ملیحہ خادم

reading habbitآپ کہیں خالی ہاتھ جائیں اور واپسی پر آپ کے پاس قیمتی انعامات ہوں تو آپ کے احساسات کیا ہوں گے؟ یقیناٌ بہت خوش ہوں گے آپ۔ ایسے ہی کسی خیال کے تحت ہمارے چینلز نے ایسے گیم شوز شروع کئے جہاں لوگوں میں خوب انعامات بانٹے جاتے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ ذہنی آزمائش کے پروگرام ہیں جن میں ’’آئی کیو‘‘ اور ’’جنرل نالج‘‘ کا امتحان ہوتا ہے۔ لیکن صد افسوس کہ اکثر شوز کے شرکاء سیدھے سادے آسان سوالوں کے جواب بھی نہیں دے پاتے کجا دینی معلومات پر مبنی جوابات۔ پچھلے دنوں ایسے ہی ایک پروگرام کے شرکاء قائداعظم کا پیشہ نہ بتاسکے، ایک اور پروگرام میں دیکھا کہ لوگوں کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ اسلام آباد کی بنیاد کس نے رکھی۔ کوئی اسٹیچو آف لبرٹی کو اسلام آباد میں نصب کرواکر شاداں تھا تو کوئی روس کے دارالحکومت کا نام نہ جاننے پر نازاں، حد تو یہ ہے کہ خطبہ الہ آباد کو اکبر الہ آبادی سے منصوب کردیا۔
بیچارے اینکر حضرات کی اِس اپیل کے باوجود کہ براہ کرم کچھ پڑھ کر پروگرام میں شرکت کریں، لوگ انتہائی بھونڈے پن سے غلط جواب دیتے ہیں۔ سارا زور بائیک حاصل کرنے پر ہوتا ہے چاہے رقص ہی کیوں نہ کرنا پڑے، لیکن درست معلومات کی بنیاد پر کوئی بائیک کا حقدار ٹھہرے ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
یہ چند پروگرامز کے شرکاء کی معلومات اور ذہنی صلاحیتوں کا سوال نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی مزاحیہ نکتہ ہے بلکہ یہ ہماری قومی زندگی کا المیہ ہے کیونکہ اکثر ایسے بنیادی سوالوں کے غلط جواب طلباء کی طرف سے آتے ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں اسکول کے ابتدائی سالوں سے لیکر تعلیم کے اختتام تک تقریباً ہر مرحلے پر ہی پڑھائی جاتی ہیں لیکن آج کے طالبعلم کا کتاب و قلم سے رشتہ بس واجبی ہی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو اِس قدر آسان سوالوں کے غلط جواب ہرگز نہیں دیتے۔
غلطی ہمارے تعلیمی نظام میں ہے جہاں طالبعلم کو رٹے مار کر یا نقل کرکے امتحان پاس کرنیکی عادت ہوچکی ہے۔ رہی سہی کسر ’گیس پیپر‘ پوری کردیتا ہے۔ پڑھانے والے کو بھی پتہ ہے کہ بس اتنا پڑھادو اسی میں سے پرچہ آئیگا، پڑھنے ولے کو بھی یقین ہے کہ فلاں ٹاپک اس سال ’امپورٹنٹ‘ نہیں ہے لہذٰا اسے چھیڑا ہی نہ جائے۔ ہوتا بھی یوں ہی ہے پھر کون اضافی معلومات حاصل کرنے کیلئے کورس سے ہٹ کر کچھ پڑھے۔
ایک ایسا ملک جہاں کتاب کلچرکا فقدان ہے، جہاں کتب خانے ویران ہوں وہاں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی ذہنی صلاحیتوں اور معلومات میں اضافہ کرے لیکن کیا کریں کترینہ کیف کی سالگرہ بھی تو منانی ہوتی ہے۔ رہ گئے انٹرٹنمنٹ چینلز تو وہ بیچارے مارننگ شوز کی شادیاں نمٹا نمٹا کر ادھ موئے ہوئے جارہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پی ٹی وی تفریح، معلومات، سیاست، کھیل سب کا ٹائم برابر تقسیم کرکے پروگرام ترتیب دیتا تھا اور ناظرین پر علم وآگہی کے دروازے کُھلے رہتے تھے۔ لیکن آجکل اول تو ایسا کوئی تصور ہے ہی نہیں اور اگر کوشش بھی کی جائے تو لوگ خود اسے بورنگ کہہ کر دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ لیکن سچ تو یہ بھی کہ لوگوں کو خود بھی صرف ہلا گلا اور وقتی تفریح ہی بھاتی ہے اسی لئے مطالعہ کے بجائے سیر سپاٹے کو ترجیح دیتے ہیں نتیجتاً پڑھے لکھے جاہلوں کی ایک کھیپ تیاری کے مراحل میں ہے جو ہم سب کے لیے قطعی طور پر اچھی خبر نہیں ہے۔