سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد3، شمارہ4

جس طرح قحط کے زمانے میں زمین روئیدگی سے محروم ہو جاتی ہے۔ وہ رزق کے بجائے بھوک کو جنم دیتی ہے۔آسمان کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں۔دھول اڑتی ہے  اور بستیاں ویرانوں میں بدل جاتی ہیں اسی طرح قحط الرجال میں علم ، دانش اور اخلاقیات کا افلاس پڑتا ہے۔ انسانیت مر جاتی ہے اور انسانوں کی بستیوں میں بونوں کا راج ہوتاہے۔ قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی کوڑیوں کے مول بکتی ہے۔

ہمارے ہاں بھی قحط الرجال کا دور دورہ ہے۔انسانیت سے عاری انسانوں کا ایک جم غفیر ہے جس کی حیثیت زمین پررینگتے ہوئے سایوں کے ایک سمندر سے زیادہ نہیں۔ کہنے کومعلومات کا ایک سیلاب امڈا ہوا ہے لیکن سینےعلم سے یکسرخالی۔جن کو دماغی امراض کے معالجوں کے پاس اور پاگل خانوں میں ہونا چاہئے تھا وہ اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں۔ ان کے گرد مالشئیوں اور چاپلوسوں کا حلقہ ہے اور شرفاء کا حلقہء زیست ان سے تنگ ہو تا جارہا ہے۔

ایسے میں کیا خود کو حالات کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دیا جائے اور جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق خود کو بونوں کے رنگ میں رنگ لیا جائے؟

قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص ‏من لاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين  [البقرة:155]یعنی“ہم تمہیں لازماً کچھ بھوک دے کر، مال جان اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے آزمائیں گےتو اے نبی، صبر

کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔ ” اور یہ کہ  ام حسبتم ان تدخلوا الجنة و لما ياتكم مثل الذين خلوا من قبلكم مسّتہم الباساء و الضراء  و زلزلوا حتى يقول الرسول والذين امنوا معہ متى نصر الله  [البقرة:214]“کیا تم نے گمان کر لیا کہ یونہی جنت میں داخل کر دئیے جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تم سے پہلے والے لوگوں پر گزرےتھے۔جب انہیں سختی اور تکلیف نے چھوا اور وہ جھنجھوڑڈالے گئے تووہ مومنین اور وقت کے رسول پکار اٹھےاللہ کی نصرت کب آئے گی؟ ”

بھلابونوں سے بھلائی کی کیا امید؟ مگر وہ سعید روحیں جنہیں راستی پر ہی چلنے کے لئے بھیجا گیا ہو کیا وہ ان کے ہتھکنڈوں سے مایوس ہو کر گھر بیٹھ جائیں؟نہیں ہر گز نہیں۔ شاعر نے کہا تھا:

تُو خاک میں مِل اور آگ میں جل، جب خِشت بنے تب کام چلے

ان خام دلوں  کے عنصرپر  بنیا د  نہ رکھ تعمیر نہ  کر

اور یہ کہ:

تندیءِ بادِ مخالف سے گھبرا نہ اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے   کے لئے

بونوں سے کیسا شکوہ؟ وہ بیچارے تو اپنی سرشت سے مجبور ہوتے ہیں۔  بچھو ڈنک نہ مارے تو کیا کرے؟لیکن آپ کو کیا ہوا؟ آپ تو سچائی کے علمبردار ہیں نا۔ کیا آپ اپنے سچ سے اتنا بھی پیار نہیں کرتے جتنا وہ اپنے جھوٹ سے کرتے ہیں؟

سچ کوآج تک کسی جھوٹے کے جھوٹ سے آنچ نہیں آئی لیکن وہ جو سچائی کے امین ہوتے ہیں وہی اگر کمزور پڑ جائیں تو۔۔۔۔۔؟؟؟

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.