Quaid-e-Azam-Libraryچند قدم کے فاصلے پر سفید دلہن کی طرح سجی عمارت تھی۔ یہ قائد اعظم لائبریری ہے۔ اس کا ایک حصہ لارنس گارڈن کے سنگم پر جان لارنس کی یادگار کے طور پر ۶۲۔۱۸۶۱ء میں لارنس ہال کی شکل میں وجود میں آیا۔جان لارنس ۱۸۵۳ء میں صوبہ پنجاب کے پہلے چیف کمشنراور بعد ازاں ۱۸۵۹ء میں پہلے لیفٹیننٹ گورنر بنے۔ وہ پنجاب کے پہلے انتظامی بورڈ کے سربراہ ہنری لارنس کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان ہی خدمات کے صلے میںان کی یادگار کے طورپر لاہور میں لارنس ہال تعمیر ہوا۔اس ہال کا رسمی افتتاح خود جان لارنس نے ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۶۴ء کو کیا تھا جب وہ وائسرائے ہند کی حیثیت سے لاہور کے دورے پرآئے تھے۔ اس کا نقشہ مسٹر سٹون سول انجینئر نے تیار کیا تھا۔ اس میں ایک بڑا کمرہ ساڑھے بتیس فٹ لمبا، ساڑھے تیس فٹ چوڑا اور ۳۳ فٹ اونچا ہے اور فرش لکڑی کا رکھا گیا۔ اس کے مشرق اور مغرب میں ایک ایک چھوٹا کمرہ ہے، پوری عمارت کی لمبائی ۳۵ فٹ ہے۔ تینوں کمروں کی چھت ایک ہی رکھی گئی۔ لارنس ہال کو جلسہ گاہ کے طورپر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہاں ڈرامے بھی سٹیج کیے جاتے تھے۔ مگر اب یہاں ہر طرف کتابیں ہی کتابیں ہیں۔ مونٹ گمری ہال کا نقشہ مسٹر گرڈن سول انجینئر نے تیار کیا تھا۔ روسائے پنجاب نے اس ہال کی تعمیر کے لیے دل کھول کر چندہ دیا اور اس پر ایک لاکھ آٹھ ہزار روپے لاگت آئی۔ ہال کی چھت لالہ میلا رام کی ٹھیکے داری میں تعمیر ہوئی تھی وہ ناقص ثابت ہوئی اور جگہ جگہ دراڑیں پڑ گئیں اس لیے ۱۸۷۵ء میں ایگزیکٹو انجینئر کنہیا لال کی زیر نگرانی اس کی بڑے پیمانے پر مرمت کرانی پڑی اور اس پر ۶۶ ہزار روپے کی کثیر لاگت آئی، اس کے فرش تبدیل کرکے رقص و سرورکے قابل بنا دیا گیا کیوں کہ اگلے برس ۱۸۷۶ء میں پرنس آف ویلز لاہور کے دورے پر آنے والے تھے اور اس ہال کو ان کے شایان شان بنانا بھی مقصود تھا۔ مونٹ گمری ہال کا ایک بڑا کمرہ ۱۰۶ فٹ لمبا، ۴۶ فٹ چوڑا اور ۳۸ فٹ اونچا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بہت بعد تک لارنس اور مونٹ گمری ہال سماجی تقریبات اور دوسری محفلوں کے مراکز رہے۔ یہاں جم خانہ کلب رہا۔ انگریزی دور میں کپلنگ صاحب بھی ٹینس کھیلنے اور چائے پینے یہاں آتے تھے، پھر یہاں سول سروس اکیڈمی بن گئی۔ بالآخر ۱۹۸۱ء میں پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل ( ر) غلام جیلانی نے ان دونوں عمارتوں کو قائداعظم لائبریری میں تبدیل کردیا۔ یہ مرحلہ کس طرح طے ہوا اس کی روداد ائیر کمودڈور ( ر) انعام الحق نے اپنی یادداشتواں ’’ایام رفتہ‘‘ میں بیان کی ہے کہ عمارت کی چھتیں ہر جگہ ٹپکتی تھیں۔ دیواروں کا پلاسٹر اکھڑ چکا تھا، عمارت کی درستگی کے لیے پورے دو سال لگے۔ گلی ہوئی چھتوں کو بدل دیا گیا۔ ترکی سے فانوس منگوائے گئے، تھوڑی بہت کمروں میں تبدیلی ہوئی۔ گورنر جیلانی نے خود بے حد دل چسپی لی۔ کئی دفعہ دورے کیے۔ لاہور میوزیم کے چیئر مین بی اے قریشی اور ماہرین آثار قدیمہ خان ولی اللہ خان نے بھی معاونت کی۔ فرنیچر ڈیزائن کے لیے نیشنل کالج آف آرٹس کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جیسے جیسے قائداعظم لائبریری کے کمرے تیار ہوتے جاتے سامان اور فرنیچر وغیرہ اور کتابیں بھی لگ جاتیں۔ یہ کام مشکل تھا لائبریری میں زیادہ کتابوں کی گنجایش نہ تھی۔ پہلے دس سال کے اندر ۸۵ہزار کتابیں جمع ہوگئیں‘‘۔کچھ لوگوں نے قائد اعظم لائبریری کو کتابوں کے عطیات بھی دیے۔ میاں بشیراحمد جو ترکی میں پاکستان کے سفیر تھے اور ’ہمایوں‘ رسالے کے ایڈیٹر تھے، کافی کتابوں کا ذخیرہ چھوڑ کر وفات پا گئے تھے۔ ان کی صاحب زادی محترمہ رفعت نے کافی کتابیں لائبریری کے لیے عطیہ فرمائیں۔ عبدالحمیدصاحب اور اے یو کلیم کی اہلیہ نے بھی عطیات دیے۔ لائبریری کا باقاعدہ افتتاح ۲۵دسمبر ۱۹۸۴ء کو جنرل ضیاء الحق نے کیا۔ مولانا مالک کاندھلوی نے دعا فرمائی۔ ۱۹۸۵ء میں قائداعظم لائبریری میں ریسرچ سیل بن گیا۔ ڈاکٹر سعدصدیقی اور عبدالرحمن بخاری کا پہلے تقرر ہوا۔ سعد صدیقی نے دو کتابیں حدیث کے موضوع پر لکھیں اور اپنا ڈاکٹریٹ بھی پورا کیا۔ کئی علمی مجالس منعقد کرائیں۔ پھر خالد مسعود،ڈاکٹر اسلم قریشی اور پروفیسر عبدالجبار شاکر بھی آ گئے۔ یہاں علمی و ادبی پروگرام، سیمینار اور کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی رہیں اور اب بھی ہوتی ہیں۔ یکم جنوری ۱۹۸۷ء کو لارنس ہال کو اقبال آڈیٹوریم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ یہیں اکثر پروگرام ہوتے ہیں۔کتب خانوں کا قومی زندگی میں اہم کردار ہوتاہے۔ یہ علم کو محفوظ رکھنے اور اس کی اشاعت کا مرکز ہوتے ہیں۔ یہ کتب خانہ ہی نہیں ایک علمی اور ثقافتی مرکز بھی بنا۔ اس لیے یہاں کتابوں کی نمایشیں ہوئیںاور لوگوں کے لیے لائبریری میں دل چسپی بڑھانے کے لیے مختلف تعلیمی، سماجی ،اقتصادی اور سیاسی موضوعات پر لیکچرز بھی ہوئے۔ جدید وسائل استعمال ہوئے۔ مختلف فلمیں اکٹھی کی گئیں۔ امریکا، پاکستان اور جنوبی ایشیا پر تحقیقاتی مطبوعات کی نقلیں بھی حاصل کی گئیں۔ بیرون ملک سے بھی کتابیں منگوائی گئیں۔ دو سو سے زائد رسالے امریکا، برطانیہ اور اندرون ملک سے آنے شروع ہوئے۔ غیر ممالک سے سکالرز لیکچرز دینے آئے۔ اسلامک آرٹ، طرزِ تعمیر او رصنعت و حرفت پر بھی بہت سی خوب صورت کتابیںجو مغرب میں چھپی تھیں،جمع کی گئیں۔ قائداعظم لائبریری کا انگریزی ادب کا شعبہ نہایت اعلیٰ ہے۔ یہاں مشاعرے بھی منعقد ہوتے رہے جن کی اکثر صدارت احمدندیم قاسمی (مرحوم) نے فرمائی۔ دیگر شعرا میں خالد بزمی، عارف عبدالمتین، کلیم عثمانی، رشید کامل، حفیظ تائب، شہناز مزمل اور سعید بدر وغیرہ شامل ہوتے۔ ہر سال یومِ اقبال اور یومِ غالب کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ ادارہ امور پاکستان کے کئی سیمینار یہاں منعقد ہوئے۔ قائد اعظم لائبریری میں جن ملکی اور غیر ملکی دانش وروں نے لیکچرز دیے ان میں نمایاں نام امریکی دانش ور جومیسے چوسیٹس، راس مسعود حسین، حکیم محمدسعید، کرسٹوفر فرشیکل، ہالینڈ سے جے ایم ایس بلجون، انگلینڈ سے ڈیوک آف گلاسٹر کے ہیں۔مختصراً یہ کہ ماضی کے دو عظیم مونٹ گمری اور لارنس ہالز آج ایک عظیم کتب خانے کی صورت میں مال روڈ اور باغ جناح کے سنگم پر اپنی قدامت اور خوب صورتی کے ساتھ چاروں اطراف سے سرسبز و شاداب لانوں کے درمیان خوب صورت نظارہ دے رہے ہیں… ہم لائبریری کی سیڑھیاں اُترے تو سُرمئی اندھیرا پورے باغ میں پھیل چکا تھا ،مگر پیچھے لائبریری کے اندر علم کے نُور کی روشنی ہر سُو پھیلی ہوئی تھی۔

( کتاب’’ٹھنڈی سڑک:مال روڈ لاہور کا تاریخی ، ثقافتی اور ادبی منظر نامہ‘‘ سے مقتبس)

بشکریہ۔ دنیا نیوز