سلمان بشیر

image could not load

چیچہ وطنی کی بلدیہ لائبریری کی ڈھائی ہزار سے زائد کتابوں کی ’رہائی‘ کی امید پیدا ہوئی ہے۔

ٹی ایم اے کے افسروں نے پچھے دس سال سے انہیں ایک سٹور میں بند کر رکھا تھا۔ درجنوں کتابیں دیمک نے ’چاٹ‘ لی ہیں۔

تحصیل چیچہ وطنی میں بلدیہ کی لائبریری کا قیام 60ء کی دہائی سے بھی پہلے عمل میں آیا تھا۔ تب بلدیہ کی لائبریری کالج روڈ پر موجود راحت پارک میں بنائی گئی تھی۔

لائبریری کی کوئی اپنی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے یہ دربدر ہوتی رہی۔

سماجی کارکن مقصود احمد سندھو اپنی بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 70ء کی دہائی میں بڑے بڑے درختوں کے درمیان راحت پارک کے مرکز میں واقع بلڈنگ میں بلدیہ کی لائبریری موجود تھی۔

تب راحت پارک کے پُر سکون ماحول میں کئی طالب علم کتب پڑھتے نظر آتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 86- 1985ء میں لائبریری فائر بریگیڈ کے دفتر میں منتقل کر دی گئی، کچھ عرصے بعد اسے ٹی ایم اے کی عمارت میں گیٹ کے ساتھ ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔

ڈھائی سال تک لائبریری اسی ایک کمرے میں موجود رہی۔ 2005ء میں یہ کمرہ نادرہ آفس کو دے دیا گیا اور کتابیں بلدیہ کے سٹور میں پھینک دی گئیں۔

’افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بلدیہ کے کسی ایڈمنسٹریٹر یا تحصیل کونسل کے منتخب ارکان نے لائبریری کی تباہی پر کسی قسم کے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ کسی سیاسی، سماجی یا فلاحی تنظیم کی طرف سے لائبریری کے لیے کوئی صدائے احتجاج بلند کی گئی۔‘

مقصود احمد کہتے ہیں کہ بلدیہ لائبریری کی بحالی کی خاطر انہوں نے 2011ء میں ساہیوال کے ڈی سی او وقاص محمود سے ایک وفد کے ہمراہ ملاقات کی، لیکن ان کی طرف سے لائبریری کی بحالی کے لیے جاری کردہ احکامات ان کے تبادلے کی وجہ سے ردی کی ٹوکری کی زینت ہو گئے۔

محمد معاویہ عزیز ٹی ایم اے چیچہ وطنی میں ریکارڈ کیپر ہیں۔ انہیں چند روز قبل سٹور میں پڑی کتابوں کا چارج دے کر بلدیہ کے ایک کمرے میں لائبریری قائم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

لائبریرین کی مستقل اسامی کا نہ ہونا لائبریری کی بندش کی بڑی وجہ ہے۔ جب لائبریرین ہی نہیں ہو گا تو مزید کتب کون منگوائے گا؟

انہوں نے بتایا کہ سٹور میں دو ہزار 374 اردو کتب، 263 انگریزی کتب، 338 رسالہ جات اور 143 گفٹ بکس موجود ہیں ان میں سے 86 کتابیں دیمک کی وجہ سے ضائع ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ محفوظ اور بچ جانے والی کتب کو لائبریری کی شکل دینے کے لیے وہ  ُپرعزم ہیں۔

’چند روز میں بلدیہ ریکارڈ روم میں لائبریری بحال ہو جائے گی۔‘

رانا مختار احمد بلدیہ کی لائبریری کے سابق انچارج ہیں اور وہ سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بلدیہ کی لائبریری کے لائبریرین کی اسامی موجود نہیں ہے، اس لیے غیر متعلقہ مختلف افراد کو اس کا چارج دے دیا جاتا ہے۔

’لائبریرین کی مستقل اسامی کا نہ ہونا لائبریری کی بندش کی بڑی وجہ ہے کیونکہ جب لائبریرین ہی نہیں ہو گا تو مزید کتب کون منگوائے گا؟‘

مختار احمد کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کیپر کو لائبریری کا چارج دینا نامناسب ہے کیونکہ نہ تو ان کے پاس کوئی لائبریری چلانے کا تجربہ ہے اور نہ ہی ان کے ذہن میں اسے چلانے کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی موجود ہے۔

چیچہ وطنی شہر کے رہائشی محمد زکریا پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحصیل چیچہ وطنی کی آبادی 10 لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جہاں ایک اچھی اور بڑی لائبریری کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

’چیچہ وطنی میں لائبریری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اور دیگر کتاب دوست لوگوں کو ساہیوال جانا پڑتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ انٹر نیٹ کے ذریعے بہت سی کتابوں تک رسائی ہو جاتی ہے اس کے باوجود لائبریریوں کی افادیت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انٹرنیٹ ہر شخص نہیں جانتا۔

محمد زکریا کہتے ہیں کہ راحت پارک کی عمارت جو کسی کنٹین کو ٹھیکہ پر دی گئی ہے وہاں پر لائبریری بحال کر کے اعلیٰ اور معیاری کتب کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

محمد حارث اکرام گورنمنٹ مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔ وہ بلدیہ لائبریری کے خاتمہ کو ایک المیہ قرار دیتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ بلدیہ لائبریری میں اخبارات کا مطالعہ کرنے والے لوگ ان کے لڑکپن کی یادداشت میں ابھی تک محفوظ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں انٹر نیٹ کی سہولت کے باوجود کتاب کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ اس لیے ہمیں بھی کتب بینی کو فروغ دینا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ بلدیہ کے سٹور روم کے طور پر استعمال ہونے والی عمارت میں کئی کمرے موجود ہیں۔ ان کمروں کی حالت بہتر بنا کر وہاں بھی لائبریری بنائی جا سکتی ہے۔

ٹی ایم او محمد زبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے چند ماہ قبل اپنے عہدہ کا چارج سنبھالا ہے اور فی الحال بلدیاتی انتخابات میں مصروف ہیں۔

ٹی ایم اے ترجمان کا کہنا ہے کہ بلدیہ کی لائبریری کی بحالی ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے۔ لوکل گورنمنٹ الیکشن سے فارغ ہو کر لائبریری کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Courtesy: sujag.org