quran010ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں قرآن مجید کے قدیم ترین نسخے کی دریافت کے دعوے پر سعودی علماء نے سوالات اٹھادئیے ہیں اور نامور علماء اور دیگرماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی یونیورسٹی کا دعویٰ مشکوک ہے۔
برمنگھم یونیورسٹی کے محققین نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ یونیورسٹی کی لائبریری میں ملنے واے نسخے کی کاربن ڈیٹنگ ٹیکنالوجی سے تحقیق کی گئی ہے جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ اسے 568 سے 645 عیسوی کے دور میں لکھا گیا۔ اس دعوے کے مطابق یہ قرآن مجید کا قدیم ترین نسخہ ہے اور عین ممکن ہے کہ اسے کسی صحابیؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں تحریر کیا ہو۔

نیوز سائٹ arabianbusiness.com کے مطابق سعودی سکالر عبدالستار الحلوجی کا کہنا تھا کہ برطانوی یونیورسٹی کو اس پرت (جو کہ قدیم دور میں تحریر کے لئے استعمال ہونے والی کوئی کھال بتائی گئی ہے) کی تحقیق نہیں کرنی چاہیے تھی کہ جس پر قرآن مجید کو لکھا گیا بلکہ اس روشنائی کی تحقیق کرنی چاہیے تھی کہ جس کے ساتھ پرت پر تحریر لکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ جس پرت پر تحریر لکھی گئی وہ واقعی بہت قدیم ہو لیکن اس پر تحریر بعد کے دور میں لکھی گئی ہو۔

ماہر آثار قدیمہ عدنان الشریف کا کہنا ہے کہ برطانوی یونیورسٹی کا دعویٰ درست نہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے دور میں ابواب کو علیحدہ کرنے کیلئے سرخ روشنائی کا استعمال نہیں کیا جاتا تھا، اور نہ ہی سورتوں کے آغاز میں سرخ روشنائی سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا جاتا تھا، جبکہ اس نسخے میں ابواب کی ترتیب بھی بتائے گئے دور سے مختلف ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس نسخے کا تعلق حضرت عثمانؓ بن عفان کے دور سے ہوسکتا ہے جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے کئی سال بعد خلیفہ بنے۔
سعودی سکالرز کے مطابق برمنگھم یونیورسٹی کی لائبریری میں دریافت ہونے والے نسخے کے متعلق بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں کہ جو ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے دور سے نہیں ہے