Saadullah-Final-copyکتاب زندگی ہے اور زندگی ایک کھلی کتاب۔ کتاب بہترین دوست‘ ساتھی اور اُستاد ہے۔ رسالت کے ساتھ بھی کتاب اتاری گئی۔ اور الکتاب کہ لاریب فیہ۔ اِس نے کتاب کو وہ اہمیت دی کہ ابد تک قائم رہے گی۔ وہی قومیں سرخرو ہوئیں جنہوں نے کتاب سے محبت کی اور وہ برباد ہوئیں جنہوں نے کتاب سے منہ موڑا۔ کتاب انسانی ترقی کازینہ ہے زندگی کرنے کا قرینہ ہے‘ علم اور تہذیب کو معراج یہیں سے ملی۔ یہ ان دیکھے جہانوں کے در کھولتی ہے اور صاحب بصیرت ہو تو یہ بولتی ہے:
خوں جلایا ہے رات بھر میں نے
لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے
کتاب سب کا مسئلہ ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں۔ وہ جو کتاب کو سینے سے لگاتے ہیں کشادہ سینے والے ہوتے ہیں‘ وہ جو لفظوں کو موتی جانتے گہر شناس ہوتے ہیں اور وہ جو یہ موتی رولتے ہیں انعام کئے گئے لوگ ہوتے ہیں۔ کبھی ہم نے نظموں کی کتاب پڑھی تھی واقعی ہی کتاب ہو‘ باغ ہو اور پھر چاہے کچھی بھی نہ ہو۔ اصل میں یہ دنیا ہی اور ہے۔ کتاب کے لئے تو دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں۔ ذرا سوچیں تو سہی کتاب نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا کمپیوٹر سمیت سارے علوم کتاب کی دین ہیں۔
چلئے اب بات کرتے ہیں قائداعظم کتاب میلہ کی جسے قائداعظم لائبریری کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے اہل لاہور کے لئے کتابوں کے وائٹ ہاؤس کے سامنے سجایا تھا اور تشنگان علم بے مہابا ادھر چلے آئے اور اپنی تشنگی مٹانے کا سامان کیا۔ ’’وائٹ ہاؤس‘‘ کی ترکیب اس لائبریری کے لئے مناسب لگتی ہے کہ یہ لائبریری مکمل سفید ملبوس پہنے ہوئے‘ کس قدر بھلی اور اصلی محسوس ہوتی ہے لیکن المیہ یہ تھا کہ لوگ اس کے ظاہری حسن کو دیکھ کر آگے بڑھ جاتے تھے۔ ڈاکٹر ظہیر احمد بابر کی کاوشوں سے یہ ہوا کہ کتاب میلہ کے بہانے لوگ آئے تو اُن پر کھلا کہ یہ عمارت تو علم کی سلطنت ہے۔ یہ تو اندر باہر سے خوبصورت ہے۔ یہاں نادر کتب پڑی ہیں۔ ہم اپنے طالب علمی کے زمانے میں یہاں آتے تھے۔ ایسے لگتا تھا جیسے ہم کسی سایہ دار اور ٹھنڈی پناہ میں آگئے ہیں۔ اس کا سکوت بولتا ہے۔ دنیا بھر کا علم ایک ہاتھ کے فاصلے پر آجاتا۔ جونسی صدی چاہئے ریک سے اُٹھا لیں۔ اس زمانے کا بھی اپنا شعر یاد آگیا:
بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا
مجھے ڈاکٹر ظہیر احمد بابر کا فون آیا کہ کتاب میلے کے اختتامی پروگرام میں شرکت کروں۔ مجھے تو بن بلائے ہی چلا جانا چاہئے تھا کہ میں ایسی تقاریب کارسیا ہوں۔ یہ کتاب میلہ میں پنجاب یونیورسٹی میں برس ہا برس سے دیکھ رہا ہوں۔ اب کے تو وائس چانسلر مجاہد کامران نے ادب کی اشاعت میں بھی جنوں سے کام لیا ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ان کے ساتھ ہیں۔ ادھر ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے ایک دنیا بسا رکھی ہے۔ میں نے ڈاکٹر غافر شہزاد کو فون کیا تو ایک کال پر تین پیارے پیارے شاعر چلے آئے۔ دوسرے دو شفیق احمد شفیق اور ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ۔ وہاں آغا امیر حسین اور رانا عبدالرحمن جو بالترتیب ’’کلاسک‘‘ اور ’’بک ہوم‘‘ کے مالک ہیں اور کتاب سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں بھی تھے۔ لائبریری ہال میں تمام پبلشرز کے نمائندگان کو جمع کیا گیا اور انہیں ترغیب دینے کے لئے اُن میں شیلڈز تقسیم کی جانی تھیں۔ شیر افضل نے نظامت کے فرائض ادا کئے اور تلاوت کلام پاک سے یعنی الکتاب سے تقریب کا آغاز کیا۔
سٹیج پر ہمارے ساتھ معروف دانشور اور کالم نگار اوریا مقبول جان بھی بیٹھے تھے۔ ان کا افسرانہ حوالہ ہمارے ذہن کے کسی خانے میں نہیں آتا۔ وہ سراپا علم کا پیکر ہیں اور وہ میرے وطن سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اس سے بھی پہلے ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔ وہ ملک و قوم کے لئے علمی محاذ پر چومکھی لڑائی لڑتے ہیں۔ ویسے وہ سیکرٹری آرکائیوز اینڈ لائبریری پنجاب ہیں۔ مزے کی بات یہ نیا محکمہ انہی کے کریڈٹ پر ہے۔ بیوروکریسی کو ان کی بات ماننا پڑتی ہے کہ جب وہ دلیل لاتے ہیں تو نام نہاد بیوروکریٹ ان سے جان چھڑانے ہی میں عافیت جانتے ہیں۔
اوریا مقبول جان کا شکریہ کہ انہوں نے حکمرانوں ہی کو نہیں بیوروکریسی کو بھی لائبریریوں کی طرف توجہ دلائی‘ انہیں کتاب کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کی۔ اور کچھ کچھ وہ کامیاب بھی ہوگئے ہیں اب لائبریریوں کے سروس رولز بن رہے ہیں۔ ملک کی لائبریریوں کو باردگر بہتر بنانے کا سوچا جا رہا ہے۔ مریدکے میں چار کنال اراضی پر آرکائیوز لائبریری تعمیر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹریٹ کی آرکائیوز میں علم کا بے پناہ خزانہ پڑا ہے۔ وہاں تو وہ ریکارڈ بھی ہے کہ سامنے آنے پر وہ لوگ بھی سامنے آجائیں گے جنہیں انگریزوں نے جاگیریں دیں اور بدلے میں لوگوں کی وفاداریاں خریدیں۔ یہ ایک لمبی بحث ہے۔ ڈاکٹر غافر شہزاد‘ آغا امیر حسین‘ رانا عبدالرحمن‘ ڈاکٹر ظہیر احمد بابر اور راقم نے کتاب اور کتاب میلہ پر بات کی اور اوریامقبول جان نے اظہار خیال کیا اور شیلڈز تقسیم کیں۔
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس کتاب میلے میں72سٹالز لگائے گئے۔72کے ہندسے سے میرا دھیان72پیاروں کی طرف چلا گیا جو کربلا میں حضرت امام حسین ؑ کے ساتھ تھے۔ پتا چلا کہ اس میلے کو تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے وزٹ کیا۔ میرا چونکہ کتاب سے ایک خاص معاملہ ہے کہ ماورا‘ الحمد‘ خزینہ‘ علم و ادب اور ڈوگر پبلشرز کے علاوہ خالد بک ڈپو نے میری کتب شائع کیں۔ میں سب کے مزاج کو سمجھتا ہوں۔ کچھ پبلشرز اتنے امیر ہوگئے ہیں کہ وہ کتب کے میلے میں آتے ہی نہیں۔یہ تو ڈاکٹر ظہیر احمد بابر کے پاس کوئی گیدڑ سنگھی ہے کہ سب کشاں کشاں چلے آئے۔ چند پبلشرز تو بہت اہم ہیں۔ خالد پرویز کا خالد بکڈپو‘ افضال احمد کا سنگ میل‘ خالد شریف کا ماورا‘ شاہد محمود ڈوگر کا ڈوگر پبلشرز‘ رانا عبدالرحمن کا بک ہوم اور آغا امیر حسین کا کلاسک۔ علاوہ ازیں ساگر پبلشرز‘ حق پبلشرز‘ مکتبہ علم و عرفان‘ پروگریسو اور دوسرے کئی پبلشرز یہاں آئے۔ لاکھوں روپے کی کتب سیل ہوئیں۔
ایسی نمائشوں کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہر قسم کی کتاب ڈسکاؤنٹ پر مل جاتی ہے اور ایک ہی وقت میں کتابوں کا جہاں سامنے کھل جاتا ہے۔ کوئی ایسی کتاب بھی سامنے آجاتی ہے جسے آپ برسوں سے ڈھونڈ رہے تھے۔ بڑی اچھی بات ہوئی کہ معروف کالم نگار اور وکیل آصف بھلی سے بھی وہاں ملاقات ہوگئی۔ مجھے ایک بات کی خوشی ہوئی کہ بتایا گیا کہ میری نئی کتاب ’’تروتازہ یادیں‘‘ کافی سیل ہوگئی ہے۔ اسی کا حوالہ مجھے ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے دیا تھا۔ وہاں ریاض چوہدری بھی موجود تھے۔
لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے مگر کالم کی گنجائش ختم ہوئی جاتی ہے۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ آئندہ سال یہ وائٹ ہاؤس کتاب میلہ پورے باغ جناح میں لگائیں گے۔ سٹیج سے اتر کر ہم ظہیر صاحب کے کمرے میں آگئے۔ عصر کی نماز ادا کرنا تھی۔ اوریا مقبول جان نے جماعت کرائی اور میں اکیلا مقتدی تھا۔ یہ نہیں کہ باقی لوگوں نے نماز نہیں پڑھی۔ وہاں جائے نماز ہی دو تھے۔ ایک پر امام اور ایک پر مقتدی۔ بہت اچھی گپ شپ رہی۔ آخر میں منیر نیازی کا ایک شعر:
شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا
کتاب زیست کا اک اور باب ختم ہوا
گویا زندگی کے تین باب ہیں پہلے باب میں پریوں اور خوابوں کی کہانیاں ہیں اور دوسرے میں محبت اور ہجر ووصال کے قصے اور تیسرا باب تجربات و عمل سے مزین۔ یہ صبح‘ دوپہر اور شام کے تین موسم ہیں۔ اپنا خیال رکھئے گا خدا حافظ

Courtesy: http://www.naibaat.pk/