copy-right-670ماضی میں کتاب کو بہترین دوست کا درجہ حاصل تھا لیکن آج کا نوجوان ہاتھوں میں کتاب کی جگہ موبائل فونز، ٹیبلیٹ، آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ تھامے نظر آتا ہے۔ کُتب بینی کا شوق دن بدن دم توڑ رہا ہے اور لائبریریوں کی رونقیں ماند پڑ گئیں ہیں۔

35 لاکھ سے زائد کی آبادی کے شہر جھنگ میں 2010ء میں قائم ہونے والی شہباز شریف لائبریری میں اس وقت تاریخ، قانون، سماجی سائنسوں، لسانیات، فلاسفی، کمپیوٹر، جنرل نالج، اردو ادب اور فن تقریر سمیت دیگر اہم مضوعات و مضامین پر مشتمل تقریباً 12 ہزار کُتب موجو ہیں لیکن مطالعہ کرنے والوں کی کمی اس قدر گھمبیر ہے کہ کتابوں پر جمی ہوئی دھول واضع نظر آتی ہے۔

صدر اور سٹی کے وصف میں واقع لائبریری کے سٹڈی ہال میں بیک وقت تقریباً 90 لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے لیکن گزشتہ پانچ سالوں میں اس کی سالانہ اوسط رُکنیت صرف 40 سے 50 افراد ہے جبکہ مجموعی ارکان کی تعداد صرف 254 تک ہی پہنچی ہے۔ رُکنیت فیس صرف ایک سو روپے ہے۔

لائبریری گنجان آباد علاقے میں واقع ہونے کے باوجود دن میں صرف دس سے پندرہ افراد ہی یہاں کا رُخ کرتے ہیں اور وہ بھی کتابوں کا نہیں بلکہ اخبارات کے مطالعہ کے لیے آتے ہیں

“آج بھی کوئی کتاب جاری نہیں ہوئی بلکہ اب تو روزانہ ایسے ہی ہوتا ہے” یہ الفاظ پچھلے 5 سال سے لائبریری چلا رہے محمد عامر کے ہیں۔ محمد عامر کا کہنا ہے کہ لائبریری گنجان آباد علاقے میں واقع ہونے کے باوجود دن میں صرف دس سے پندرہ افراد ہی یہاں کا رُخ کرتے ہیں اور وہ بھی کتابوں کا نہیں بلکہ اخبارات کے مطالعہ کے لیے آتے ہیں۔ لوگوں میں کُتب بینی کا شوق اُجاگر کرنے کے لیے فری علمی کورسز کا انعقاد کیا جاتا ہے جن کے لیے ذہین اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں لیکن ان کورسسز میں بھی لوگوں کی شرکت مایوس کُن رہی ہے۔

عامر کے مطابق لائبریری میں مقابلے کے امتحانات دینے والوں کے لیے بھی بیش قیمت کتابیں موجود ہیں جن سے استفادہ ہوکر نوجوان اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔ دور کی جدیدیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں عنقریب کمپیوٹر لیب کا بھی افتتاح کیا جا رہا ہے جس میں انٹرنیٹ کی سہولت کے ساتھ ساتھ طلبا کے لیے گاہے بگاہے فری کمپیوٹر کورسز کا بھی انعقاد کیا جائے گا تاکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں پر پورا اُتر سکیں۔

ملت کالج میں ایم اے کے طالبِ علم نعیم شریف کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں ایک طرف توطلباء کا نصاب ایسا نہیں ہوتا کہا انھیں لائبریری کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت پڑے دوسرا رسمی تعلیم کے کورسز میں کتابوں کی تعداد اس قدر بڑھ چُکی ہے طلبا کے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ وہ کسی لائبریری میں مطالعے کے لیے جا سکیں۔

گورنمنٹ بوائز کالج جھنگ میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے پروفیسر عبدالعزیز کہتے ہیں کہ “کتاب بہترین دوست ہے” والی کہاوت پُرانی ہو چُکی ہے۔ پاکستان میں کتاب کلچر کے رجحان میں کمی کا سبب عوام خصوصاً نوجوانوں میں کتب بینی کے متعلق شعور کا نہ ہونا ہے۔ نوجوانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ موبائل فونز، ٹیبلیٹس، آئی پیڈز اور لیپ ٹاپ وغیرہ کسی بھی طرح کتابوں کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ترقی کرنی ہے تو نوجوانوں کو کُتب بینی کا شوق ڈالنا ہو گا۔

 Courtesy: http://jhang.sujag.org/