ملک بھر میں صحافیوں ،ادیبوں،شاعروں اور دانشوروں پر مشتمل ’’تھنک ٹینک ‘‘ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے،ایم ڈی نیشنل بک فاؤنڈیشن
کتاب پڑھنے کا رواج موجود ہے ،ہم نے قلم کاروں کے استحصال کا راستہ روک دیا ہے،کراچی پریس کلب میں توسیعی لیکچر سے خطاب
Dr Inamاسلام آباد (10دسمبر2015ء )نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا ہے کہ کراچی میں کتاب کلچر کے فروغ اور ’’شہر کتاب ‘‘کو مزید موئثر بنانے کے لیے ملک بھر میں صحافیوں ،ادیبوں،شاعروں اور دانشوروں پر مشتمل ’’تھنک ٹینک ‘‘ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔کتاب معاشرے اور سوچ میں تبدیلی لانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں توسیعی لیکچر دیتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکریٹری علاؤالدین خانزادہ ، ادبی کمیٹی کے چیئر مین زیب اذکار حسین اور ممتاز صحافی و قلم کار حنیف عابد سمیت متعدد صحافی ،ادیب،شاعر اور دانشور بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہم نے قلم کاروں کے استحصال کا راستہ روک دیا ہے ۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن جن قلم کاروں کی کتابیں شائع کرتا ہے انہیں بروقت رائلٹی کی دائیگی کا شفاف نظام قائم کردیا گیا ہے ۔ کراچی میں ’’شہر کتاب ‘‘ بہت جلد اس شہر کی پہچان بن کر ابھرے گا ۔عوام اچھی اور معیاری کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ نئے لکھنے والوں کے لیے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے دروازے کھلے ہیں ۔جو لوگ معیاری اور مفید کتابیں لکھ سکتے ہیں وہ اپنی تخلیقات ہم تک پہنچائیں ہم ان کی کتابیں شائع کریں گے ۔ انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ پاکستان میں کتاب پڑھنے کا رواج موجود ہے،لوگ کتابیں خرید کر پڑھتے ہیں ۔ nbfنیشنل بک فائونڈیشن نے گذشتہ مالی سال میں 44کروڑ روپے کی کتابیں فروخت کی ہیں ۔ کراچی میں کتاب کلچر کے فروغ کے لیے مزید اہم منصوبوں پر کام جاری ہے ۔بہت جلد کراچی میں ’’ماڈل بک شاپ ‘‘ کا قیام عمل میں لایاجا رہا ہے ۔نئی بک شاپ عالمی معیار کے جدید میکنزم کے مطابق تیار کرا رہے ہیں جو مفید ،معیاری ، معلوماتی اور نہایت کم قیمت کتب کے اعتبار سے ایک مثالی بُک شاپ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ معیاری علمی کتابیں عوام تک ارزاں قیمت پر پہنچانے کا مشن این بی ایف جاری رکھے ہوئے ہے۔اس سلسلے میں ہم نے بہت سے اقدام اُٹھائے ہیں جن میں یہ میلہ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ این بی ایف کے تحت ایسی کتابیں شائع کی جارہی ہیں جو کردار سازی ،شخصیت سازی اور پر امن معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہو ں ۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا کہ ’’شہر کتاب‘‘ میں کثیر تعداد میں اہلِ قلم، ، دانشوروں، طلبہ، خواتین ، اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کاآنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شہر کے لوگ کتاب سے اپنا تعلق جوڑنا چاہتے ہیں ۔ہم روشنیوں کے شہرکراچی کو کتاب کے ذریعے مزید منور کرنے کا مشن جاری رکھیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ این بی ایف کے مہمان خانے ’’کتاب سرائے‘‘ کے قیام کا مقصدکتابوں سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک پُر سکون علمی گوشہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں ہی ’’بُک پارک‘‘گوشہ ء عافیت کا قیام بھی جلد ہی عمل میں لایا جائے گا ۔یہاں طلبہ، خواتین ،نوجوان اور بزرگ بیٹھ کر اپنی پسند کے موضوع کی کتابیں پڑھ سکیں گے۔