پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی پبلک لائبریری میں لوگوں کی عدم دلچسپی کے باعث اس کے ارکان کی تعداد چند سو رہ گئی ہے۔

اس پبلک لائبریری کا سنگِ بنیاد سنہ 2006 میں اس وقت صوبے میں قائم متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے رکھا تھا۔

اس لائبریری کا افتتاح سنہ 2008 میں ہونا تھا لیکن ضلع میں طالبان کی عملداری کے دوران سوات میڈیا سینٹر پر ہونے والےخودکش حملے کی وجہ سے پبلک لائبریری افتتاح سے قبل ہی خستہ حال ہوگئی جس کے بعد اس کی دوبارہ بحالی فوج کی زیر نگرانی مکمل ہوئی اور سنہ 2010 میں اس کا باقاعدہ افتتاح کیاگیا۔

٭ سوات کا بے نام کالج

٭ سوات: طالبان کے بعد لڑکیوں کی تعلیم میں اضافہ

پبلک لائبریری کے قائمقام انچارج معتبر خان نے صحافی انور شاہ کو بتایا شورش سے متاثرہ اس علاقے میں پبلک لائبریری کا قیام یہاں کے لوگوں کی لیے ایک نعمت ہے لیکن بدقسمتی سے لوگوں کی عدم دلچسپی سے اب یہاں وہ رونق نہیں ہوتی جس طرح چند سال قبل ہوا کرتی تھی۔

ان کے مطابق پہلے اس لائبریری کے ارکان کی تعداد ہزاروں میں ہوا کرتی تھی مگر اب چند سو ہی رہ گئے ہیں۔

معتبر خان نے بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ انٹرنیٹ کی ہر جگہ دستیابی اور کتابوں سے دوری ہے۔

معتبر خان کا کہنا تھا کہ لائبریری میں روزانہ 100 کے قریب لوگ آتے ہیں جس میں اکثریت طلبا اور ریٹائرڈ ملازمین کی ہوتی ہے۔

معتبر خان نے بتایا ’لائبریری میں 18,000 کے قریب کتابیں موجود ہیں جس میں زیادہ تر انگریزی زبان میں ہیں تاہم اسلامی کتب بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ چار ہال اور ایک کمپیوٹر لیب پر مشتمل اس لائبریری میں ایک ریکارڈ روم بھی موجود ہے جس میں سنہ 2010 سے اخبارات کا ریکارڈ دستیاب ہے۔‘

لائبریری کے سٹاف ممبران نے بتایا کہ چھ سال کے قیام کے بعد بھی اس پر کوئی سائن بورڈ نہیں لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگ اس کو مسجد سمجھ کر نماز پڑھنے چلے آتے ہیں جسے ہم واپس کرتے ہیں بورڈ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ پبلک لائبریری ہے یا مسجد۔

لائبریری میں تاریخ کی کتاب کا مطالعہ کرنے والے عدنان نے بتایا کہ وہ گذشتہ دو سال سے یہاں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ لائبریری ان کے تعلیمی سفر میں بہت مدد گار ہے تاہم کچھ کتابیں ایسی ہے جو یہاں موجود نہیں ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق خیبر پختونخواہ میں دس پبلک لائبریریاں ہے جس میں سب سے بڑی پشاور کی لائبریری ہے جو قیام پاکستان سے پہلے قائم ہوئی تھی۔

بشکریہ: بی بی سی