انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ سنہ 1951 میں قائم ہوا۔ اتنے برسوں میں یہاں صرف 3,000 تصاویر سکین کی گئیں

 

بی بی سی اردو۔ تاریخ کے حقائق تک پہنچنا عموماً تحقیق کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ کوئی یہ جاننا چاہے کہ کیا بانی پاکستان محمد علی جناح کی موت واقعی طبعی تھی؟ پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب میں انھوں نے کیسے پاکستان کا ذکر تھا؟ یا پھر یہ کہ صدیوں پہلے کا برصغیر کن قوموں کا مسکن تھا؟ تو ایسے تمام تاریخی حقائق تک پہنچنے کا واحد راستہ تاریخی دستاویزات ہوتی ہیں جو لائبریریوں اور آرکائیوز میں محفوظ ہوتی ہیں۔

پاکستان میں علم کی جستجو ملک بھر کے تحقیق کاروں کو اسلام آباد کے نیشنل آرکائیوز تک لے آتی ہے جو دارالحکومت کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے ریڈ زون میں واقع ہے۔

وہاں جانے کا اتفاق ہوا تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ اتنے اہم ادارے کے پاس قیمتی اور نادر دستاویزات کے تحفظ اور بحالی کے لیے سالانہ بجٹ صرف 13 لاکھ روپے ہے۔

بجٹ اور عملے کی کمی کے باعث یہاں موجود ریکارڈ ضائع ہو رہا ہے: منیر چوہدری

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل منیر چوہدری نے بتایا کہ بجٹ اور عملے کی کمی کے باعث یہاں موجود ریکارڈ ضائع ہو رہا ہے۔

’قیمتی دستاویزات اور نایاب تصاویر کے تحفظ اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ہمارے پاس 13 لاکھ روپے سالانہ کا بجٹ ہوتا ہے۔ یعنی تقریباً ایک لاکھ ماہانہ۔ تو یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب تک ارباب اختیار اس پر نہیں سوچیں گے یہ کام نہیں ہو پائےگا۔ ہم اپنے تاریخی خزانے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔‘

نیشنل آرکائیوز میں پرانے اخبارات، رسائل و جرائد، آّڈیو ویڈیو ریکارڈ کے ساتھ ساتھ نایاب کتب کا بھی ایک خزانہ موجود ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہاں ایک بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ماہر نہیں اور نہ ہی موجود عملہ تربیت یافتہ ہے۔

ادارے کے سابق ڈی جی حبیب احمد، ملک کے واحد آرکائیوسٹ ہیں جنھوں نے اس شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے اداروں کی اشد ضرورت ہے جہاں آرکائیوز کی حفاظت اور بحالی کی باقائدہ تعلیم دی جائے۔

عملے کے افراد ایک بوسیدہ دستاویز کو شفاف کاغذوں کے بیچ رکھ کر استری کی مدد سے محفوظ کرتے ہیں

نیشنل آرکائیوز کے ایک خاص حصے میں مغلیہ عہد کے شاہی فرمان رکھے ہیں جن میں بہادر شاہ ظفر کے دستخط سے جاری ہونے والا ایک فرمان بھی شامل ہے۔

ایک دوسرے حصے کو قائد اعظم پیپرز کا نام دیا گیا ہے جہاں بانی پاکستان محمد علی جناح اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کے پاسپورٹ، ذاتی ڈائریاں، تصاویر اور دیگر اہم دستاویزات موجود ہیں۔

شعبے کے انچارج نے بتایا ’یہاں قائد اعظم پیپرز کی1365 فائلیں اور 3,000 تصاویر موجود ہیں۔‘

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ سنہ 1951 میں قائم ہوا۔ اتنے برسوں میں یہاں صرف 3,000 تصاویر سکین کی گئیں۔

ڈی جی آرکائیوز کہتے ہیں کہ کچھ ماہ قبل یہاں پہلی بار سکیننگ یونٹ بنا جس کی مدد سے مذید 15,000 تصاویر سکین کیں۔ مگر تمام دستاویزات کو سکین کرنے میں صدیاں لگیں گی۔

نیشنل آرکائیوز کے ایک حصے کو قائد اعظم پیپرز کا نام دیا گیا ہے جہاں بانی پاکستان محمد علی جناح اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کے پاسپورٹ، ذاتی ڈائریاں، تصاویر اور دیگر اہم دستاویزات موجود ہیں

نیشنل آرکائیوز میں پرانے اخبارات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ دیکھا۔ وسیع ہال میں فائل در فائل رکھے ان اخبارات میں سے متعدد کو انتہائی بوسیدہ پایا۔

ڈی جی آرکائیوز نے بتایا کہ ایسے اخبارات کو سکین کرنا بھی ممکن نہیں اب صرف کیمرے کی آنکھ ہی انہیں محفوظ کر سکتی ہے مگر اس کے لیے ادارے کے پاس فنڈز نہیں۔

’بار بار التجا کر چکے ہیں کہ بجٹ کو بڑھایا جائے مگر حکومت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہم ابھی اس میں شامل نہیں ہیں۔ میری خواہش ہے کہ اس کی شنوائی ہو اور اس قیمتی اثاثے کو بچانے کی کوشش کی جائے۔‘

چھپن سالہ ثمینہ سلطانہ گذشتہ 30 برسوں سے نیشنل آرکائیوز میں سے وابستہ ہیں اور بیمار کاغذوں کا علاج کرتی ہیں تاکہ وہ لمبے عرصے تک کام آ سکیں۔

انھوں نے بتایا ’قیمتی دستاویزات کی مرہم پٹی کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ اگر کاغذ بہت مخدوش حالت میں ہوں تو دن بھر میں مشکل سے ایک ہی کا علاج ہو پاتا ہے۔‘

میں نے وہاں عملے کے کچھ لوگوں کو ایک بوسیدہ دستاویز کو شفاف کاغذوں کے بیچ رکھ کر استری کی مدد سے محفوظ کرتے بھی دیکھا۔

نیشنل آرکائیوز میں ملک بھر سے طلبہ، صحافی، ادیب اساتذہ سبھی تاریخ کا کھوج لگانے آتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ محقیقن سے ملاقات ہوئی اور ان کے شکوے شکایتیں سنیں۔

38 سالہ ارباب عدنان نے کہا کہ ریڈ زون میں نیشنل آرکائیوز تک پہنچنا بہت دشوار ہوتا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں محققین کو انٹرنیٹ کے ذریعے ضروری مواد تک رسائی ملنی چاہیے۔