سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد2، شمارہ3

لائبریری سائنس سے وابستہ اکثر افراد کو یہ شکوہ ہے کہ لائبریرین کی معاشرے میں کہیں عزت نہیں ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ اگر ان شکوہ کرنے والے خواتین و حضرات سے یہ پوچھ لیا جائے کہ جی خود آپ کے دل میں اس پیشے کی کتنی قدر  و  منزلت  ہے تو بدقسمتی سے ان کے پاس آئیں بائیں شائیں کرنے کے علاوہ کوئی جواب نہیں بن پڑے گا۔یہ لوگ جب دوسروں کو اپنا تعارف کرواتے ہیں تو لفظ لائبریرین یا لائبریری پر آکر ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ان کے دل میں کہیں چور ہوتا ہے کہ اگر دوسروں کو ان کے پیشے کے بارے میں  کہیں   پتہ چل گیا تو ان کی عزت خا ک میں مل جائے گی۔اصل میں یہ لوگ بے پناہ قسم کی بد اعتمادی،احسا س کمتری اوراندر کے کھوکھلے پن کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کو لائبریری سائنس نہیں دنیا کے کسی پیشے میں  بھی بھیج دیں یہ اس پیشے کے بارے میں اسی طرح کے خیالات ارشاد فرمائیں گے۔اگر  ایک  لمحے  کے  لئے  ان  کی  بات  مان    بھی  لی  جائے  تو  پھر  سوال  پیدا  ہوتا  ہے  کہ    اس  پیشے  نے  ڈاکٹر عبد المعید، ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری، ڈاکٹر نسیم فاطمہ، ڈاکٹر خالد محمود ، ڈاکٹر رمضان  جیسے  لوگ  کیسے  پیدا  کر  لئے؟ ان کے علاوہ درجنوں نام ایسے گنوائے جا سکتے ہیں جنہیں اسی پیشے کی بدولت معاشرے میں عزت، شہرت اور نیک نامی ملی ہے۔

ہمارے پروفیشنلز  کی  ایک  بڑی  تعداد   کوہا، ڈی سپیس، اینڈ نوٹ جیسے چند سوفٹ وئیرز میں بری طرح سے الجھی  ہے۔ ان کے علم اور مہارتوں کی کل کائنات یہی چند سوفٹ وئیرز ہیں۔ان سے آگے ان کو کچھ سجھائی   ہی  نہیں دیتا۔جیسےیہ  سوفٹ  وئیر    سیکھنا ہی ان کی زندگی کا   واحدمقصد  ہو   اور اسی میں ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوںکا عروج پوشیدہ ہو۔ان  کے  علاوہ   چنداور سمجھدار لوگ ہیں جو ان کے سکھانے میں دن رات مشغول ہیں۔یوں وہ خلق خدا کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنی روزی روٹی کا بھی بندو بست کئے ہوئے ہیں۔ان سوفٹ وئیرز میں سب سے زیادہ ہر دلعزیز کوہا ہے جس کی مثال محبوب کی الجھی ہوئی زلف جیسی ہے جو سلجھائے نہیں سلجھ  پاتی۔اکثر اوقات سکھانے والوں کا مبلغ علم سوفٹ وئیر کی انسٹالیشن سے آگے نہیں جاتا۔جبکہ اینڈ نوٹ وغیرہ حوالہ جاتی سوفٹ وئیرز ہیں  جن کا استعمال یونیورسٹی یا ریسرچ لائبریریوں میں ہی ممکن ہے جبکہ ہمارے پروفیشنلز  میں  سے  زیادہ  تر  کا  تعلق   کالج، سکول،پبلک اور سپیشل لائبریریوں سے ہوتا ہے۔ جہاں پر ان سوفٹ وئیرز کی ضرورت شاید ہی  کبھی پڑتی ہو۔دوسری طرف ہماری کالج، سکول اور پبلک لائبریریوں میں سے بیشتر میں کمپیوٹر ہی نہیں ہیں۔ وہاں آج بھی متروک   اورفرسودہ مینول نظام مروج ہے۔یہ لائبریریاں بنیادی انفرا سٹراکچر سے ہی محروم  ہیں  ۔  ہمیں   نہیں معلوم اس  طرح  کے  تربیتی  پروگراموں  کا  پیشے  کی  اس  غالب  آبادی  کو  کیا  فائدہ  پہنچتا  ہے؟اگر نئی ٹیکنالوجی کو سیکھنے کا سوال اتنا ہی اہم ہے تو پھر ٹیکنالوجی کی حدود تو ان سوفٹ وئیرز سے بہت آگے تک جاتی ہیں۔ گوگل پر تلاش کرنے سے آپ کو بیسیوں ایسے سوفٹ وئیرز مل جائیں گے جنہیں آسانی سے ڈائون لوڈ اور انسٹال کیا جا سکتا ہے۔صرف صدائے لائبریرین کی ویب سائٹ پر بیس سے زیادہ ایسے لائبریری سوفٹ وئیرز کے لنکس دیئے گئے ہیں جو مفت میں دستیاب ہیں۔

معاشرے میں پیشے کا وقار بلند کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ لائبریری کی خدمات کو بہتر بنانے کی  اشد ضرورت ہے۔ لائبریری کی خدمات جس قدر بہتر ہوں گی اسی قدر لائبریری اور لائبریرین کا وقار بھی بہتر ہو گا۔بدقسمتی  سے  ہمارے ہاں جتنے بھی تربیتی پروگرام یا ورک شاپس ہوتی ہیں ان میں  تمام تر زور تکنیکی مہارتیں سکھانے پر ہوتا ہے۔ایک پروفیشنل کو پیشہ وارانہ اقدار سے روشناس کروانے اور اس میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے کبھی کسی تربیتی ورک شاپ کا اہتمام   آج  تک  کیا  ہی  نہیں  گیا۔لائبریری خدمات کو بہتر کرنے اور صارف کو مطمئن کرنے کے لئے لائبریرین پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس کے لئے راہنمائی اور تربیت کا بھی تو کوئی انتظام ہونا چاہئے نا۔ان سب مقاصد کے حصول کے لئے ایک مضبوط پی ایل اے نا  گزیر  ہے  لیکن شومئی  قسمت  دیکھيے  ہماری  پیاری   پی ایل اے کی پنجاب برانچ کے علاوہ باقی تمام برانچیں ایک افسانوی تخیل بن چکی ہیں جیسے  ان  کا  حقیقت سے کوئی تعلق ہی  نہ  ہو۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دیگر تنظیمیں وجود میں آتی چلی جا رہی ہیں جن کے پاس قومی سطح پر لائبریرین کی راہنمائی اور اس کی تربیت کے لئے نہ تو صلاحیت ہے نہ ہی مینڈیٹ۔

ضرورت  اس  امر  کی  ہے  کہ  پی  ایل  اے  اور  لائبریری  سکولوں  کے  ساتھ  مل  کر  ایسے  تربیتی  پروگراموںکا  زیادہ  سے  زیادہ  انعقاد  کیا  جائے  جن  کی  وساطت  سے  ہمارے  پروفیشنلز  میں  خود  اعتمادی  اور  پیشے  کے  وقار  کو  خود  ان  کے  اپنے  اندر  بحال  کرنے  کی  سعی  کی  جائے۔جدیدٹیکنالوجی   سکھانے  کے  ساتھ  ساتھ  صارفین  کو  بہتر  انداز  میں  خدمات  مہیا  کرنے  کی  مہارتوں  سے    بھی  روشناس  کروایا  جائےاور  سب  سےاہم  بات  ذاتی  مفادات  سے  اوپر  اٹھ  کر  پیشے  کے  اجتماعی  مفاد  کو  مد  نظر  رکھاجائے  تو  بہت  قلیل  عرصے  میں  یہ  پیشہ  دیگر  پیشوں  کی  طرح  معاشرے  میں    اپنی  جگہ  بنا  لے  گا۔

ہمیں  یہ  بات  اچھی  طرح  سے  ذہن  نشین  کرلینی  چاہئے  کہ  یہ  پیشہ  خدمات  کا  پیشہ  ہے  جو  خلوص  ،  جانثاری،لگن  اور  خدمت  جیسے  احساسات  اور  عملی  اقدامات  کا  تقاضا  کرتا  ہے۔اس  کی  عزت  اور  وقار  ہمارے  مثبت  رویوں  سے  جڑا  ہوا  ہے۔ہم  غیر  پیشہ  وارانہ،  غیر  مہذبانہ،کٹھور  اور  سست  رویوں  کے  ساتھ  نہ  اپنے  لئے  عزت  کما  سکتے  ہیں  اور  نہ  ہی  اس  پیشے  کے  لئے۔

صدائے  لائبریرین  کا  یہ  شمارہ    لائبریری  پروفیشن  کی  ایک  محترم  شخصیت  ڈاکٹر  فرزانہ  شفیق  کے  نام  جو  اسی  رمضان  کے  ستائیسویں  روزے  کو  مدینہ  منورہ  سے  مکہ  مکرمہ  جاتے  ہوئے  راستے  میں  ایک  ٹریفک  حادثے  میں  جاں  بحق  ہوگئیں ۔االلہ  تعالی  ان  کی  قبر  پر  اپنے  انوار  کی  بارش  فرمائے۔

خوش  رہئے  اور  خوشیاں  بانٹئے۔

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.