unnamedاسلام آباد( 6اگست2015ء) نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے 1972میں قیام کے وقت بُک کلچر اور عاداتِ مطالعہ کا فروغ اس ادارے کا بنیادی مقصد و منشور تھا۔ آج بھی اسی اساسی مقصد کی تکمیل کے لیے این بی ایف درجنوں منصوبے متعارف کرا چکا ہے اور اب ملک بھر میں ’’بُک ریوولیوشن‘‘ کی طرف سفر تیزی سے جاری ہے۔ این بی ایف نے کچھ عرصہ قبل انٹر یونیورسٹی کنسورشیم میں شاململک کی30بڑی یونیورسٹیوں کے ساتھ ایک ایم او یو سائن کیا۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن ملک کی بڑی یونیورسٹیوں میں ’’ یونیورسٹی بُک کلب‘‘ کاقیام عمل میں لا رہا ہے جو فروغِ کتب بینی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان خیالات کا اظہار این بی ایف کے مینیجنگ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے ڈاکٹر خورشید یوسف کی سربراہی میں کامسیٹس کے 40افسران پر مشتمل وفد کے این بی ایف کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انھوں نے شرکاء کو این بی ایف کی تیزی سے شائع ہونے والی کتب، موضوعات و معیارات، ریڈرز کلب کی اہمیت و افادیت، نیشنل بُک میوزیم، بُک پارک، شہرِ کتاب، بُکس آن ویلز، مائی بُک شیلف، بُک ٹاور، ای بُک اور ملک بھر میں این بی ایف کی بُک شاپس پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہاکہ کتاب کی اہمیت میں کمی نہیں بلکہ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کتاب کمپیوٹر کو اور کمپیوٹر کتاب کو سپورٹ کرتاہے۔ کتاب نصاب بھی ہے، علم بھی ہے، دانش بھی ہے اور کائنات کا راز بھی ہے۔ این بی ایف حکومتی سر پرستی میں چلنے والی ملک کی سب سے بڑی بُک انڈسٹری بن چکی ہے۔ قبل ازیں وفد کے شرکاء کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر خورشید یوسف نے بتایا کہ اس وفد میں ایبٹ آباد اور لاہور کے افسران شامل ہیں جو ان دنوں ٹریننگ کورس کر رہے ہیں اور این بی ایف کا دورہ ان کے اسی تربیتی کورس کا ایک اہم حصہ ہے ۔ این بی ایف کے بُک ایمبیسیڈر مرتضےٰ نور نے این بی ایف کی یونیورسٹیوں میں بُک پروموشن کا ذکر کیا جب کہ سیکرٹری این بی ایف آفتاب سومرو نے’’ بُک والنٹیرز‘‘کے آئیڈیے پر روشنی ڈالی اور شرکاء کو بھر پور شرکت کی دعوت دی۔ وفد نے مرکزی بُک شاپ میں وقت گزارا اور اپنی پسند کی کتب رعایتی نرخوں پر خریدیں۔ شرکاء نے نیشنل بُک میوزیم میں رکھے گئے مشاہیر کے مجسموں اور خاص طور پر سینکڑوں سال قدیمی قرآنِ پاک کے نادرونایاب قلمی نسخوں پر خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے تاثرات میں لکھا کہ یہ بُک میوزیم علم اور تاریخی نوادرات کی ایک لاجواب دُنیا ہے۔ مہمانوں نے’’ وال آف آنر‘‘ کو پسند کیاجہاں اُن اہلِ علم کی تصاویر لگائی گئی ہیں جن کے نام سے محکمہ ڈاک نے ٹکٹیں جاری کیں ۔ مہمانوں نے مجموعی طور پر این بی ایف کی مجموعی ترقی اور بُک کلچر کے لیے ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور اُن کے عملے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ گفتگو کے دوران سوال جواب سیشن میں شرکاء نے نہایت مفید تجاویز دیں جن کا ایم ڈی این بی ایف نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ این بی ایف کو آپ جیسے لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔