amjad

 

 

 

 

تحریر۔ امجد اسلام امجد

سب سے پہلے تو یہ بات ہونی چاہیے کہ آخر ہم لوگ کتاب کا عالمی دن کس حساب میں منا رہے ہیں کہ درسی، مذہبی اور پیشہ ورانہ تعلیم سے متعلق کتابوں سے قطع نظر وطن عزیز میں کتاب کا وہ حال ہے کہ خدا کسی دشمن کا بھی نہ کرے۔

اٹھارہ کروڑ کا ایک فیصد اٹھارہ لاکھ اور اٹھارہ لاکھ کا ایک فیصد اٹھارہ ہزار بنتا ہے جب کہ ہمارے یہاں شاید گنتی کی چند کتابیں ایسی ہوں جو ایک سال میں اٹھارہ سو بھی چھپتی ہیں۔ بارہ مصالحے کی چاٹ والے ہفت روزے اور ڈائجسٹ بھی جو کچھ عرصہ قبل تک ہزاروں کی تعداد میں چھپتے تھے (اور جن میں سے چند ایک کی تعداد اشاعت تو لاکھوں کو چھوتی تھی) ان میں سے بھی بیشتر اب یا تو بند ہوچکے ہیں یا ہونے والے ہیں۔

بعض احباب اسے کتاب کے زوال کا نام دیتے ہیں مگر زوال تو اس چیز کو ہوتا ہے جس نے کسی نہ کسی حوالے سے عروج دیکھا ہو۔ مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں محلہ لائبریریوں کی معرفت میں جاسوسی، تاریخی یا انگریزی سے ترجمہ کردہ مہماتی ناولوں کا خاصا زور تھا مگر دیکھتے ہی دیکھتے  نہ وہ لائبریریاں رہیں نہ کتابیں اور نہ ان کے پڑھنے والے۔ کم و بیش یہی حشر اسکولوں اور کالجوں کی لائبریریوں کا ہوا کہ فنڈز کی کمی اور غیر ذمے دارانہ استعمال کی وجہ سے ان میں نئی کتابوں کا آنا تقریباً بند ہوگیا ہے۔

سرکار نے کتاب پر یہ ظلم صرف تعلیمی اداروں کی ان لائبریریوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر اس محکمے نے جس کا تعلق کسی بھی طرح کتاب سے نکل سکتا تھا اس لوٹ مار میں برابر کا حصہ لیا ہے۔

کاغذ اور طباعت کے میٹریل پر طرح طرح کے ٹیکس لگائے گئے ہیں اور محکمہ ڈاک کو غالباً خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ اپنا سارا نقصان کتابوں سے ہی پورا کرو۔ آپ نے بیرون ملک کہیں بھی کتاب بھجوانی ہو ڈاک کا خرچہ اس کی اصل قیمت سے تقریباً تین گنا ہوتا ہے۔ اندرون ملک بھی صورت حال ایسی ہے کہ اس روز افزوں ڈاک خرچ کی وجہ سے یا تو بہت سے ادبی رسائل بند ہوگئے یا انھوںنے (بلا معاوضہ) لکھنے والوں کو پرچہ بھجوانا بھی بند کردیا ہے کہ یہ اب ان کے وارے میں نہیں آتا۔

یہ تو تھا وہ معمول کا رونا جو میرے سمیت کتاب کا درد رکھنے والے لوگ اپنی تحریروں میں اکثر روتے رہتے ہیں اور علامہ اقبال کے (جن کا یوم وفات بھی انھی دنوں میں ہے) اس مصرعے میں استعمال ہونے والے ’’شائد‘‘ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں کہ ’’شائد کہ اترجائے ترے دل میں مری بات‘‘ امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر نیم ترقی یافتہ ممالک میں بھی باوجود انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منہ زور طوفان کے، کتاب کی اہمیت کو اب بھی نہ صرف محسوس کیا جاتا ہے بلکہ زندہ اور توانا رکھنے کے لیے نت نئے طریقے بھی سوچے جارہے ہیں۔

برادر عزیز نواز نیاز ابھی ابھی اٹلی میں ہونے والے ایک بچوں کے کتب سے متعلق میلے میں شرکت کرکے آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہاں حد نظر تک کتابیں ہی کتابیں تھیں اور اسٹالز اس طرح سجائے گئے تھے کہ ہمارے ہاں دلہنیں بھی ایسا کم کم سجتی ہوں گی۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت حکومت پاکستان سے براہ راست متعلق اداروں میں دس ہزار سے زیادہ (نام کی ہی سہی) لائبریریاں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود گنتی کی چند کتابیں ہیں جو ایک سال میں ایک ہزار سے زیادہ چھپتی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ’’نہ ہونے‘‘ کا جواب اور جواز کون دے گا!

عالمی یوم کتاب کی طرح ہم اور بھی بہت سے ایسے عالمی دن مناتے ہیں جن کو ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے کہ ایسا صرف خانہ پری کے لیے کیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک نے اس نوع کے کئی معاہدوں پر دستخط کررکھے ہیں جن کی وجہ سے یہ ’’کارروائی ڈالنا‘‘ پڑتی ہے۔اب آئیے تصویر کے اس رخ کی طرف جس میں کہیں کہیں روشنی کا گمان ہوتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے چند اداروں، آرٹ کونسلوں اور یونیورسٹیوں وغیرہ میں تسلسل سے کتاب میلے ہورہے ہیں۔ کراچی لاہور اسلام آباد کی حد تک لٹریچر فیسٹیول بھی اب باقاعدگی سے ہونے لگے ہیں لیکن کتاب اور ادب سے براہ راست متعلق اداروں مثلاً اکادمی ادبیات پاکستان، مقتدرہ قومی زبان (جس کا نام اب غالباً ادارہ فروغ قومی زبان رکھ دیا گیا ہے) اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کارکردگی اس ضمن میں ایک سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کو البتہ یہ استثنا حاصل ہے کہ حالیہ چند برسوں میں یہ ادارہ تسلسل سے کتاب کے فروغ کے لیے باقاعدہ اور نظر آنے والا کام کررہا ہے۔

اس کا آغاز چند برس قبل مشہور افسانہ نگار سابق ایم ڈی مظہر الاسلام نے کیا تھا اور اب برادرم ڈاکٹر انعام الحق جاوید اس روایت کو مزید وسعتوں سے ہمکنار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کی تازہ ترین مثال عالمی یوم کتاب کے حوالے سے 22 تا 26 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والی تقریبات کا وہ سلسلہ ہے جس میں شمولیت کے لیے میں بھی اس وقت یہاں موجود ہوں۔ مظہر السلام نے ’’بک ایمبیسیڈر‘‘ کے نام سے زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ادیبوں اور ادب دوستوں کا ایک گروپ تشکیل دیا تھا۔

جنھیں کاغذات میں ’’یور ایکسی لینسی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے جس سے مجھے ذاتی طور پر اختلاف ہے کہ یہ نوآبادیاتی اور سرمایہ دارانہ نظام کی ایک ایسی یادگار ہے جسے بوجوہ ترک کردینا ہی مناسب ہے۔ اس کانفرنس میں منتظمین نے بہت سے دلچسپ پروگرام جمع کر دیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سے عملی طور پر کتاب اور قاری کے رشتے پر کیا مثبت اثرات قائم ہوتے ہیں۔ بے شک اچھا کام اپنا اجر آپ ہوتا ہے لیکن اگر یہ اجر خلق خدا میں بھی تقسیم ہوسکے تو یقینا یہ ایک بہتر اور خوش کن صورتحال ہوگی۔