!محبی: عطا الرحمن صاحب
سلام مسنون: تین ماہ علیل رہنے کے بعد اب روبصحت ہوں اور آپ کو یاد کر رہا ہوں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی 83 ویں سالگرہ پر ایک چھوٹا سا مضمون ارسال خدمت کر رہا ہوں۔ ازرہِ کرم اپنے مؤقر اخبار میں شائع فرما کر ممنون کیجئے۔ اپنی خیریت سے مطلع کیجئے۔ اس کرم کے لئے شکرگزار رہوں گا۔
خدا کرے آپ بخیرو عافیت ہوں
والسلام
آپ کا مخلص
انور سدیدAnwar-Sadeed

عیسوی تقویم کا مہینہ مئی۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغاز کا ماہِ پیدائش ہے، وہ 18 مئی 1922ء کو سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے تھے جو ان کے دادا آغا وزیر علی خان قزلباش نے آباد کیا تھا۔ اس زمانے میں نہر لوئر جہلم کی کھدائی مکمل ہو چکی تھی اور وزیر کوٹ کی اراضی اسی نہر کی ایک چھوٹی شاخ سے سیراب ہوتی تھی۔ وزیر آغا کا خاندان بنیادی طور پر گھوڑوں کا سوداگر تھا۔ انگریزی سرکار کو جب اپنی جنگی ضرورتوں کے لئے اور سامان کی باربر داری کے لئے گھوڑوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے کئی خاندانوں کو ’’گھوڑے پال‘‘ عطا کیے تھے۔ ملک کے ممتاز ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے آباء کو بھی سرگودھا میں گھوڑے پال مربع الاٹ ہوئے تھے جہاں صرف گھوڑوں کے لئے چارا کاشت کرنے کی اجازت تھی۔ بعد میں جب گھوڑوں کی ضرورت ختم ہو گئی تو اس اراضی کو ڈاکٹر وزیر آغا کے والد آغا وسعت علی خان نے زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور یہاں پھلوں کے باغات لگائے۔ کالج اور یونیورسٹی تعلیم کے دوران وزیر آغا کا رجحان ادب کی طرف ہو گیا تھا لیکن انہوں نے کاشتکاروں سے اپنا رابطہ قائم رکھا اور اس میں اتنا تجربہ حاصل کیا کہ مغربی پاکستان کے گورنر نواب کالا باغ نے انہیں صوبائی زرعی کمیشن کا رکن نامزد کردیا۔ بلاشبہ کاشتکاری کے شعبے میں ان کی خدمات اہم ہیں اور ان کا شمار صوبے کے ان کاشتکاروں میں ہوتا تھا جو فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے نئے نئے تجربے کرتے تھے لیکن وزیر آغا کو ادیب، شاعر، انشائیہ نگار، تنقید اور رسالہ ’’اوراق‘‘ کی حیثیت میں پوری اردو دنیا میں شہرت حاصل ہوئی اور انہیں مولانا محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی اور امداد امام اثر کے بعد اردو ادب کے اہم ترین نقادوں میں شمار کیا گیا۔ چنانچہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ادب وزیر آغا کی زندگی کی اہم ترین سرگرمی تھی اور انہوں نے اردو ادب کی مختلف جہات میں کام کر کے عہد ساز ادیب کا درجہ حاصل کر لیا۔ اور 7 ستمبر 2010ء کو اپنی طبعی عمر گزار کر وفات پا گئے تو اردو دنیا میں محسوس کیا گیا کہ ادب کا ایک اور آفتاب غروب ہو گیا ہے۔
وزیر آغا کے اظہار کی بنیادی صنف شاعری تھی۔ وہ نظم جدید کے شاعر تھے لیکن غزل میں بھی انہوں نے اپنا انفرادی رنگ ظاہر کیا۔ شاعر میں ان کی پندرہ کتابیں چھپ چکی ہیں۔ پہلی کتاب ’’شام اور سائے ‘‘تھی جو 1964ء میں چھپی،آخری کتاب ’’نامۂ شام‘‘ تھی جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ وزیر آغا نے اردو میں جدید انشائیہ کو فروغ دیا اور اس صنف کو روایتی مضمون نگاری سے نکال کر اظہارِ ذات کا وسیلہ بنا دیا۔ ’’خیال پارے‘‘، ’’چوری سے یاری تک‘‘ ، ’’دوسرا کنارا‘‘ اور ’’سمندر اگر مرے اندر گرے‘‘ ان کے انشائیوں کے مجموعے ہیں، جن کا کلیات، ’’پگڈنڈی‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا کو زیادہ شہرت ایک نظریہ ساز نقاد کی حیثیت میں ملی، اور انہوں نے اپنے ادبی رسالہ ’’اوراق‘‘ کے ذریعے مغرب کے نئے علوم کو آسان ترین زبان میں اردو میں متعارف کرانے کی کاوش کی۔ ان کی تنقیدی کتاب ’’اردو ادب میں طنز و مزاح‘‘ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی، ’’اردو شاعری کا مزاج‘‘ کے بیس سے زیادہ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ ’’تصوراتِ عشق و خرد اقبال کی نظر میں‘‘، ’’تخلیقی عمل‘‘ اور ’’تنقید اور جدید اردو تنقید‘‘ ان کی نظریاتی کتابیں ہیں۔
ڈاکٹر وزیر آغا کو بھارت کے علاوہ لندن اور سویڈن کا سفر اختیار کرنے اور دیار غیر کی تہذیب و تمدن کے مطالعے کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے نوبیل ایوارڈ کمیٹی کے سامنے ایک لیکچر بھی دیا جس کی صدائے بازگشت یورپ کے اخبارات میں سنی گئی۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے اپنی خود نوشت ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا کا نام نوبیل ایوارڈ کی شارٹ لسٹ میں تیسرے نمبرپر آگیا تھا لیکن پھر قومی سیاست کے بعض بزر جمہروں نے ان کے خلاف محاذ کھڑا کردیا۔ اور ان کا نام اس ’’شارٹ لسٹ‘‘ سے نکلوا دیا۔ تاہم صدر پاکستان نے انہیں پہلے ’’تمغۂ امتیاز‘‘ اور پھر ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ وزیر آغا کے فکر و فن پر ان کی زندگی میں ہی کتابیں لکھی جانے لگی تھیں۔ ان میں سجاد نقوی کی کتاب ’’اردو شاعری کا مزاج۔۔۔ معاصرین کی نظر میں‘‘ بہت مشہور ہے۔ ان کی وفات کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی یونیورسٹوں میں کثرت سے کام ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر محسن عباس نے ان کی نظم نگاری پر تحقیقی کتاب لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ راقم انور سدید ڈاکٹر وزیر آغا پر پانچ کتابیں شائع کر چکا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ بلاشبہ اس وقت اردو ادب کاتحقیقی کام کرنے والوں کے لئے ڈاکٹر وزیر آغا کی کتابیں بہت معاونت کرتی ہیں۔ وزیر آغا کی خود نوشت سوانح عمری ’’آدھی صدی کے بعد‘‘ انگریزی میں (منظوم) اور ’’شام کی منڈیر سے‘‘ اردو میں چھپ چکی ہے۔ بلاشبہ ڈاکٹر وزیر آغا پاکستان کے اہم ترین نقادوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی کتابیں پوری اردو دنیا میں پڑھی جاتی ہیں اورنئے لکھنے والوں کو راستہ دکھاتی ہیں۔

بشکریہ۔۔۔۔نئی بات