زاہدہ حنا، اصغر ندیم سید، سحر انصاری، شہناز شیخ، قیصرہ علوی ، انور شعور اور حمید شاہد نے ریڈنگ میں حصہ لیا
unnamed (3)
اسلام آباد (25 اپریل 2015) نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر میں چھٹا پانچ روزہ قومی کتاب میلہ اختتامی مرحلے میں ہے۔ میلے کے چوتھے روز دُنیائے ظرافت کے نامور رائٹر، کالم نگار اور شاعر عطاء الحق قاسمی کی صدارت میں اُردو بُک ریڈنگ سیشن ہوا جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے بُک ایمبیسیڈرز ، سکالرز، رائٹرز، شعراء اور سکولوں کالجوں کے طلبہ و اساتذہ سمیت بڑی تعداد میں بُک لورز نے شرکت کی۔ عطاء الحق قاسمی نے پہلے اپنی کتاب سے افسانہ سنایا جسے حاضرین نے بہت سراہا، بعدازاں انہوں نے اپنے مشہورِ زمانہ ’’فرضی سفرنامہ‘‘ سے منتخب حصّے پیش کیے۔ شرکائے تقریب عطاء الحق قاسمی کے شگفتہ، شوخ، سدابہار، تیکھے اور فکر انگیز جملے سن کر لوٹ پوٹ ہو گئے، بعض جُملے حاضرین نے فرمائش کر کے دوبارہ سنے۔ حاضرین نے اُن کے دلنشیں اندازِ بیان پر بھی دل کھول کر داد دی۔ نظامت محبوب ظفر نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ہمیشہ رہنے والی اور زندہ تحریروں کو پڑھ کر اور سن کر نئی نسل کو کتاب کے قریب ہونے کی رغبت ملتی ہے۔
اُردو بُک ریڈنگ سیشن میں زاہدہ حنا نے ’’کُم کُم آرام سے ہے‘‘ محمد حمید شاہد نے افسانہ ’’تھوتھن بھنورا‘‘ اور پروفیسر قیصرہ علوی نے عربی شاعرہ ہدیٰ النعمانی کی نظم کے اُردو ترجمے پڑھے ۔ بُک ریڈنگ سیشن میں ٹی وی آرٹسٹ شہناز شیخ،( تنہائیاں فیم )نے صوفی تبسم کی بچوں کی مشہور نظم ’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ کی اپنے دلچسپ لہجے میں ریڈنگ کی۔ اسی سیشن میں انور شعور اور سحرانصاری نے غزلیں اور ڈراما نگار اصغر ندیم سیّد نے نظمیں سنائیں۔
شرکاء نے تاثرات میں کہا کہ اس انداز کے اُردو بُک ریڈنگ سیشن کے ذریعے کتاب سے محبت و رغبت کا پیغام عام ہو گا۔