آج اردو زبان کے منفرد اورنامورمصنف سعادت حسن منٹو کی 103 ویں سالگرہ ہے۔ منٹو کا بیباک اندازِ تحریراور معاشرے کی منافقانہ روش سے بغاوت ان کی وجۂ شہرت بنا۔

‎ اردو زبان میں مختصر کہانیوں اور جدید افسانے کے منفرد اور بے بیباک مصنف11 مئی کو 1912 پنجاب ہندوستان کےضلع لدھیانہ کے شہر شملہ میں پیدا ہوئے۔ کشمیری نسل کا ایک خوبصورت فیشن ایبل صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنے والا مخصوص سنہری فریم کا چشمہ لگانے والا ادباء میں نمایاں شخصیت کا مالک انتہائی کسمپرسی کے حال میں دوستوں سے محرومی اور دشمنوں کے نرغے میں گہرا ہوا شخص 18 جنوری 1955 کو تینتالیس سال کی عمر میں اس دارِفانی سے کوچ کرگیا۔

‎ منٹو کاقلم مخصوص طورپرتحلیلِ نفسی یا ذہنی ہیجانات اور فطرتِ انسانی کے امتزاج کی عکّاسی کرنےوالا ایک ایسا نادر نمونہ تھا جس نے اسے شہرت کے ساتھ ساتھ ذلت و رسوائی سے بھی دوچارکیا۔ معاشرے کو اسکی اپنی ہی تصویر دکھانے والے عکّاس کو اس کی بے ساختگی پرجو تازیانے کھانے پڑے وہ ایک انمٹ داستان ہے لیکن اس بات سے کسی کو انحراف نہیں ہے کہ چھوٹے افسانوی نشتروں سے معاشرے کے پھوڑوں کی چیرہ دستی یا علاج کرنے والا یہ افسانہ نگار بیسویں صدی کی سب سے زیادہ متنازع فیہ شخصیت کا اعزاز یافتہ مصنف تھا جس نے طوائفوں پر دلالوں پر اورانسانی فطرت پرقلم اٹھایا جس کا مقابلہ ڈی ایچ لارنس سے کیا جاسکتا ہے اورڈی ایچ لارنس کی طرح منٹو نے بھی ان موضوعات کو مخصوص طور پرابھارا جو ہندوپاک کی سوسائٹی میں معاشرتی طور پرگناہ تصوّر کئے جاتے تھے اس کے مضامین کا دائرہ معاشرتی تقسیمِ زر کی لاقانونیت اور تقسیمِ ہند سے قبل انسانی حقوق کی پامالی ریا اورمزید متنازع فیہ موضوعات پرکھل کر قلم طراز ہوتارہا جن پرکئی بار انہیں عدالت کے کٹہرے تک بھی جانا پڑا مگرقانون انہیں کبھی سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیج سکا۔

منٹو کاہمیشہ یہی کہنا رہا کہ ’’میں معاشرے کے ڈھکے ہوئے یا پس پردہ گناہوں کی نقاب کشائی کرتا ہوں جو معاشرے کے ان داتاؤں کے غضب کا سبب بنتے ہیں اگر میری تحریر گھناونی ہے تو وہ معاشرہ جس میں آپ لوگ جی رہے ہیں وہ بھی گھناونا ہے کہ میری کہانیاں اُسی پردہ پوش معاشرے کی عکّاس ہیں ،منٹو کی کہانیاں اکثر مِزاح کے پہلو میں معاشرتی ڈھانچے کی پیچیدگیوں کی تضحیک کرتی محسوس ہوتی ہیں‘‘۔

ان کے تحریر کردہ افسانوں میں چغد، سیاہ حاشیے، لاؤڈ اسپیکر، ٹھنڈا گوشت، کھول دو، گنجے فرشتے، شکاری عورتیں، نمرود کی خدائی، کالی شلوار اوریزید بے پناہ مقبول ہیں

‎ اپنی عمر کے آخری سات سالوں میں منٹو دی مال لاہورپرواقع بلڈنگ دیال سنگھ منشن میں مقیم رہے۔ جہاں اپنی زندگی کا آخری دور منٹو نے انتہائی افسوسناک گزارا۔ سستی شراب کے بے پناہ استعمال سے ان کا جگر بے حد متاثر ہوچکا تھا اور آخر 18 جنوری1955 کی ایک سرد صبح اہلِ لاہور نے بلکہ ہند و پاک کے تمام اہلِ ادب نے یہ خبر سنی کہ اردوادب کوتاریخی افسانے اور کہانیاں دینے والا منٹو خود تاریخ بن گیا۔

سعادت حسن منٹو کی پچاسویں برسی پر حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی یاد میں پانچ روپے مالیت کا ڈاک ٹکٹ شائع کیا۔

Cortesy: http://www.arynews.tv/