے کہ:  أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ  (سورہ لقمان ، آیت 20)یعنی ”کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے مسخر کردیا ہے۔“ دوسری جگہ پر ارشاد فرمایا         :: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا(سورہ الجاثیہ، آیت 13) ”آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے سب کچھ تمہارے لئے  اس نےمسخر کر دیا ہے۔“

مذہب کہتا ہے کہ انسان ایک کائناتی باشندہ ہے جسے زمین پر کچھ دیر کے لئے عارضی طور پر بسایا گیا ہے۔ وہ ایک طویل  روحانی زندگی  گزار کر اس دنیا میں آیا ہے۔ کچھ سال یہاں گزارنے کے بعد اسے کسی اور دنیا میں اربوں کھربوں سالوں کی مسافت پر بھیج دیا جائے گا۔

مذہب تو خیر کہتا ہی ہے لیکن اب کچھ عرصے سے سائنسدان بھی یہ کہتے آرہے ہیں کہ انسان اس زمین کا باشندہ نہیں ہے وہ کسی اور دنیا کی مخلوق ہے۔

سائنسدان کہتے ہیں کہ انسانی وجود کا خمیر جن اجزاء سے گوندھا گیا وہ اس زمین پر موجود نہیں تھے۔اس کے لئے نجانے کتنے ستاروں کی قربانی دی گئی اور پھر ان ستاروں کے اجزا کو زمین پر اتارا گیا تاکہ انسانِ اول کا ہیولیٰ تیار کیا جاسکے۔شاید کارل ساگان وہ پہلا ماہر فلکیات تھا جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انسان کا وجود ستاروں کی دھول(Star Dust)ے ملکر بنا ہے۔1980ء کی دہائی کے آغاز میں امریکی نشریاتی ادارے پبلک براڈ کاسٹنگ سروسPBS))نے ٹیلی ویژن پرکازموسCosmos))کے نام سے تیرہ اقساط پر مبنی ایک پروگرام نشر کیا جس کی میزبانی کارل ساگان نے کی تھی۔ان پروگراموں میں ساگان نے بڑی وضاحت کے ساتھ کرہ ارض کی تاریخ،ارتقاء، زندگی کی ابتدا اور نظام شمسی پر روشنی ڈالی تھی۔اس نے کہا تھا:

“We are a way for the universe to know itself. Some part of our being knows this is where we came from………. because the cosmos is also within us. We’re made of star stuff”

“ہم خود کائنات کو جاننے کا ایک ذریعہ ہیں۔ہمارے وجود کے کچھ اجزاء جانتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ کائنات ہمارے اندر ہے۔ ہم ستاروں کے اجزاء سے وجود میں آئے ہیں۔”

انسانی جسم چھ کیمیائی عناصرآکسیجن ، کاربن، ہائیڈروجن،نائٹروجن،کیلشئم اور فاسفورس سے مل کر بنا ہے۔ ساگان کے مطابق یہ عناصر 4.5ارب سال پہلے ستاروں کی پچھلی نسل کے دور میں تخلیق ہوئے تھے۔یونیورسٹی آف ایری زونا کے فلکیات کے پروفیسر کرس امپیChris Impeyکہتے ہیں:

“All organic matter containing carbon was produced originally in stars”

“تمام نامیاتی مواد بشمول کاربن ابتدائی طور پر ستاروں میں پیدا کیاگیا تھا۔”وہ آگے چل کر کہتے ہیں:

“The universe was originally hydrogen and helium, the carbon was made subsequently, over billions of years.”

“یہ کائنات اصلاً ہائیڈروجن اور ہیلئیم پر مشتمل تھی، کاربن تواربوں سال بعد وجود میں لائی گئی۔”

ایک انگریزی شاعر کہتا ہے:

Got to get back to the land, set my soul free.
We are stardust, we are golden, we are billion year old carbon,

And we got to get ourselves back to the garden.

کیا ہمیں اپنی اس کائناتی حیثیت کا ذرا سا بھی ادراک ہے؟

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.