0اسلام آباد ( 14مئی 2015ء) نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں موجود دفاتر میں اب مکمل علمی فضا دکھائی دیتی ہے۔ این بی ایف کی مطبوعات کا معیار بلند اور قیمتیں بہت کم رکھی گئی ہیں تاکہ عام آدمی اور طلبہ کی جیب برداشت کر سکے۔ این بی ایف اب واقعتا ملک کی سب سے بڑی بُک انڈسٹری بن چکا ہے۔ سیل کے کمپیوٹرائزڈنظام اور جدید میکنزم کی وجہ سے کتب کی سیل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم انقلاب بذریعہ کتاب کے سلوگن کو لے کر مفید، معیاری اور ارزاں قیمت ’’کتابیں گھر کی دہلیزپر‘‘کے عزم کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔این بی ایف کتابوں کا حب بن چکاہے ۔یہ باتیں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر انعام الحق جاوید نے چھٹے قومی کتاب میلے کے حوالے سے اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کتاب میلہ میں ہماری توقع سے کہیں زیادہ کامیابی ملی۔ انہوں نے کہا کہ بُک ریڈنگ میں کبھی کمی نہیںآئی بلکہ جب تک یہ دُنیا قائم ہے ،کتاب سے محبت کرنے والے بھی موجود ہیں۔ اس سال میلے کے پانچ دنوں میں پونے تین کروڑ روپے کی کتب فروخت ہوئیں جو ایک حوصلہ افزا ریکارڈ ہے۔لوگ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں مگر اچھی کتاب تک اُن کی دسترس کے مسائل ہیں۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن اس طرح کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے بُکس آن وہیلز کے منصوبے اور ریڈرز بُک کلب کے تحت 55فی صد پُر کشش ڈسکاؤنٹ کے ساتھ امّید کے سفر پر گامزن ہے