سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد4، شمارہ4

تمام تر حمد وثناء   اس ہستی کے لئے جو کہ عالمین کا بلا شرکت ِ غیرے اورتنہا رب ہے۔تمام ترکبریائی اسی کو سزاوار ہے۔ اسی کی دی ہوئی توفیق سے سال 2017ء کا چوتھا اور اجراء سے اب تک کامجموعی طور پر پندرھواں شمارہ آپ کے سامنے ہے۔یہ تمام شمارے بغیر کسی وقفے کے مقررہ وقت پر قارئین کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں۔ موجودہ شمارے کو دسمبر 2017ء کی پہلی تاریخ کو آن لائن ہوجانا تھا لیکن کسی مہربان کے ”حسن ِ ظن“ نے کچھ دیر رک جانے پر مجبور کر دیا۔ان کے ارشادِ عالیشان کے مطابق ہمارے بھی کوئی ذاتی مفادات(Vested Interests)ہیں۔شروع میں تو یہ بات بڑی تلخ لگی ۔سوچا اس کا جواب انہی کی زبان میں وہیں پر دینا چاہئے لیکن توقف کیا اور ساتھ میں خیال آیا ممکن ہے وہ بجا فرما رہے ہوں۔ چنانچہ کم از کم ایک ماہ تک صدائے لائبریرین کی تمام سرگرمیوں سے الگ ہوکر راقم الحروف خود احتسابی کے عمل سے گزرتا رہا کہ کہیں پر کوئی ذرا سا بھی ذاتی مفاد اس رسالے کی آڑ میں پوشیدہ ہے توپھر اسے فوراً بند کردیا جائے۔گذشتہ تمام شماروں اور صدائے لائبریرین کی دیگر تمام سرگرمیوں پر انتہائی گہری نظر ڈالنے کے بعد آج دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ  الحمد للہ ثم الحمد للہ  صدائے لائبریرین کے اجراء کے پیش ِنظر نہ پہلے دن کوئی ذاتی مفاد تھا نہ اب ہے اور نہ انشاء اللہ کبھی ہوگا۔اس تمام عرصے میں صدائے لائبریرین کو بنیاد بنا کر نہ کسی سے مراعات مانگیں ، نہ ملازمتیں اور نہ ہی چندہ۔ بلکہ راقم نے تو آج تک کسی اجنبی کو یہ کہہ کر اپناتعارف بھی نہیں کروایا کہ میں صدائے لائبریرین کا چیف ایڈیٹر ہوں ۔ اداریے پر آج تک اپنا نام تک نہیں لکھا اور نہ ہی اپنی تصویر لگائی۔ صدائے لائبریرین کے بیشمار قارئین اور مداحین  کو یہ تک معلوم نہیں کہ اس کا چیف ایڈیٹر کون ہے کیونکہ دکھاوا کبھی مقصد تھا ہی نہیں۔ اس سب کے علاوہ پھر کون سے ذاتی مفادات ہوسکتے ہیں جن کا طعنہ دیا جاتا ہے؟لیکن ہم مطمئن ہیں کہ کل بارگاہِ رب العالمین میں خلوص کی یہ پونجی ایک عملِ صالح کے طور پر پیش کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ باقی  کسی کے شور ڈالنے سے خلوص کے کارواں رکتے نہیں ہیں ۔

صدائے لائبریرین پاکستان میں لائبریرین شپ کے مسائل کو اجاگر کرنے اور قومی زبان میں پیشہ کے متعلق مواد مہیا کرنے کے لئے جاری کیا گیا تھا۔ اب کوئی اسے کس نظر سے دیکھ رہا ہے یہ تو اس کا اپنا زاویہ نظر ہے سو وہ  شوق سےدیکھتا رہے ۔

صدائے لائبریرین کے معزز لکھاریوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدا کے لئے موضوعات اور مسائل پر لکھیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ان چیزوں پر بات کرنے سے کتراتے ہیں جن کے ساتھ پیشے کی بقا وابستہ ہے۔کتنے دکھ کی بات ہے کہ ہماری اکلوتی ایسوسی ایشن کی ”لاوارث لاش“ دھوپ میں پڑی سڑ رہی ہے اور کسی کو اس کی پرواہ ہی نہیں۔ کیا کوئی ہوشمند یہ گمان کر سکتا ہے کہ پی ایل اے کے بغیر کسی فورم پر لائبریرین کے مسائل کی نمائندگی ہوسکتی ہے؟اگر نہیں ہوسکتی تو ایسوسی ایشن کے قتل ِ عام پر مجرمانہ خاموشی کس لئے؟اس پروفیشن کے ایک ایک فرد کو معلوم ہے کہ ایسوسی ایشن   اپنے احیاء کے بعدکن ہاتھوں میں رہی اور اس کی زبوں حالی کے ساتھ کس کس کا مفاد وابستہ تھا؟لیکن کوئی ان مقدسین کی نشاندہی کرنے کے لئے تیار نہیں۔کوئی ان سے پوچھنے کو تیار نہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟زبانوں پر یا تو ”تالے“ پڑے ہیں یا پھر”چھالے“ ۔پورے پروفیشن میں کوئی ایک فرد بھی اس پر بات کرنے کو تیار نہیں۔الیس منکم رجل رشید(القرآن)

ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ بادشاہی  اور سلطنت صرف خدا کی ہے۔ ہمیں  ملا ہوا اختیار لمحاتی اور ایک بڑی آزمائش ہے جس کے لئے ہم سے باز پرس کی جانی ہے۔لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس ملے ہوئے لمحاتی اختیار کے بوجھ سے بجائے اس کے کہ ہماری کمریں دہری ہوجائیں اور ہمارے اندر عاجزی و انکساری آجائے، ہماری گردنوں میں تکبر کا سریا گڑجاتا  اور لہجے میں فرعونیت در آتی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس مخلوق کی خدمت گزاری کے لئے ہمیں  ذمہ داری ملی تھی وہ مخلوق خدا کا کنبہ ہے اور اللہ اپنے کنبے سے ذرا بھی غافل نہیں ہوتا۔ وہ اپنے کنبے کے ایک ایک مجبور فرد کو حوصلہ دیتا ہے:

وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُـهُـمْ ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّـٰهِ جَـمِيْعًا ۚ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ ۔

اَلَآ اِنَّ لِلّـٰهِ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ

”اور ان کی بات کاغم نہ کرو، ساری کی ساری عزت تو صرف اللہ کے لئے ہی ہے ، وہ سب کچھ سن بھی رہا ہے اور جانتا بھی ہے۔ خبردار، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہی ہے۔“(سورہ یونس: 65، 66)

کاش کوئی ہمیں سمجھا دے جس بات پرآج  ہم  بغلیں بجا رہے ہیں کل کو یہی بات ہمارے  لئے مصیبت بننے والی ہے۔شاعر نے کہا تھا:

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.