تحریر۔ احسان باری

وہاڑی میں موجود میونسپل لائبریری کو شہر کی پہلی لائبریری بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ بدلتے دور میں جہاں روایتی طریقوں کے بعد لوگ جدید طریقوں کو اپنا رہے ہیں۔ وہاں انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز نے لوگوں کو اخبار، میگزین اور کتابوں سے دور کر دیا ہے۔

وہاڑی کی میونسپل پبلک لائبریری آج بھی علم کے پیاسوں کے لیے ایک مرکز کی حثیت رکھتی ہے۔ جو اپنی خوبصورت عمارت اور دِلکش ماحول کے ساتھ ٹیکنالوجی کے جدید دور سے ہم آہنگ ہو کر صاحبِ ذوق افراد کے لیے سہولت کا سبب بنی ہوئی ہے۔ میونسپل پبلک لائبریری 1953ء میں بنائی گئی۔ جسے وہاڑی شہر کا ایک اہم ثقافتی ورثہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

میونسپل پبلک لائبریری 1953ء میں ٹاؤن کمیٹی کے چھوٹے سے کمرے میں قائم تھی۔ تقریباً گیارہ سال بعد 1964ء میں لائبریری کی پہلی عمارت جناح روڈ پر تعمیر کی گئی۔ جس میں ایک ہال نما کمرہ بنایا گیا۔ اسی ہال میں آفس اور ریڈنگ روم موجود تھے۔

1976ء میں وہاڑی کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے عمارتوں کی کمی تھی۔ اس وقت لائبریری کو خالی کروا کے یہ عمارت پولیس کو دے دی گئی۔ آج کل اسی عمارت میں وہاڑی پریس کلب موجود ہے۔

جس کے بعد لائبریری مختلف سرکاری عمارتوں میں اپنے وجود کو برقرار رکھتی رہی۔

سال 1987ء میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ضیاء الحمٰن، چیئرمین بلدیہ ظفراقبال اور لائبریرین دین محمد کی مشاورت سے لائبریری کے لیے شہر کے عین وسط باغِ محمد میں بیس کنال جگہ مختص کر دی گئی۔

image could not load

لائبریری کی کُتب سے لوگ مطالعہ کر رہے ہیں۔ تین جنوری 1988ء کو عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور صرف ایک سال میں یہ منصوبہ مکمل ہو گیا۔

جنوری 1989ء میں لائبریری کو نئی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ لائبریری کی عمارت 64 سو مربع فٹ پر تعمیر کی گئی۔ لائبریری کی قابل دید عمارت نو گنبدوں پر مشتمل ہے۔ تمام عمارت ائرکنڈیشنڈ اور کارپٹڈ ہے۔

لائبریری میں پانچ، پانچ ٹن کے چار ائرکنڈیشنر نصب کئے گئے ہیں۔ جبکہ یو پی ایس اور انٹرنیٹ وائی فائی کی سہولت بھی آنے والوں کو میسر ہوتی ہے۔

میونسپل پبلک لائبریری کے لائبریرین سید وقاص سعید بتاتے ہیں کہ مین لائبریری کی عمارت کے علاوہ آٹھ سو مربع فٹ پر مشتمل شعبہ اخبارات وجرائد 1997ء میں قائم کیا گیا۔

2007ء میں شعبہ خواتین قائم کیا گیا۔ جس کے لیے مرکزی لائبریری سے ملحقہ ایک علیحدہ عمارت تعمیر کی گئی جس میں لیڈیز عملہ تعینات ہے۔

image could not load

لائبریری میں خواتین کے لیے بنایا گیا الگ شعبہ جہاں خواتین کا عملہ تعینات ہے ‘میونسپل پبلک لائبریری میں اس وقت 33 ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ حوالہ جاتی شعبہ میں انسائیکلوپیڈیا، گلوژری اور ڈکشنریاں موجود ہیں۔’

انہوں نے بتایا کہ لائبریری میں 12 سو سے زائد ریگولر ممبر موجود ہیں جبکہ تینوں شعبوں میں 150 سے دو سو افراد روزانہ وزٹ کرتے ہیں۔

لائبریرین کے مطابق پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن لاہور کے تعاون سے میونسپل پبلک لائبریری میں ای بکس ڈیجیٹل لائبریری رواں ماہ اگست میں ہی کام شروع کر دے گی۔ جس سے ایک لاکھ آن لائن کُتب تک قارئین کی رسائی ممکن ہو گی۔

‘ای بُکس ڈیجیٹل لائبریری کے لیے پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن نے پانچ جدید کمپیوٹرز، فوٹو اسٹیٹ مشین، سکینر مہیا کر دیئے گئے ہیں۔’

سید وقاص سعید بتاتے ہیں کہ لائبریری میں ایم فِل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے ساؤنڈ پروف ‘علامہ اقبال گوشہ مطالعہ’ الگ سے قائم ہے جہاں پُرسکون سٹڈی کیبن اور ریفرنس بکس مہیا کی گئی ہیں۔

image could not load

پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے بنایا گیا الگ ساؤنڈ پروف کیبن۔

لائبریری کے مسائل پر بات کرتے ہوئے سید وقاص سعید کا کہنا ہے کہ میونسپل پبلک لائبریری ایک ورثہ ہے۔ جسے بچانا اور محفوظ رکھنا قومی ذمہ داری ہے۔ لائبریری کے گرد کوئی چار دیواری موجود نہیں ہے۔

عمارت کے نو گنبد ہیں اگر گنبد کی جگہ چھت پر سِیلنگ ہو جائے تو نہ صرف اے سی کی کولنگ بڑھ جائے گی بلکہ روشنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

‘سالانہ بجٹ 2015 اور 16 میں میونسپل پبلک لائبریری کے لیے ٹی ایم اے نے کتابوں کی خرید کے لیے چار لاکھ روپے، اخبارات اور رسائل کے لیے دو لاکھ ، فرنیچر کی خرید اور مرمت کے لیے آڑھائی لاکھ روپے، کتابوں کی جلدوں کے لیے تیس ہزار روپے اور دیگر متفرق اخراجات کے لیے ایک لاکھ روپے مختص کئے ہیں۔ جبکہ ملازمین کی تنخواہیں اس سے الگ ہیں۔’

لائبریری کے ہیڈ کلرک محمد فاروق نے بتایا کہ لوگوں کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہونے کی وجہ سے ممبرز کتابیں اِیشو کروا کر لے جاتے ہیں تاہم کئی کئی دن واپس نہیں کرتے۔

‘اگر قیمتی کتابیں بروقت واپس آجائیں تو مزید کئی لوگ ان سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔’

Courtesy: http://vehari.sujag.org/