worldکوئٹہ: یونیورسٹی آف بلوچستان کے شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کے زیر اہتمام عالمی کتب کے دن کے حوالے سے ایک شعور آگاہی واک کیا گیا۔ جس میں جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال ، میجر آصف مینگل، ڈاکٹر عابد شاہ عابد، شاہ محمد مری، ڈاکٹر مدثر اسرار، رجسٹرار محمد طارق جوگیزئی، ٹریژرار جیند خان جمالدینی، ادبی شخصیات ، اساتذہ اور طلباہ وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ واک سائنس فیکلٹی سے شروع ہوئی اور مختلف راستوں سے آرٹس فیکلٹی اور نئے بلاک پر اختتام پذیر ہوئی۔
واک کے شرکاء سے جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایسا لگ رہا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں اور یہ زندہ ادارہ ہے۔ یوم کتب کے حوالے سے شعور و آگاہی واک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ کتابیں ہمارے معاشرے کا انتہائی اہم جزو ہیں۔ اور کتابوں سے محبت کرنے والی اقوام اور معاشرے ہی ترقی کی جانب گامزن ہیں۔ان کی یونیورسٹیاں دن رات کتابی ماحول کو پروان چڑھانے کے لئے برسر پیکار ہیں۔ طلباء و طالبات، اسکالرز کو لائبریریز اورجدید لیب کے مواقع مہیا کی جارہی ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر عابد شاہ عابد نے کہا کہ خیالوں کو تقویت مطالعہ سے ہی ملتی ہے۔ مطالعہ کتاب سے نکلتا ہے اور اگر یونیورسٹیوں، کالجز، لائبریریوں گھروں سے انکو نکالا جائے تو خالی زہنوں سے کچھ نہیں بنتا۔ آج تعلیمی ادارے ہیں تو کتاب کی بدولت، اور ہم علم حاصل کریں گے تو کتابوں کی عزت کریں گے اور سب سے عزیز کتاب قرآن پاک ہے اور کتاب وہاں سے آتی ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔
اس موقع پر شاہ محمد مری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عشق مشکل چیز ہے۔ محبوب یا محبوبہ کتاب کو اگر بنایا جائے تو اچھا لگتا ہے۔ کیونکہ کتابیں ہی آپ کو سوال اور فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے اور جو چیز آپ کو سوچنے پر مجبور کرے وہ اشرف المخلوقات کہلاتے ہیں اور انسان ہی اشرف المخلوقات ہے اور یہ شرف ہمیں دیا گیا ہے۔ واک سے میجر آصف مینگل، ڈاکٹر منزہ، محمد نعیم ناصر اور دیگر نے کتابوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔