بشیر احمد ضیاء مرحوم کی یاد میں

تحریر: سید مظفر علی شاہ القادری، لائبریری انچارج اسٹیٹ بینک آف پاکستان

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی/  ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
لائبریری پروفیشن کی کچھ شخصیت ایسی ہیں جن کےبارے میں لکھتے ہوئے ہاتھ نہیں رکتے اور پڑھتے ہوئے قاری خوشی محسوس کرتا ہے۔ وہ شخص جس کے متعلق میں لکھ رہا ہوں جواپنی ذات میں لائبریری پروفیشنلزکے لئےمشعل راہ ہے وہ اب ہم میں نہیں رہے۔ جی ہاں بشیر احمدضیاء چیف لائبریرین اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی وہ بینک کی ملازمت میں مجھ سے دو سال جونیئر لیکن تجربے کے لحاظ سے سینئر موسٹ تھے۔

اسٹیٹ بینک کی تقسیم کے بعد وہ چیف لائبریرین اسٹیٹ بینک ہوئے اور میں انچارج اسٹیٹ بینک نارتھ ناظم آباد آفس لائبریری میں تعینات ہوا اور آخری وقت تک انکی زیر سرپرستی میں رہا۔ لائبریری پروفیشن میں جو انکی خدمات ہیں وہ ایک ناظم کتب خانہ میں بہت کم ہوتی ہیں۔

بشیر صاحب کا تعلق پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین سے تھا اور ان کے اردو انداز بیاں میں پنجابی نظر آتی تھی مگر ان کا اخلاص کردار اور انداز پروفیشنل خدمات میں نمایاں رہا۔ انہوں نے کسی بھی شخص کو کسی بھی کام کے لیے کبھی نہ نہیں کیا خواہ اس شخص کا تعلق ان کے پروفیشن سے ہو یا نہ ہو۔ وہ سوشل میڈیا سے زیادہ پریٹکل ازم کے قائل تھے۔ ان کے انداز گفتگو ان کے اخلاق اور کردار کا یہ عالم تھا کہ تمام آفس کے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کا انداز ایک ہی تھا۔ اسٹاف میں ہر زبان اور قومیت کے لوگ تھے مگر انہوں نے بلا تفریق ہر شخص کی ترقی کے لیے کوششیں کیں اور ان پر عمل بھی کرایا۔

یوں تو انہوں نے مختلف اداروں میں خدمات انجام دیں جس میں برٹش کونسل لائبریری لاہو،ر منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور 1999 میں بطور چیف لائبریری اسٹیٹ بینک آف پاکستان مقرر ہوئے اور سال 2021 تک اسی عہدے پر قائم رہے۔ انہوں نے لائبریری کے تمام کیڈر کو بینکنگ کیڈر میں تبدیل کرایا۔ اسٹیٹ بینک لائبریری بھرتی ہونے والا شخص ایم ایل آئی ایس ہوتو ڈائریکٹ اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوتا ہے یہ سب انہی کی کاوش اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اپنی گفتگو میں میں کہتے ہیں کہ میں تو بی ایس سی کرنے کے بعد ڈاکٹری کرنا چاہتا تھا اور اس کا میں نے ٹیسٹ بھی پاس کرلیا تھا مگر حادثاتی طور پر انیس سو پچاسی میں میں نے ایم ایل ایس کیا ۔تعلیم کے شعبے میں ہمیشہ فرسٹ ڈیویژن رہا۔

بیٹے کی شادی پر اس کا بوسہ لیتے ہوئے

اسٹیٹ بینک سے ان کا تعلق 2019 تک قائم رہا اس کے بعد انہوں نے رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 16 برانچوں کی لائبریری کے بیک وقت چیف تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جس طریقے سے لوگ ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہو رہے ہیں اپنی اصل سے دور ہو رہے ہیں۔ وہ پڑھنے کے لیے گوگل فیس بک اور سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ جب تک کتابیں نہیں پڑھیں گے اپنے بچوں کو کیسے پڑھائیں گے۔ وہ کہتے تھے ہمارے ملک میں انفارمیشن تو بہت ہے لیکن علم کی کمی ہے اور اس میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ کتاب سے کتب بینی میں کمی ہے۔ انہوں نے آپ کی سربراہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی لائبریری کو جدید اور قدیم دونوں طریقوں پر ڈالا جو بظاہر اسپیشل لائبریری لگتی تھی اور کہلاتی تھی۔ انہوں نے اپنی سربراہی میں اس میں عام قاری تک کو رسائی مہیا کی اور غیر مشروط طور پر بینک لائبریری کی ممبر شپ لائبریری فرینڈشپ کے نام سے بھی ممبر شپ شروع کی جس سے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ فائدہ حاصل کرتے تھے ۔

آپ نے لمس لِمز  کے نام سے اسٹیٹ بینک کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مکمل کرایا اور تمام برانچز لائبریری اور مین لائبریری کے ملازمین کو اس کی تربیت کا بندوبست کیا۔ لائبریری کا فرنیچر کارپٹنگ اور ہر قسم کی ڈیکوریشن جدید دور کے مطابق کی۔ وہ اپنے ساتھیوں سے اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ لائبریری سائنس پروفیشن میں ہونے والی تحقیق دوسرے شعبے میں ہونے والی تحقیق سے بہت کم ہے جس کی وجہ سے اس پروفیشن کو اپنا اہم مقام نہیں مل سکا اور آپ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ لائبریریوں کے اندر جدید اور ضرورت کا موازنہ نہیں ہوتا۔انہوں نے اپنی کوششوں سے آن لائن کے ذریعے اسٹیٹ بینک کی لائبریری کو دنیا کی دیگر لائبریریوں سے کنیکٹ کیا۔

اسٹیٹ بینک کی لائبریری کا دورہ کیا جائے تو نام کے لحاظ سے اسپیشل لائبریری مگر مواد کے لحاظ سے پبلک لائبریری نظر آتی ہے۔ یہ سب جناب محترم بشیر احمد ضیاء صاحب کا کارنامہ ہے اور شہر بھر کے طلبہ اسکالر اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں اور شعبہ لائبریری سائنس کے افراد سے شکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے تحقیق میں وہ کام نہیں کیا جس کی لائبریری سائنس کو ضرورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لائبریری پروفیشنلز آج دیگر شعبہ جات سے پیچھے ہے۔

محترم شکوری صاحب کے متعلق کہتے ہیں بندہ اپنی ذات میں انجمن ہے کس نے یوٹیوب ویب سائٹ واٹس اپ گروپ کے ذریعے اس پروفیشنل کی لازوال خدمت کی جس سے لوگوں میں قدیم اور جدید انفارمیشن نمایاں ہورہی ہیں جو جو قاری اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی لائبریری میں پڑھنے آتا اسے ایک جملہ ضرور کہتے بہت پڑھ رہے ہو ذرا سوچو کچھ کر بھی رہے ہواور لائبریری سائنس کے تمام طالب علموں کو محترم شکوری صاحب کی تقلید کرنے کی تلقین کرتے۔ انہوں نے اپنے پروفیشن ساتھیوں کے ساتھ ایمانداری اور وفاداری کا رشتہ ہمیشہ قائم رکھا۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت انہیں اپنے جوار رحمت میں بلند درجہ نصیب فرمائے، آمین

“شاہ جی وہ میری آنکھ سے اوجھل ہوا یوں”
“سورج تھا میرے سر پر مگر رات ہو گئی”

Leave a Reply

Your email address will not be published.