murrayایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی اچھی کتاب میں غرق ہوجانے سے لوگ ایک دوسرے کی صلاحیت سے خود کو جوڑتے ہیں اور ان کی احساس ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
دا ریڈینگ ایجنسی کی تحقیق کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے بچوں اور بالغوں دونوں میں خوشی کے لیے مطالعے کرنے سے تعلیمی نتائج سے کہیں زیادہ حاصل ہوتا ہے۔
برطانیہ کے چار ہزار بالغوں پر مبنی اس حالیہ مطالعے میں کہا گیا ہے کہ خوشی، سرور، حظ یا لطف حاصل کرنے کے لیے کتابوں کا مطالعہ کرنے والے سماجی تقریبات سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس سے بچوں میں جذبات و احساسات کی سمجھ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر اس تحقیق میں یہ پایا گيا ہے کہ مطالعے کا تعلق، سرور حاصل کرنے، سکون پانے یا راہ فرار اختیار کرنے سے ہے۔
تحقیق میں اس بات پر نظر رکھی گئی ہے کہ ذوق و شوق سے کیا جانے والا مطالعہ کس طرح ذہنی اور جسمانی صحت کو تقویت پہنچاتا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے جو لوگ عموما لطف اندوز ہونے کے لیے پڑھتے ہیں:
ان میں تناؤ اور پژمردگی (ڈپریشن) پیدا ہونے کے امکان کم ہوتا ہے،
ان میں زیادہ خودداری یا خود پسندی ہوتی ہے،
وہ مشکل حالات سے نمٹنے کے زیادہ اہل ہوتے ہیں،
ان کی نیند کا معمول بہتر ہوتا ہے۔
اس میں سات سے نو سال کے بچوں پر مبنی جرمنی میں ہونے والے ایک مطالعے کا بھی ذکر ہے جس میں خواندگی اور جذبات و احساسات کی سمجھ کے درمیان ممکنہ رشتوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں سکول کے بعد بچوں کو جذباتی موضوعات والی بچوں کی کتابیں پڑھ کرسنائی گئیں اور پھر ان پر بات کی گئي۔
اس میں یہ پایا گیا کہ اس سے بچوں کی جذباتی لفظیات، معلومات اور فہم و ادراک میں اضافہ ہوا۔
اس میں یہ بھی پتہ چلا کہ ’لڑکیوں کے مقابلے لڑکے کسی لفظ کے پوشیدہ معانی سے زیادہ مثبت طور پر متاثر ہوئے۔‘
رپورٹ میں کہا گيا: ’ہمیں اپنی شناخت کی فہم و ادراک میں اضافے سے مطالعے کا قریبی تعلق ہے اور یہ دوسروں کے نظریات کو سمجھنے میں بھی بہت اہم رول ادا کر سکتا ہے۔‘
دا ریڈینگ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹیو سو ولکنسن نے کہا کہ رپورٹ کے نتائج بتاتے ہیں کہ ’جب ہم پڑھتے ہیں تو ہرچیز بدل جاتی ہے۔‘