سہ ماہی صدائے لائبریرین جلد1، شمارہ 2

 اَن گِنت کہکشائوں کو فراواں رزق  پہنچانے والے رب کی سلطنت میں اس کے بندوں کو اپنا محتاج بنانے والوں اور خدائی کی سان پر چڑھے   نام نہاد بڑوں  کوعرش عظیم کا مالک افلاک کی سرحدوں سے للکارتا ہے :

ًکبریائی میری چادر ہے اور عظمت میری تہہ بند، جس کسی نے ان دونوں میں سے کسی ایک پر مجھ سے مقابلہ کیا، میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔ً

تاریخ کے مہیب سناٹوں سے دور، شعور اور زمان و مکاں کی سرحدوں سے پرے ایک میٹنگ بلائی گئی جس میں آدم کو خلافت ارضی کی خلعتِ فاخرہ سے نوازاجانا تھا۔  حاضرین میں سے کسی نے لرزتے کانپتے ایک خدشے کا اظہار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو آدم زمین پر جا کر خون ریزی اورفساد برپا کرے ۔خالق ِ کائنات کو اپنے اس چہیتے کے بارے میں ایسی رائے مناسب نہ لگی ۔ اس نے سب پر آدمؑ کی برتری ثابت کرنے کا ارادہ کر لیا اوراس مقصد کیلئے آدمؑ اور ان سب کے درمیان ایک علمی مقابلہ کروایا۔  آدم ؑاس مقابلے میں  سو فیصد نمبر لے کر  فرسٹ پوزیشن پر رہے۔جاننے والے کہتے ہیں کہ وہ علم جو اس وقت حضرت آدم ؑکو سکھایا گیا تھا جس سے ان کی برتری فرشتوں سمیت تمام مخلوق پر قائم ہوئی تھی وہ جینز کے ذریعے قیامت تک آنے والی ان کی اولاد کو منتقل ہوتا رہے گا۔

پھر یوں ہوا کہ نسل ِ انسانی میں سے جو لوگ کچھ چالاک اٹھے انہوں نے اس کے کمزور اورشریف لوگوں سے مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے وہ شرف اور برتری چھیننا شروع کر دی جو رب العزت نے اسے خود عطا فرمائی تھی۔ان چالاک لوگوں نے نسل انسانی کو ذاتوں، برادریوںاور پیشوں میں بانٹ دیا۔ لیکن ان کا حرص اتنا بڑھتا گیا کہ صرف ذاتوں، برادریوں اور پیشوں پر وہ اکتفا نہ کرسکے۔ انہوں نے ان ذاتوں، برادریوں اور پیشوں کے اندر بھی درجہ بندی کر ڈالی۔ جس کے پاس جتنا زور تھا اس نے اتنا ہی کمزوروں کو دبایا۔باقی پیشوں کی طرح لائبریرین شپ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

یوں تو سبھی پیشے ہی اہم تھےلیکن لائبریرین شپ کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔ لائبریرین جو مومن کی گمشدہ میراث اور انبیاءکی امانت کا نہ صرف محافظ تھا بلکہ اس امانت کو اس کے جائز وارثوں تک پہنچانے کا انتظام بھی کرتا تھا۔یہ  وہ فردتھا جو اصحابِ صفہ اور کاتبینِ وحی کے نقش قدم پر چلنے کی سعادت حاصل کرتا تھا۔لیکن بد قسمتی ملاحظہ ہو کہ اس فرد کو معاشرے میں جو عزت اور مقام ملنا چاہئے تھا اس سے اسے محروم کیا گیا۔اسے یہ عزت اور مقام ملتا بھی تو کیونکر ۔ اسے تو بار بار یہ احساس دلایا جاتا رہا کہ وہ معاشرے کا ایک عضوِناکارہ ہے۔کتابوں سے بھری چار دیواری میں حقیر ایک چوکیدار جو موٹی موٹی جلدوں میں بند کالے کاغذوں کی رکھوالی کرنے کے علاوہ معاشرے کو اور کچھ نہیں دے سکتا۔

لائبریرین کو ذہنی پسماندگی سے دو چار کرنے کا عمل ٹھیک اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ اپنی مرضی کے بر خلاف  لائبریری سائنس ڈیپارٹمنٹ میں طالب علم کی حیثیت سے داخل ہوتا ہے۔وہ کسی اور شعبہ میں جانا چاہتا ہوتا ہے۔لیکن میرٹ پر نہ آنے کی وجہ سے یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے وہاں نہیں جا پاتا تو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں آخری چارے کے طور پر لائبریری سائنس میں داخلہ لے لیتا ہے۔یہاں آکر اسے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے ارد گرد احساس کمتری کے شکار لوگوں کا ایک ہجوم ہے جو کسی نہ کسی طرح اسے پورے دو سال تک یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ باہر معاشرے میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں۔یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد اگلا مرحلہ عملی زندگی میں داخل ہونے کا ہے۔ملازمت کے لیے اس نے اپلائی کرنا ہوتاہے لیکن کچھ تلخ حقیقتیں ا س کے سامنے کھڑی ہوجا تی ہیں ۔ مثلاً ملازمت کے حصول کے لیے اس کے پاس کسیً بڑی شخصیت ً  کی سفارش ہونی چاہئے یا اسے کسی طاقت ور لائبریری ایسوسی ایشن کا سرگرم اور چہیتا رکن ہونا چاہئے ۔ اگر درخواست گزار لڑکی ہے تو اس کو بہت زیادہ “سوشل “ہونا چاہئے۔ نقاب کرنے والی ہے تو گھر میں ہی رہے یہی اس کیلئے بہتر ہے۔اسے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ دو سال تک جس ڈگری میں اچھا گریڈ یا سی جی پی اے لینے کے لیے اس نے دن رات ایک کئے ہیں اس کی حیثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ پروفیشن کے حوالے سے جتنی مہارتیں حاصل کی ہیں ، انٹرویو میں وہ اس کے لیے کچھ مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔اور ہاں درخواست گزار انٹرویو پینل میں بیٹھے اگر کسی رکن کو پسند نہیں ہے تو یہ طے ہے کہ اسے ملازمت نہیں ملنی ۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ بونَس کے طور پر انٹرویو کے دوران اس کی عزت افزائی  ہوجائے  جس کی کسک اسے شاید عمر بھر محسوس ہوتی رہے۔اس سب کے بر عکس جو “فیورٹ”ہوتے ہیں ان کی تو بات ہی الگ ہے۔۔۔۔ان کے لئےر ُولز بدل سکتے ہیں، سکیل ریوائز ہوسکتے ہیں۔ اشتہار میں دی گئی جاب میں فرق ڈالا جا سکتا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔

 

میگزین پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےتصویر پر کلک کریں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.