جرمنی کی ایک انتہائی اہم لائبریری میں موجود ہاتھ سے لکھے گئے قرآن کے ایک ایسے نسخے کی باقیات کے حوالے سے ثابت ہو گیا ہے کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کا یہ نسخہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے صرف قریب بیس سال بعد لکھا گیا تھا۔جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ نسخہ دنیا بھر میں قرآن کے باریک چمڑے کی تہوں پر ہاتھ سے لکھے گئے قدیم ترین نسخوں میں سے ایک ہے، جو برلن ہی میں قائم محققین کی طرف سے تعلیمی، تاریخی اور تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کی جانے والی

Prussian Staatsbibliothek

یا پروشیا کی ریاستی لائبریری میں محفوظ ہے۔برلن میں قائم اس پروشیائی اسٹیٹ لائبریری نے بتایا ہے کہ اس کے پاس یہ انتہائی قدیم قرآنی نسخہ مکمل حالت میں موجود نہیں بلکہ اس کے صرف سات پتلے پتلے صفحات ہیں جو دراصل چمڑے کے بہت باریک پارچے ہیں۔

11121676_10205729140640322_1332381999_n

ان پارچوں کے بارے میں تازہ ترین ریسرچ اور جدید ذرائع سے کیے جانے والے سائنسی معائنوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ قرآنی نسخہ سن 606ء اور 652ءکے درمیانی عرصے میں چمڑے پر ہاتھ سے لکھا گیا تھا۔اس طرح یہ سات صفحات اب تک دستیاب اور قرآن کے ہاتھ سے لکھے گئے ان قدیم ترین نسخوں میں سے ایک کا حصہ ہیں، جو پیغمبرﷺِ اسلام کی رحلت کے زیادہ سے زیادہ بھی محض 20 بعد سال بعد لکھا گیا تھا۔ عیسوی کیلنڈر کی رو سے پیغمبرِ اسلام کی پیدائش 571 عیسوی میں مکہ میں ہوئی تھی اور ا ن کی رحلت سن 632ء میں مدینہ میں ہوئی تھی۔ڈی پی اے کے مطابق برلن کی پروشین اسٹیٹ لائبریری کے اعلٰی ذرائع نے جرمن اخبار مَیرکیشے الگمائنے سائٹ انگ کو بتایا کہ قرآن کے اس انتہائی قدیم دستی نسخے کے یہ صفحات ایک ایسے جرمن عالم کی ملکیت تھے، جو 19 ویں صدی کے آخری اور 20 ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں مصری دارالحکومت قاہرہ میں تحقیق کے لیے مقیم تھا۔

برلن کے اس تاریخی کتب خانے کے ذرائع کے مطابق قاہرہ میں قدیم علوم کے ماہر اس جرمن محقق کی موت کے بعد اس کی ملکیت دستاویزات اس لائبریری نے خرید لی تھیں۔ٹمبکٹو کے قدیم اسلامی کتب خانوں میں موجود نادر قلمی نسخوں (فوٹو)کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی برلن کی اسی لائبریری میں ہوئی تھی ٹمبکٹو کے قدیم اسلامی کتب خانوں میں موجود نادر قلمی نسخوں (فوٹو)کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی برلن کی اسی لائبریری میں ہوئی تھی ابھی حال ہی میں ممکنہ طور پر قریب 1400 سو سال پرانے ان صفحات کو تفصیلی معائنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں زیورخ یونیورسٹی کی ایک لیبارٹری میں بھیجا گیا، جہاں ریڈیو کاربن ٹیسٹوں کی مدد سے ان صفحات کی عمر کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی۔لائبریری کے ذرائع نے اخبار مَیرکیشے الگمائنے سائٹ انگ کو بتایا، ”ریڈیو کاربن معائنوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ سات قرآنی صفحات جس نسخے کا حصہ تھے، وہ 606ءاور 652ءکے درمیانی عرصے میں لکھا گیا تھا، یعنی زیادہ سے زیادہ بھی پیغمبرﷺاسلام کی رحلت کے صرف 20 سال بعد۔“گزشتہ برس جرمنی ہی میں ٹی وبِنگن یونیورسٹی کی لائبریری نے بھی اپنے ہاں محفوظ ان 77 صفحات کا ریڈیو کاربن معائنہ کرایا تھا جو کبھی قرآن کے ہاتھ سے لکھے گئے ایک بہت قدیم نسخے کا حصہ تھے۔

اس نسخے کے بارے میں بھی یہ پتہ چلا تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ پیغمبر اسلام کی دنیا سے رخصتی کے 20 سے لے کر 40 سال بعد تک کے عرصے میں کسی وقت لکھا گیا تھا۔ ٹی وبِنگن یونیورسٹی کی لائبریری کے پاس موجود قرآن کا یہ جزوی نسخہ اس کتب خانے کی ویب سائٹ پر آن لائن دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔