سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد5، شمارہ1

شہرہ آفاق امریکی فلسفی اور مضمون نگار ایمرسن یاد آرہا ہے۔ سکول کے زمانے میں اس کے مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔اس نے اپنے مضامین میں کہیں لکھا تھا کہ جو لوگ اپنے قول اور فعل کے درمیان تضاد کو کم یا ختم کر لیتے ہیں وہ اپنے ماحول اور ارد گرد لوگوں میں بہت احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ قول و فعل کے درمیان فرق جس قدر کم ہوتا چلا جاتاہے احترام کی سطح اسی لحاظ سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے اندر قول و فعل کے فرق کو بالکل ختم کر لے  تو اسے فرشتوں کا سا تقدس حاصل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ اس کے جوتوں کو اپنے سر پر رکھنا عین سعادت سمجھتے ہیں۔ایمرسن اس حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال دیتا ہے کہ آپ کےقول و فعل میں تضاد  بالکل بھی نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ آپ ؑآنے والے تمام زمانوں کے لئے محترم ہوگئے۔

قول و فعل میں ہم آہنگی اسلامی اقدار کا ایک اہم جزو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بہت سے مواقع پر بڑی صراحت کے ساتھ قول و فعل میں تضاد رکھنے سے منع کیاہے۔چنانچہ سورہ الصف کی آیات 2 اور 3 میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ

اے ایمان والو! کیو ں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔

 كَبُـرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّـٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ

. اللہ کے نزدیک بڑی نا پسند بات ہے جو کہو اس کو کرو نہیں

درحقیقت یہ ایک بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کی نظر سے اپنی خامیاں اوجھل ہوجاتی ہیں اور دوسروں کی ذات کے تنکے بھی شہتیر لگنے لگتے ہیں۔ اگر یہ بیماری اجتماعی سطح پر بڑھ جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ خوفناک ہوجاتے ہیں۔اس کا ادنیٰ سا مظاہرہ ہر سال ”کتاب کے عالمی دن“ پر دیکھنے کو ملتا ہے جب کتاب کی عزت و حرمت پر بڑی بڑی تقریریں کی جاتی اور مطالعے پر دل سوز لیکچرز دئیے جاتے ہیں۔اگر کتاب اور مطالعے کے ان خطیبوں سے ذرا پوچھ لیا جائے کہ صاحب گذشتہ ایک ماہ میں نہیں پورے ایک سال میں خود آپ نے کتنی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو ان خطیبوں کی اکثریت کا جواب نفی میں ہوگا۔

ہم کتابداروں کا ایک ”مشترکہ شکوہ“ یہ ہے کہ لوگوں کی نظر میں کتاب اور کتب خانے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ تو کیا خود ہمیں کتاب اور کتب خانے کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہے؟ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ ہم نے کتب خانوں کو اہمیت دینے کے بجائے ہمیشہ اپنے کیرئیر اور اپنے مستقبل کو اہمیت دی ہے۔ ہماری پروفیشنل تنظیمیں اور ہم سب اپنے اپنے ”کیرئیر“ کے چکر میں ہیں۔ ہماری توجہ اور ارتکاز کا مرکز یا تو ”استاد“ بننا ہے یا پھر بڑے شہر کی کسی اچھی یونیورسٹی کی بڑی لائبریری میں ملازمت کا حصول کیونکہ یہی وہ دو جگہیں ہیں جہاں سے اچھی تنخواہ اور تھوڑی سی ”عزت“ ملنے کی توقع ہے۔پروفیشن، پروفیشنلزم، کتاب اور لائبریری کہیں نہیں ہے۔ اگر کتب خانوں اور پروفیشن کی فکر ہوتی تو  کتب خانے تو عوامی بھی ہوتے ہیں، کالجوں اور سکولوں میں بھی لائبریریاں ہوتی ہیں اور تو اور سپیشل کتب خانے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی ان کی طرف دیکھنے کو تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے یہ لاتعداد بے آسرا اور ”یتیم“ادارے ایسے کتابداروں کے منتظر ہیں جن کے پاس خلوص کی جمع پونجی ہو  اور جن کے دل میں اس پیشے کے لئے واقعی درد بھی ہو۔

تو آئیے دیکھتے ہیں اب کی بار ”کتاب کے عالمی دن“ پر کیا دیکھنے کو ملتا ہے؟

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.