سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد4، شمارہ1

وہ تمام اقوام جنہیں دنیا ترقی یافتہ اور مہذب مانتی ہے، ان کی اس ترقی کے پیچھے بلاشبہ کتاب اور کتب خانوں کا ہاتھ ہے، اور جنہوں نے کتاب اور کتب خانوں کو اہمیت دی، اس میں کیا شک ہے کہ انہوں نے کتابدار کو بھی ویسی ہی اہمیت دی ہوگی۔

ترقی یافتہ اور مہذب قومیں کتابدار کو اساتذہ کا بھی استاد قرار دیتی ہیں اور اسے بجا طور پراپنا محسن  تسلیم  کرتی ہیں کیونکہ ان کی تمام تر تہذیب اور ترقی کی بنیاد علم اور اطلاعات پر کھڑی ہے  جبکہ علم اور اطلاعات کے ڈانڈے کتب خانوں اور کتابدار سے جاکر ملتے ہیں۔اس کے برعکس اگر ہم اپنے یہاں کا چلن دیکھیں تو ہم پر  یہ شعر صادق آتا ہے:

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں  جنہیں تصویر بنا آتی ہے

کہتے ہیں جس کی گھر میں عزت نہیں اس کی کہیں عزت نہیں ۔

پاکستانی کتابدار پر جب بھی کوئی افتاد پڑتی ہے تو وہ ایک ’عاشق ِ زار‘کی طرح دو مراکز کی طرف دیکھتا ہے۔ اس کی امیدوں کے یہ دومراکز لائبریری سکولز اور پاکستان لائبریری ایسوسی ایشن ہیں۔ستم یہ ہے کہ ایسے میں ان دونوں کا طرز ِ عمل بےوفا محبوب سے کم نہیں ہوتا۔۔۔۔اوروہ محبوب ہی کیا جو تغافل نہ برتے۔ چنانچہ ان دونوں محبوبو﷽ں کے تغافلانہ انداز کی بدولت بیچارے کتابدار کی آرزوؤیں آئے دن خاک میں ملتی رہتی ہیں۔

پاکستان لائبریری ایسوسی ایشن کی مثال تو دمے کے اس بگڑے مریض جیسی ہے جس کی چند قدم چلنے کے بعد سانس اکھڑ جاتی ہے اور پھر اسے کہیں لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔اس کی تمام تر سرگرمیوں کا حاصل دو سال بعد ایک کانفرنس ہوتی ہے۔جس کے نتیجے میں دودھ اور شہد کی نہریں جاری ہوجاتی ہیں۔ ہمارے کتابدار خوشحالی کے سنہرے دنوں میں اپنے تمام گذشتہ اور آئندہ کے غم اور مسائل بھول جاتے ہیں۔لیکن اس تگ و دو  میں ہماری ایسوسی ایشن اتنی ’نڈھال‘ ہو جاتی ہے کہ آگے اپنی پوری میعاد کے لئے وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتی۔

رہے لائبریری سکولز تو ان کے کیا کہنے۔اگر کتابدار دنیا بھر کے اساتذہ کے استاد ہیں تو یہ تو ان کے بھی استاد ہیں۔لہٰذا ان سے کیسا شکوہ۔۔۔۔!!!

تو میرے پیارے کتابدارو! آپ کی تمام ترامیدوں کے یہ مراکز جس ’جانفشانی‘ کے ساتھ آپ کی خوشحالی اور فلاح کے لئے دن رات سرگرداں  و پریشان حال ہیں اس پر  ان کی بلائیں لینے کوجی چاہتا ہے۔ انہیں کچھ کہو تو یہ بہت ’برا‘ مان جاتے ہیں۔ لیکن آپ دل چھوٹا نہ کریں۔ یہ سوچ کر خوش ہوجایا کریں کہ وہ بہت کچھ ہو کر بھی آپ کے لئے کچھ نہیں  کرپاتے اور آپ کچھ نہ ہو کر بھی ان کے لئے بہت کچھ کررہے ہیں۔ یقین کریں آپ کے سلگتے مسائل سے ہی ان کی لیڈری  کی دکانیں آباد ہیں۔آپ کے مسائل حل ہو جائیں تو ان کی دال روٹی بھی نہ چلے؟

ڈاکٹر کلیم عاجز کے یہ اشعار کس قدر حسب ِ حال ہیں:

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو، دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
ہم کو جو ملا ہے وہ تمھیں سے تو ملا ہے
ہم اور بھُلا دیں تمھیں، کیا بات کرو ہو
یوں تو ہمیں منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کروہو کہ کرامات کرو   ہو

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.