“Current practices for the preservation of intellectual heritage of Sindh: Problems faced & the way ahead”

yousuf
تحر یر: محمد یو سف علی.ڈپٹی لا ئبر یر ین سندھ مدر ستہ الاسلام یونی ورسٹی کراچی
پاکستان لائبریری ایسو یشن (سندھ برانچ)اور گوئٹے  انسٹی  ٹیوٹ کے اشتراک سے10 دسمبر 2015 کو ایک سیمینار بعنوان’عصر حاضر میں سندھ کے علمی ورثہ کو محفوظ کرنے میں درپیش مسائل اور نمٹنے کا حل’کا انعقاد کیا گیا ۔اس افتتاحی سیشن میں خواجہ مصطفٰی صدرپاکستان لائبریری ایسو یشن (سندھ برانچ) نے کانفرنس کی اہمیت اور اعتراض پر روشنی ڈالی۔ گو تھے انسٹیٹیوٹ کے ڈا ئر یکٹراسٹفین وانکر نے گو تھے انسٹیٹیوٹ کا تعارف اور اپنے ادارے کے مختلف ثقافتی سرگرمیوں خاص کر لائبریری اور لائبریرین کی ٹریننگ اور پروفیشنل سرگرمیوں کے بارے میں ذکر کیا، اور ثقافتی اورعلمی سرگرمیوں کے ذریعے کس طرح جرمن اور پاکستانی عوام ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔
IMG_869اس سیمینار کو موضوع کی مناسبت سے تین سیشن میں ترتیب دیا گیا تھا پہلے نشت کی صدارت جناب غنی الاکرم سبزواری ، لائبریری پروموشن بیورو کے سربراہ پاکستان جرنل آف لائبریری اینڈانفارمیشن سائنس کے ایڈیٹر اور سابق استاد جامعہ کراچی نے کی اس نشست میں دو تحریر مقالہ پڑہے گئے، پہلے مقالے میں جناب غلام مصطفٰی سولنگی نے علاقائی زبانوں میں کام کرنے والے جرمنی اسکالر کے کاموں کے بارے میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، اس خاص طور پر جرمن اسکالر کے علمی کاموں کا بڑا ذکر کیا گیا، ان ارمیڈ شمیل، ایلسا قاضی، کا کام نمایاں ہے جنہوں نے سندھی، فارسی اور اردو زبانوں میں بہت کام کیا، اور مشہور شاعروں اور ادیبوں کے کام جرمن زبانوں میں شائع کیااور دوسرے پیپر میں فائزہ زہر صاحبہ نے مرزا قلیچ بیگ لائبریری حیدرآباد داور مرزا قلیچ بیگ کے ذاتی چار سو قلمی شائع شدہ اور غیر شائع شدہ نسخوں کے بارے میں تفصیلی ذکر کیا۔
دوسری نشست کی صدارت نواز علی شوق سابق شعبہ صدر سندھی ، یونیورسٹی آ ف کراچی نے کی۔ اس نشست میں پہلا پیپر ڈا کٹر خضر حیات نو شا ئی نے سند ھ کی لا ئبریرزامیں پا ئی جا نی والے مختلف مخطو طات کی حالت زار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔دوسر پیپر پروفیسر گل محمد گل بخاری نے سیرت پاک کے قلمی نسخوں کے بارے میں بتایا، اور انہوں نے اپنے مقالے میں اس کا بھی انکشاف کیا کے سندھ بھر میں اس وقت تقریباّ 70000(ستر ہزار) قلمی نسخہ یا مخطو طات موجود ہیں ، جن کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یا تو وہ ضائع ہو رہے ہیں یاپھریہ مخطوطات لوگوں کے ذاتی کتب خانوں سے چوری ہو کر بیرون ملک اسمگلنگ ہورہے ہیں۔

IMG_0866پروگرام کے تیسرے اور آخری نشست میں ریاض خاصخیلی ہیں سندھی زبان میں نیز اشاعت شدہ ببلیوگرافی اور ان کو محفوظ کرنے کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا کامران حضرنوشائی نے ہمدرد یونیورسٹی میں پائے جانے والے زہم قلمی نسخہ کی فہرست کے بارے میں اپنا کام پیش کیا، ڈاکٹر ادریس نے سندھ میں پائے جانے والے نادر کتاب کی حالات زار پر روشنی ڈالی اور ان کو محفوظ بنانے کے حوالے اور ان کے چوریکی روک تھام کے لئے قومی سطع پر کوشش اور ایک ادارہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
محترمہ کنیز فاطمہ نے کراچی یونیورسٹی میں پائے جانے والے آکائیو اور محلقہ قلمی نسخہ کی کیٹلاگ سازی اور محفوظ بنانے کے حوالے سے اپنے پیپر پیش کیا خواجہ مصطفی صا حب نے آرکائیو، میوزم اور لائبریری کے اشتراک پر زور دیا اپنے پیپر کے آخری انٹر نیشنل فیڈریشن لائبریری ایسویشن کے محفوظ بنانے کے لئے ایف  ایل  اے کے صدر کا پیغام سنایا جس میں کسی بھی رجسٹرڈ کوڈ

fla.org/code/9695

پر رجسٹرڈ کے محفوظ بنانے کے طریقہ کو شرکاء کے سا تھ شیر کیا۔

تقریب کے آخر میں محترم انیلاقبال صاحبہ جنہوں نے نظامت کے فرائض بھی انجام دیئے، مہمانوں کا پی  ایل  اےاور گوئٹے  انسٹی  ٹیوٹ کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔اس تقر یب میں تقر یبا ۱۰۰ ( ایک سو) کے قریب لائبریرین اور مخطوطات کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افر اد نے شر کت کی ۔ یہ سیمنا ر حکو متی ادارے کو سند ھ کے علمی ورثہ کی حفا ظت اور ان کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے لائبریرین کی آواز ہے۔