Koi Mehram raz na mildaاسلام آباد (31 مئی2015) خواجہ غلام فریدؒ سرائیکی کے وہ آفاقی شاعر ہیں جن کے کلام میں سوز بھی ہے اور ساز و آواز بھی۔ ان کی کافیوں میں سرائیکی وسیب اور کلچر کی عکاسی ملتی ہے ۔ ان کے کلام میں انسانیت کا عالمگیر پیغام ہے جس کی وجہ سے وہ صدیوں بعد بھی زندہ ہیں۔ اردو اور پنجابی کے خوش گو شاعر سلیم اختر نے خواجہ فرید کی پچاس منتخب کافیوں اور چند دوہڑوں کو رواں ،سلیس اور با محاورہ اردو زبان میں ’’کوئی محرم راز نہ ملدا‘‘ کے فکر انگیز نام سے ترجمہ کر کے صوفیانہ کلام کے شائقین کو 2015کا ایک تحفہ پیش کیا ہے۔انتساب عطاء الحق قاسمی کے نام ہے ۔مترجم علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور الخیر یونیورسٹی میں علمی و تدریسی خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور ان دنوں نیشنل بُک فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں ۔240صفحات کی یہ کتاب بُک ہوم لاہور نے شائع کی ہے،قیمت 500روپے ہے۔ کتاب کے آخر ی صفحات میں ’’فرہنگ‘‘ کو شامل کر کے مترجم نے ان قارئین کے لیے بہت بڑی سہولت پیدا کی ہے جو سرائیکی زبان سے زیادہ واقف نہیں ۔سلیم اختر کی یہ کتاب فرید شناسی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے جسے اہلِ قلم نے سراہا ہے۔ سلیم اختر کی خواجہ فریدؒ کے کلام کے اُردو ترجمہ پر مشتمل کتاب شائع ہو گئی