سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد4، شمارہ2

صدائے لائبریرین کا پہلا شمارہ رمضان کی مبارک ساعتوں میں جاری ہوا تھا، ابھی بھی ہم رمضان المبارک کے پہلے عشرے سے گزر رہے ہیں۔بظاہر لگتا یہی ہے کہ وقت کی گردش نے ہمیں وہیں لاکر کھڑا کر دیا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ تب سے لے کر اب تک چار برس گزر چکے ہیں۔ان چار برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اس دن رمضان کا پہلا روزہ تھا۔ سہ ماہی صدائے لائبریرین کا پہلا شمارہ آن لائن کرتے ہوئے دل میں اس کی کامیابی کے لئے بہت سی دعائیں تھیں۔ اس کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بھی تھے۔لوگوں کا رد عمل کیا ہوگا ؟وہ ایک نووارد رسالے کو کس انداز میں لیں گے؟تحریریں ملیں گی بھی کہ نہیں ؟ یہ چل سکے گا کہ نہیں؟ اور اس طرح کے بیسیوں سوالات خدشات کی صورت میں بھنبھنا رہے تھے۔

اس وقت صدائے لائبریرین چار برس کا ہو چکا ہے یعنی اپنے آغاز سے چار برس آگے کی مسافت پر جا چکا ہے۔ صدائے لائبریرین نے یہ مسافت اس لئے چنی تاکہ اردو زبان میں کتب خانوی شعبے میں مواد مہیا کیا جا سکے۔ اس لئے بھی کہ یہ شعبہ جن گوناگوں مسائل سے دوچار ہے ان کی نشاندہی کی جا سکے اورساتھ میں  ان کا حل ڈھونڈاجا سکے۔اس مقصد کے لئے سہ ماہی میگزین کے ساتھ ساتھ ایک ویب سائٹ کا اجراء کیا گیا جس پر پیشے سے متعلق انتہائی قیمتی معلومات مہیا کی گئیں۔پہلی دفعہ کتابداروں اور کتب خانوں کو کتابیں اور دیگر سامان مہیا کرنے والوں Vendors & Suppliers کی  آن لائن ڈائریکٹریاں تیار کی گئیں۔پاکستان بھر میں ملازمتوں کے اشتہارات کو پہلی دفعہ ایک منظم انداز میں ویب سائٹ پر ڈالا گیا  تاکہ ملازمت ڈھونڈنے والوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ان تک رسائی حاصل ہو۔

سہ ماہی صدائے لائبریرین کے مسلسل 15شماروں کا اجراء اور بے شمار معلومات،جو sel.org.pkپر بالکل مفت میں دستیاب ہیں،کی دستیابی کوئی آسان کام نہ تھا۔صدائے لائبریرین نے یہ سب کچھ اپنے بل بوتے پر کیا۔ کسی سے چندہ نہیں مانگا، کسی سے رجسٹریشن فیس نہیں لی، کسی کی خوشامد نہیں کی بلکہ اپنی جیب سے پیسے لگائے، اپنی صلاحیتوں اور وقت کو قربان کیا اور بدلے میں فیض احمد فیض کے ان اشعار کی عملی تفسیر بن گیا۔

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پسِ زنداں، کبھی رسوا سرِ بازار
گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہء منبر
کڑکے ہیں بہت اہلِ حکم برسرِ دربار
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
چھوٹی نہیں  اپنوں سے کوئی  طرز ِ  ملامت

کسی کے ساتھ کوئی شراکت داری نہیں تھی، کوئی سانجھ نہیں تھی، کسی کا حق نہیں مارا تھا پھر بھی لوگ اپنے اپنے نیزے، کلہاڑیاں، بھالے اور تلواریں لے کر صدائے لائبریرین پر حملہ آور ہوئے۔جس جس طرح سے روڑے اٹکائے جا سکتے تھے اٹکائے گئے، ٹیم کے جن ممبران پر دباؤ ڈالا جاسکتا تھا ان پر دباؤ ڈالا گیا اور ٹیم چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، کسی کو ملازمت کا لالچ دے کر بہلایا گیا، کسی کی پروموشن رکوائی گئی اور کچھ نہ بن پڑا تو صدائے لائبریرین کے چیف ایڈیٹرپر ”نوازشات“کی بارش برسائی گئی۔ لوگوں کو فون کر کر کے دور رہنے کا کہا گیا  ،کردارپر کیچڑ اچھالا گیا۔ جب اس سے بھی کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا توحسبِ توفیق دھمکیاں بھی دی  گئیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نیک کام میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن کے ساتھ نہ کبھی ملاقات ہوئی اور نہ فون پر بات۔کوئی جان پہچان نہ تھی بس خدا واسطے کا ایک بیر تھا جو انہوں نے انتہائی  خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا۔خبطِ عظمت میں مبتلا  نرگسیت کے شکار ان لوگوں کے لئے  توبس ہدایت کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

یہ سب کچھ بتانے کا مقصد نہ تو کسی قسم کے خوف کا اظہارکرنا ہے  اور نہ ہی کسی کی ہمدردی سمیٹنا ۔متکبرین کی اس جماعت پر تو بس ترس آتا ہے۔اپنی نظر میں بہت بڑے، مخلوق کی نظر میں بہت چھوٹےاوراللہ اور رسول ﷺ کی نظر میں رینگنے والےکیڑے مکوڑے۔

بس اتنا بتانا تھا کہ صدائے لائبریرین چار برس کا ہوگیا ہے۔پہلے سے زیادہ مستحکم، پہلے سے زیادہ خوبصورت اور پہلے سے زیادہ باوقار۔

الحمد للہ رب العالمین

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.