سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد4، شمارہ3

کافی عرصے کے بعد پی ایل اے ہیڈ کوارٹر کی قیادت  ایک سنجیدہ اور معاملہ فہم شخصیت کے ہاتھ میں آئی ہے۔ رسم تو یہی ہے کہ انہیں مبارکباد دی جائے لیکن بےشمار چیلنجز اور بھاری ذمہ داریوں کا کانٹوں بھرا تاج سر پر سجالینا مبارکباد کا نہیں دعاؤں کا متقاضی ہے۔اس لئے ہم ڈاکٹر سعیداللہ جان اور ان کی ٹیم کے لئے دعاگو ہیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

ہم ڈاکٹر صاحب کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ دم توڑتی ایسوسی ایشن کو بچانے کے لئے آپ کو جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پروفیشنلز کا اعتماد اس پر بحال ہوسکے اور یہ صحیح معنوں میں کتابداروں کی نمائیندہ تنظیم بن سکے۔ہم سرِدست کچھ تجاویز آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں جن پر عمل کر کے  ایسوسی ایشن کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا جا سکتا ہے:

* فوری طور پر پی ایل اے کی ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کریں۔ویب سائٹ پر پی ایل اے کی سرگرمیوں اور پروفیشن کے حوالے سے دیگر خبروں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ایسوسی ایشن کے حوالے سے کوئی بھی خبر یا اطلاع سب سے پہلے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائے اور اس کا لنک اگر ضروری ہو تو یاہو گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کیا جائے ۔پی ایل کے نوٹیفیکشنز کا براہ راست یاہو گروپس اور سوشل میڈیا پر جانا انتہائی غیر مناسب اور غیر پیشہ وارانہ عمل ہے۔پی ایل اے ہیڈ کوارٹر اور صوبائی تنظیموں کے عہدے داران کے نام اور رابطہ نمبر بھی ویب سائٹ پر ہونے چاہئیں تاکہ بوقت ِ ضرورت ان تک رسائی ممکن ہوسکے۔ویب سائٹ پر ایسوسی ایشن کے تمام ممبران کی تازہ فہرستیں بھی آویزاں کی جائیں۔

* ایسوسی ایشن کا نیوز لیٹر فوری طور پر بحال کیا جائے اور اس کی آن لائن کاپی ویب سائٹ پر رکھی جائے۔

* پی ایل اے تھوڑا بہت جو کام کر رہی ہے اس کا محور و مرکز اکیڈمک پروفیشنلز ہیں جو کہ پی ایل اے کے اپنے مقاصد کے ساتھ روگردانی ہے۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ایسوسی ایشن کو اس کے راستے پر لائیں اور اسے کتابداروں کی تنظیم بنائیں۔

* لائبریریوں اور لائبریری سکولوں کے درمیان  کچھ فاصلہ سا محسوس ہوتا ہے۔ اس فاصلے کی وجہ سے پروفیشن کو بہت نقصان ہورہا ہے۔لائبریری سکولوں سے فارغ التحصیل ہونے والے اگر لائبریریوں کی ضرورتوں سے ہی ناآشنا ہوں گے تو لائبریریاں آگے کیسے بڑھیں گی؟ہماری بیشتر لائبریریاں بنیادی انفرا سٹرکچر  سے ہی محروم ہیں جبکہ لائبریری سکولوں میں چاند ستاروں اور مریخ کی باتیں پڑھائی جاتی ہیں۔ڈیجیٹل لائبریری اور کلاؤڈز کے سبق ازبر کرکے ہمارا لائبریرین کمپیوٹر سے بھی محروم ماحول میں پہنچتا ہے تو اس کادماغ ٹھکانے آجاتا ہے۔ایسے میں لائبریریوں اور لائبریری سکولوں کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورتوں اور مشکلات سے آگاہ ہوں ۔ اس مکالمے کے نتیجے میں سلیبس کو بہتر بنانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔

* لائبریرین کے کیڈر کا مسئلہ سوہانِ روح بنتا جارہا ہے۔ اس پر آپ کے پیش روؤں نے باتیں تو بہت کیں لیکن کام صفر۔آپ کو صوبائی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے پروفیشنلز میں بے یقینی اور مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

 کوشش کریں کہ سولو فلائٹ لینے کے بجائے پی ایل اے کی تمام تنظیمیں ساتھ مل کر کام کر سکیں۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے کرنے کے کام ہیں لیکن آپ اپنی مدت میں درج بالا اہداف ہی حاصل کر لیں تو آپ نہ صرف مبارکباد کے مستحق ہوں گے بلکہ آنے والے ہر پروفیشنل کی دعاؤں کے بھی حقدار بن جائیں گے۔

ہم مشورہ دیں گے کہ لائبریرین کے لئے کانفرنس جیسے غیر ضروری پروگراموں پر وقت اور توانائی صرف کرنے کے بجائے آپ درج بالا اہداف کو حاصل کرنے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھیں تو اس سے پروفیشن کا بھلا ہوگا اور آپ کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہوگا۔ کانفرنس جیسے پروگراموں سے آپ وقتی تعریفیں تو سمیٹ لیں گے لیکن پی ایل اے کی تاریخ میں آپ بھی انہی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے جنہوں نے صرف وقتی شہرت اور پریس میں اپنی ایک عدد تصویر اور خبر کی خاطر لائبریرین شپ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا اور تاریخ کے کوڑے دان کا رزق بن گئے۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ دو سال بعد آپ کہاں کھڑا ہونا پسند کریں گے؟

ہماری دعا ہے کہ  آپ پی ایل اے کو اپنے ذاتی مفاد کے بجائے پروفیشنلز کے مفاد کا امین بنا سکیں۔آمین

خوش رہیں اور  خوشیاں بانٹیں۔

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.