اسد خانislamia college

رخسانہ حبیب ایک قلمی نسخے کا مطالعہ کرنے میں محو ہیں۔ وہ ایک پرجوش محققہ ہیں اور ہر روز اسلامیہ کالج لائبریری میں گھنٹوں قدیم مخطوطوں اورتاریخی موضوعات پر مبنی مواد کا مطالعہ کرنے میں گزار دیتی ہیں۔ اسلامیہ کالج میں سیاسیات کے مضمون کی تدریس سے منسلک رخسانہ نے کہا:’’ پرانی کتابوں کا مطالعہ میرا پسندیدہ مشغلہ ہے اور یہ لائبریری شہر میں وہ واحد جگہ ہے جہاں میں تاریخی موضوعات پر ایک بہترین ماحول میں کتابیں پڑھ سکتی ہوں۔‘‘ رخسانہ کلاس سے فرصت کے لمحات کے دوران شہر کی قدیم ترین اس نیم تاریک لائبریری میں پہنچ جاتی ہیں، وہ کتاب اُدھار پر لینے کے لیے لائبریری کی آن لائن آرکائیوز میں سے اپنے پسندیدہ موضوعات پر مبنی کتب تلاش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا:’’ میں شہراور یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کی لائبریریوں کا رُخ کرچکی ہوں لیکن یہ وہ واحد لائبریری ہے جہاں آپ کسی دوسرے پرانحصار کیے بغیر ڈیجیٹل آرکائیوز میں سے کتابوں کو تلاش کرسکتے ہیں۔‘‘ اسلامیہ کالج کی اس ایک صدی قدیم لائبریری کو 2015ء میں ڈیجیٹل کیا گیا اور اب 90ہزار کتابیں اور 1261تاریخی مخطوطے طالب علموںا ور اساتذہ کے کی پیڈ کے ایک کلک پردستیاب ہیں۔پشاور کے اسلامیہ کالج کی بنیاد 1913ء میں رکھی گئی جس سے صوبے، جو برطانوی راج کے متحدہ ہندوستان میں شمال مغربی سرحدی صوبے کے نام سے موسوم تھا، میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ مذکورہ لائبریری کی اپنی ایک منفرد شناخت ہے۔یہ صوبہ خیبرپختونخوا کا قدیم ترین کتب خانہ ہے جس میں سینکڑوں برس قدیم اورنایاب کتابوں اور مخطوطوں کا ذخیرہ محفوظ ہے جس سے کتب بین استفادہ کرسکتے ہیں۔ یہ شہر کی سب سے بڑی لائبریری ہے۔ لائبریری کی عمارت دو بڑے ہالز اور ان سے متصل نو کمروں پر مشتمل ہے۔ 1972ء میں لائبریری میں ایک ہال اور چارمزید کمرے شامل کیے گئے۔لائبریرین تحسین اللہ خان نے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا کی اولین لائبریری ہے جس نے ہزاروں نایاب کتابوں کو سکین کرکے آن لائن ڈیجیٹل آرکائیوز کی ان کے مکمل متن کے ساتھ طالب علموں کے لیے دستیابی یقینی بنائی ہے۔انہوں نے مزید کہا’’آن لائن سسٹم رواں برس شروع کیا گیا جس نے طالب علموں کے لیے کتابوں کی تلاش انتہائی آسان بنا دی ہے۔ کوئی بھی صرف مائوس کی ایک کلک کے ذریعے اپنی پسند کی کتاب تلاش کرسکتا ہے۔‘‘ ابتدائی طور پر لائبریری سے کتابوں کی تلاش اور ان کے حصول کی اجازت صرف اسلامیہ کالج کے طالب علموں اور عملے کو حاصل ہے لیکن کچھ عرصہ بعد ہر خاص و عام کو یہ سہولت استعمال کرنے کی اجازت فراہم کر دی جائے گی۔تحسین اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامیہ کالج کے طالب علم یا صرف اساتذہ ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے کتب بین لائبریری کی ویب سائٹ کا وزٹ کرکے اس کے آن لائن آرکائیوز سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ لائبریری میں طلبا و طالبات کے لیے دو الگ الگ کمپیوٹر لیبارٹریاںبھی قائم کی گئی ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت ہمہ وقت دستیاب رہتی ہے تاکہ طالب علموں کو نہ صرف کتابیں تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ وہ ان کا مطالعہ بھی کرسکیں۔لائبریری کے کئی شعبۂ جات ہیں جن میں علومِ شرقیہ، اخبارات و جرائد وغیرہ اور تاریخی و نایاب کتابیں محفوظ کی گئی ہیں لیکن ان میں ’’ ادبی شہ پاروں کا خزانہ‘‘ سب سے مقبول ہے۔ لائبریری کے ’’عمومی‘‘ سیکشن میں انگریزی کتب کا ذخیرہ دستیاب ہے تو علومِ شرقیہ کے شعبہ میں اُردو زبان کی مطبوعات سے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔اخبارات، جرائد، تحقیقی جرنل اور نیوزلیٹرز ’’اخبارات و جرائد‘‘ کے شعبہ میں دستیاب ہیں۔ لیکن لائبریری کا سب سے نایاب اور تاریخی ذخیرہ جیسا کہ قدیم مخطوطے، نقشہ جات، تصاویر، قائداعظم محمد علی جناح کی تقاریر کے متن اور دیگر نادر تاریخی مواد مختلف زبانوں ، جن میں عربی، فارسی، پشتو، ہندکو اور اُردو شامل ہیں، ’’ ادبی شہ پاروں کے خزانے‘‘ کے شعبہ میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اسلامیہ کالج میں زیرِتعلیم بیچلرز آف آرٹس (بی اے) کے طالب علم خان زمان نے کہا کہ لائبریری میں اس سہولت کے فراہم کیے جانے کے باعث طالب علموں کے لیے کتابوں کو آن لائن تلاش کرناانتہائی آسان ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا:’’ طالب علم اب نہ صرف کتابیں اُدھار پر لے سکتے ہیں بلکہ ان کا آن لائن مطالعہ بھی کرسکتے ہیں۔‘‘ اسلامیہ کالج پشاور کی لائبریری کی ایک بنیادی کشش اس میں محفوظ مخطوطوں کا ذخیرہ ہے۔خان زمان نے مزید کہا:’’ یہ تاریخی کتابیں ہیں جو ہزاروں برس قبل ہاتھ سے تحریر کی گئیں۔ ان میں سے کچھ انتہائی نایاب ہیں اور یورپ و امریکہ کی لائبریروں تک میں دستیاب نہیں ہیں۔‘‘ہاتھ سے لکھے گئے مخطوطے مختلف موضوعات پر مبنی ہیں جن میں کیمیا، طبیعات، ریاضی، مذہب اور علمِ فلک شناسی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ لائبریری میں محفوظ قدیم ترین مخطوطہ ’’کتاب الافغانی ‘‘ ہے جس کے مصنف ابوالفرح علی بن حسین اصفہانی ہیں۔ یہ تقریباً12سو برس قبل تخلیق کی گئی۔اس کتاب کے چار ابواب ہیں۔ بابِ اول میں سوانح عمریاں، دوسرے باب میں طبیعات، تیسرے میں عربی صرف و نحو اور چوتھے میں عربی زبان کی شاعری پر مبنی موضوعات شامل ہے۔ لائبریرین نے کہا کہ لائبریری میں متنوع موضوعات پر مختلف زبانوں میں مجموعی طور پر 1261قدیم مخطوطے محفوظ کیے گئے ہیں جن میںسے 946عربی، 310فارسی، چار پشتو اور ایک پنجابی میں ہے۔ لائبریری میں میوزیم کا ایک الگ شعبہ بھی قائم کیا گیاہے جس میں قدیم و تاریخی تصاویر اور کالج کے بانی سر صاحب زادہ عبدالقیوم خان سے منسلک اشیا کا ایک لازوال ذخیرہ محفوظ کیا گیا ہے۔تصاویر کی گیلری میں اسلامیہ کالج پشاور کے اُس عہد کی تصاویر نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں جب یہ 1913ء میں تعمیر ہوا جن میں قائداعظم، کالج کے طالب علموں اور سرصاحب زادہ عبدالقیوم کو اسلامیہ کالج کاافتتاح کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ میوزیم میں ایک وزیٹر بک رکھی گئی ہے جس میں نمایاں مہمانوں اور میوزیم کا دورہ کرنے والے کتب بین لائبریری کے بارے میں اپنے تاثرات کا اندراج کرتے ہیں۔ رجسٹر میں پاکستان کے اولین گورنر جنرل کے ان کے ہاتھ سے لکھے گئے تاثرات بھی درج ہیں جو لائبریری کے لیے ایک اثاثہ ہونے کے ساتھ ہی وزیٹرز کی مستقل دلچسپی کا باعث بھی ہیں۔ پی ایچ ڈی سکالر ذیشان انور ، جو تحقیق کی غرض سے لائبریری آتے رہتے ہیں، نے کہا کہ لائبریری انتظامیہ کی جانب سے ان کی ان کے موضوع سے متعلق قدیم اور نئی کتابوں تک رسائی ممکن بنائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع ’’ خواتین کا سیاست میں کردار ‘‘ ہے اوروہ اکثر و بیش تر لائبریری میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ذیشان انور نے مزید سد خانکہا:’’میں اپنے موضوع سے متعلق آن لائن کتابیں تلاش کرتا ہوں اور بعدازاں لائبریری سے حاصل کر لیتا ہوں۔وہ کتابیں جو آن لائن دستیاب نہ ہوں تو لائبریری سے اُدھار لے لیتا ہوں۔‘‘

(بہ شکریہ: نیوز لینز پاکستان)