Haris azharتاریخ کے ہر دور میں انسان نے اپنی عقل اور شعور کا استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ آگے کی طرف سفر برقرار رکھا ہے۔ غاروں میں رہنے والوں نے بھی اپنی کھوج اور پہچان کی خاطر خوابوں کے ساحلوں پر کھڑے ہوکر تعبیر کے دریاؤں کو عبور کیا ہے۔ یہ جذبہ آج بھی موجود ہے کہ انسان ہر وقت اس کائنات کے انگنت رازوں پر سے پردہ اٹھا رہا ہے اور اس جہد مسلسل کی شمع تھامے ہوئے آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں انسان سوچنے ، سمجھنے ، جاننے ، پانے اور لکھنے کی عظیم کاوشوں سے گزرا ہے ۔ آج بھی ہم کئی ہزار سال پہلے کی لکھی ہوئی چیزوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ آج کی نسلوں کو ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے اس کائنات کو اپنے اپنے انداز سے دیکھا اور اس کو ایک تحریری شکل عطا کر دی۔ ان عظیم خیالات کو کٹھن مراحل سے گزرنا پڑا اور بہت عرصے کی جدو جہد کے بعد یہ ایک کتاب کی صورت میں پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جب ہم آج کی دنیا کا جائزہ لیتے ہیں تو شکر کا سانس لیتے ہیں کہ آج انٹر نیٹ کے دور میں صرف ایک کلک پر ہر موضوع کے اوپر سینکڑوں معلوماتی صفحے کھل جاتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ چیزیں حاصل کرتے وقت ہمیں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جن کی انتھک محنت کی بدولت ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں اور یہ سفر اب بھی جاری ہے۔
اس صدی کو بہت سے لوگوں نے کتاب کی صدی کہا ہے لیکن جب ہم مسلم معاشروں کا جائزہ لیتے ہیں تو صورت حال انتہائی مخدوش دکھائی دیتی ہے ۔ ویسے تو مسلم معاشروں نے پچھلی کئی دہائیوں میں کسی بھی شعبے میں کوئی بڑا آدمی پیدا نہیں کیالیکن کتاب کے حوالے سے تو صورت حال انتہائی شرمناک ہے ۔ مختلف خلیجی ریاستوں میں جانے کا اتفاق ہوااور یہ دیکھا کہ وہاں صرف اس بات کی دوڑ ہے کہ کون اپنے ملک میں پیسے کی بدولت زیادہ پیسہ کھینچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور سوچ وہاں پروان نہیں چڑھ رہی۔ اس کے بہت سے سبب ہو سکتے ہیں لیکن بنیادی سبب یہی ہے کہ آمرانہ طرزِ حکومت کے باعث ایک عام آدمی بھی کتاب سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ مسلم معاشرو میں صدیوں سے علم دوستی سے چھٹکارا حاصل کرلیا گیا ہے۔ یہاں کے اہل مذہب اور اربابِ اختیار نے یہ سوچ پیوست کردی ہے کہ ہمارا ماضی شاندار تھا اور ایک دن ہمارا مستقبل تابناک ہوجائے گا۔ یہ ایک زہرِ مسلسل ہے جس کو اب بھی تریاقِ بنا کر مسلم معاشروں میں ہر سطح پر پلایا جارہا ہے۔

               لاہور سے نیویارک جاتے ہوئے پین ایم کی فلائٹ ریاض میں رکتی تھی ۔اس سفر کے دوران میں نے اس فلائٹ پر موجود تمام غیر ملکیوں کے ہاتھوں میں یا تو اخبار دیکھا یا کوئی کتاب اور وہ ساتھ ساتھ نوٹس لے رہے وتے تھے۔ بہت دفعہ خلیجی ممالک میں سفر بھی کیا اور ہمیشہ حیران رہا کہ ائیر ہوسٹس جب اخبارات پیش کرتی تھیں تو 200 میں سے صرف 5یا 6اخبار بین ہی میسر آئے۔ ہمارے ہاں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے ۔ جو لوگ معاشی مجبوریوں سے آزاد ہیں ان میں بھی کتاب سے کوئی رشتہ نہیں ہے بلکہ وہ اس کو کوئی گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں گھروں میں بھی غیر نصابی کتب کے مطالعے کے شوق یا سوچ کو اجاگر نہیں کیا جاتااور یہ مقبول نصیحت کی جاتی ہے کہ بس نصابی کتابوں پر دھیان دو، غیر نصابی کتاب کو ہاتھ بھی نہ لگاؤ ورنہ ان سے دماغ خراب ہوجائے گا۔ حیرت ہے جس چیز کے مطالعہ سے ذہن زرخیز ، سوچ وسیع اور علم و آگہی کے نئے دریچے کھلتے ہیں، اس پر یہاں پابندی ہے۔ مغرب اور یورپ کی ترقی میں کتاب کا عمل دخل ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ کتابوں کی اشاعت انہی ملکوں میں ہوتی ہے ۔ یورپ کے چھوٹے سے ملک آئس لینڈ میں ہر دس میں سے ایک آدمی کتاب شائع کرتا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک میں ہر سال اتنی زیادہ تعداد میں کتب شائع ہوتی ہے جو مسلم ممالک میں پچھلی کئی دہائیوں سے نہیں ہوئی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ جن قوموں نے علم، آگہی اور سوچ پر پہرے نہیں بٹھائے وہ مسلسل ترقی کی طرف گامزن ہیں۔ ساری دریافتوں اور ایجادات کے سوتے وہیں سے پھوٹتے ہیں جبکہ دوسری طرف علم دشمنی اور کتاب سے دوری کے نتائج سامنے ہیں۔ کم از کم ہمیں اپنے حال کو درست کرنا چاہیے۔ کتاب سے استفادہ کرنا چاہیے کیونکہ کتاب دوستی سے ہمارے لئے نئی فکر کے دروازے کھلیں گے، سوچ کی کرنیں ہمارے ہاں بسیرا کریں گی اور ہمارے ذہنوں پر صدیوں کے ماضی پرست قفل کھل سکیں گے۔

Courtesy: http://dunyapakistan.com/