unnamedاسلام آباد (21ستمبر2015ء) نیشنل بُک فاؤنڈیشن اپنے مشن کی تکمیل میں جس تیزی سے ترقی کر رہا ہے، وہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ کتب بینی کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ آج کی نوجوان نسل انٹر نیٹ سے معلومات تو حاصل کر رہی ہے مگر علم کے لیے کتاب پڑھنا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام رواں مالی سال کے لیے ریڈرز کلب ممبر شپ کے اجراء کی غیر رسمی افتتاحی تقریب کے چیف گیسٹ محمد اشرف گجر نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ این بی ایف اتنی معیاری اور اتنی ارزاں قیمت کتب کے بعد ایک ویلفیئر ٹرسٹ بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ این بی ایف کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اس موقع پر چیف گیسٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور بار ایسوسی ایشن میں بُک فئیرز لگانے کی پیشکش سمیت چند مفید تجاویز بھی دیں۔ قبلِ ازیں این بی ایف کے ایم ڈی نے ابتدائی کلمات میں تفصیل کے ساتھ این بی ایف کے پچھلے ڈیڑھ برسوں کے ترقیاتی سفر کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا اور کہا کہ این بی ایف معیاری، مفید ، معلوماتی اور نہایت کم قیمت کتب کی فراہمی جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ این بی ایف کی بُک شاپس سے گزشتہ 5 ماہ میں 20کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کتب فروخت ہوئیں ۔ انھوں نے کوئٹہ میں اگست میں لگائے جانے والے ’’آزادی کتاب میلے ‘‘اور ستمبر میں کراچی میں ’’شہرِ کتاب‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کتاب میلے کے اجراء کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ این بی ایف کی طرف سے اسلام آباد میں بھی F/7 مرکز میں مستقل ’’شہرِ کتاب ‘‘میلے کا اجراء ہو چکا ہے اور شائقین وہاں سے کتب حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا این بی ایف نے پبلشرز کی طرف سے رائٹرز کے استحصال کے دروازے بند کر دیئے ہیں اور رائٹرز کے مقام اور احترام کو بلند کیا ہے۔ تقریب کی نظامت ملک فدا الرحمان نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر قیصرہ علوی اور سابق سیکرٹری این بی ایف محمد اسلم راؤ نے خطاب میں این بی ایف کے سربراہ اور ادارے کے کارکنان کی محنتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر این بی ایف کی تازہ ترین کتاب ’’منتخب کلام ذوق‘‘ کا نسخہ اس کے مرتب پروفیسر جمیل یوسف نے مہمانِ خصوصی محمد اشرف گجر کو پیش کی جب کہ این بی ایف کی طرف سے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے انہیں شیلڈ پیش کی۔ تقریب میں جڑواں شہروں کی نامور علمی وادبی شخصیات ،مصنفین، براڈ کاسٹرز، بُک لورز اور طلبہ و اساتذہ سمیت ہر شعبۂ زندگی کے لوگوں نے شرکت کی اور بڑی تعداد میں ریڈرز کلب کی ممبر شپ حاصل کی جب کہ بہت سے لوگ بُک والنٹیرز بھی بنے۔