Bookاسلام آباد(۹مارچ ۲۰۱۵ء)خاکہ نگاری ادب کی ایک دلچسپ صنفِ سخن ہے جس میں کسی بھی ممدوح کے بارے میں لکھتے ہوئے ، اُس شخصیت کے اوصاف، علمی کمالات اور اس کی سوچ بھی ضبطِ تحریر میں آ جاتی ہے جب کہ اُس شخصیت کے عہد کا سماجی منظر نامہ بھی تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی زبانوں میں خاکہ نگاری کی بہت مثالیں ملتی ہیں تاہم پاکستان کی ایک اہم زبان سرائیکی میں عبدالباسط بھٹی کی خاکوں کی خوبصورت کتاب ’’سانول سلونے‘‘ جسے نامور پبلشر جھوک نے شائع کیا ہے ، سرائیکی خاکہ نگاری کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ ہے ، یہ کتاب اپنے موضوع کے حوالے سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ شعروادب، صحافت اور علم و دانش کے 25نامور لوگوں پر مصنف نے بڑی گہرائی ، لطیف مشاہدے اور نہایت شگفتہ پیرائے میں خاکے لکھے ہیں ، یوں کہ وہ شخصیت پڑھنے والے کو اپنی برسوں کی جانی پہچانی شخصیت محسوس ہونے لگتی ہے ۔ عبدالباسط بھٹی متعدد کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی اس تازہ تصنیف میں جن شخصیات کے قلمی چہرے لکھتے ہیں ان میں سفیر لاشاری ، جاوید چانڈیو، شوکت مغل ، ذوالفقار علی بھٹی ، راحت بانو ، حفیظ خان، مظفر بخاری ، رفعت عباس، محبوب تابش، شمیم عارف قریشی، محمد خالد خان ، افضل مسعود ، علمدار بخاری، صابر چشتی، سلیمان سہو، مقبول گیلانی ، عاشق بزدار، جاوید اختر بھٹی، اسلم رسول پوری، عبداللطیف بھٹی، اسلم رسول پوری، عبداللطیف بھٹی، مجاہد جتوئی، دلنور نور پوری، ظہور دھریجہ ، محمود مہے اور الطاف خان ڈاہر شامل ہیں۔