vایکسپریس نیوز۔۔۔۔سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے متعدد قراردادیں پیش کیں اور ان پر مفید بحث ہوئی تاہم پیر کو جب اجلاس شروع ہوا تو متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر طاہر مشہدی کی جانب سے ہر ضلع میں یونیورسٹی قائم کرنے، سحر کامران کی جانب سے سرکاری اور نجی چینلز سے سماجی خدمات کے پروگراموں کے لیے وقت مختص کرنے، طاہر مشہدی کی ملک میں چھٹی مردم شماری اور خانہ شماری کرانے، نزہت صادق، نسرین جلیل، طاہر مشہدی کی جانب سے خواتین کے حقوق کے لیے پیش کی گئی قرارداد یں اتفاق رائے سے منظور کی گئیں۔

حکومت نے کسی قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ ان قراردادوں میں بلاشبہ ہر ضلع میں جامعات کے قیام کا نکتہ مقصدیت اور افادیت کا حامل ہے، اور پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم و تدریس کا پیشہ جس مقام و معیار کا مستحق ہے افسوس کہ اس پر اہل سیاست کی نظر بے حد کم رہی، نجی شعبے کی طرف سے تعلیمی اعانت اور عملی مدد مہیا نہ کی جاتی تو نہیں کہا جاسکتا کہ ملک میں جہالت کے اندھیرے مزید کتنے گہرے اور ہولناک ہوجاتے، اس وقت ملک بھر میں جامعات کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششوں کی حمایت اور عملی مدد کرنا ملک وقوم کے ساتھ وفاداری بہ شرط استواری کا اہم فریضہ ہے۔

سندھ،پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اسکول ، کالج اور جامعات کا وسیع تر نیٹ ورک ناگزیر ہے اور جو قائم ہیں اور تعلیم و تدریس میں مصروف ہیں وہاں وفاقی و صوبائی محکمہ تعلیم کو گرانٹ ،وظائف اور لائبریریوں اور تجربہ گاہوں سمیت تمام بنیادی علمی سہولتوں کو یقینی بنانا چاہیے۔ملک کو ناخواندگی اور تعلیم کے گرتے معیار کا مسئلہ درپیش ہے جب کہ یونیورسٹیز کسی بھی ملک اور اس کے علمی ماحول کی افضلیت ، سماجی و معاشی اہمیت اور جدید دور کے سائنسی و تکنیکی تقاضوں کا اولین پیمانہ ہوتی ہیں ، معاشرے میں دہشت گردی اور قانون شکنی کے جو مہیب سائے پھیلے ہوئے ہیں اس میں جامعات کی طرف عدم توجہ ایک بنیادی وجہ ہے، لاقانونیت اور ناخواندگی کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں اہل علم خاموش ، لاتعلق یا بے عمل ہیں۔

تاہم جامعات صرف نمائشی علمی و تعلیمی مقصد کے لیے قائم نہیں کی جانی چاہئیں ،اس میں میرٹ کے حامل غریب و امیر طلبا و طالبات کو تدریس و ترقی کے یکساں مواقعے ملنے چاہئیں تاکہ ملک کے چاروں صوبوں کی جامعات سے شہر و دیہات کے ذہین و ہونہار طالب علموں کوتعلیم کے اعلیٰ مقام تک رسائی کی سہولتیں حاصل ہوں ،اساتذہ دیہات میں جانے کے خواہاں ہوں اور پاکستان کی تعلیمی افرادی قوت حصول تعلیم کے بعد اپنی ہی جامعات میں علمی خدمات کے لیے پیش پیش ہوں۔