hafiza hamnah khan

کہتے ہیں کتا بیں انسان کی سب سے اچھی دوست ہو تی ہیں ۔جو کبھی دھوکا نہیں دیتی ۔ ۔ہنسنا ،رونا اور غم کو خو شی میں تبدیل کرنا ، چہر ے پر خو شی بکھیر نا، آنکھوں میں آنسو لانا ،دل میں سوئے ہو ئے ا حسا سات کو جگانا ان سے بہتر کو ئی نہیں جا نتا۔۔ بس یہ ھمیشہ اسی بات کی منتظر رہتی ہیں کہ کوئی ان سے دوستی کرےأ یہ دو سرے دو ستوں کی طر ح کو ئی فر ما ئش نہیں کر تی بلکہ یہ اپنے دوستوں کو علم اور شعور کی دولت سے مالا مال کردیتی ہیں۔ یعنی دوستی نبھا ناکوئی ان سے سیکھے ۔اور یہ با ت بھی بالکل سچ ہے کہ جن قو موں نے کتا بوں کو اپنا دوست بنایا تو کتابوں نے بھی اپنی وفا داری کی مثا ل قا ئم کی اور آج وہ قو میں تر قی کی بلند یوں پر ہیں۔
ہم اکیسوی صدی میں زند گی گز ار رہے ہیں ۔ہما رے لئے اس صد ی میں اسمارٹ موبا ئل فو نز انتہا ئی اہم تر ین جدت ہے ۔آدھے سے زیا دہ پا کستا نی طا لبعلم اس ایجا د سے بھر پور لطف اندو ز ہو رہے ہیں ۔ان تمام ایجا دات نے ہمارے طلباء کو کتا بوں سے کو سوں دور کر دیا ہے۔ کتا بوں کی وہ لگن جو آج سے پہلے طلبہ کے دلوں میں زندہ تھی آج وہ کہی کھو سی گئی ہے ۔جا معہ کرا چی میں ڈ اکٹر محمود حسین لا بئر یر ی کا کچھ یہی حا ل ہے ۔ یہ لا ئبر یر ی کراچی کی مرکزی اور بنیادی لائبریری ہے۔۱۹۵۲ ؁ میں اس وقت وجود میں آئی جب کراچی یونیورسٹی کا قیام ہوا تھا۔موجودہ ڈھانچہ ،اگر چہ ۱۹۶۴ ؁ میں تعمیر کیا گیا۔کائبریری کا نام ۱۹۷۶ ؁ میں سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود حسین کی خدمات کے اعتراف میں ان کی پہلی برسی پر نامزد کیا گیا۔سابق وا ئس چانسلر ڈاکٹر محمود حسین ۱۲ اپریل ۱۹۷۶ ؁ کو اس فانی دنیا سے رحلت کرگئے۔
ڈاکٹر محمود حسین لائبریری کراچی یونیورسٹی میں بہت ہی خاص اور اہم مقام رکھتی ہے۔لائبریری پانچ منزلوں پر مشتمل ہے۔جس میں مختلف شعبے ہیں۔پہلی منزل پر ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ۱۰۴ مینو اسکرپٹ جمع ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پہلی منزل پر مسلم لیگ کا ریکارڈ سیکشن اور قائد اعظم سیکشن موجود ہے۔سیکشن کے ساتھ قائداعظم کی ذاتی کتابوں کا مجموعہ بھی موجود ہے اور وہ تمام اخبارات جو پاکستان کے قیام کے وقت موجود تھے ان کی رپورٹس موجود ہیں۔جدید کمپیوٹر لیب بھی پہلی منزل پر بنائی گئی ہے۔اسی طرح تیسری منزل پر اخبارات کا خزانہ بنڈل کی شکل میں فرش پر بھکرا ہوا ر زرد پیلے رنگ کی مٹی میں اٹا ہوا نظر آتا ہے ۔اسی طرح جن کتابوں کو ہمیں پڑھنے کے ساتھ سمبھال کر رکھنا چاہیے وہ کتابیں مختلف کمروں میں فرش پر بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔لائبریری کی حیثیت بڑھانے کے لئے پانچویں منزل پر اقوام متحدہ کی دستاویزات کے سیکشن موجود ہیں جو کہ انتظامیہ کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
(لائبریریاں خیالات کے آزاد بہاؤکوبرقرار رکھنے میں اضافہ اور علم بڑھانے کے لئے ضروری ہیں)
طلبہ وطالبات کے مطالعہ کے لئے لائبریری میںیہ بارہ پڑھنے کے کمرے بنائے گئے ہیں۔جن میں سے چھ جنرل مطالعہ کے کمرے ہیں اور باقی ریسرچرزکے لئے بنائے گئے ہیں۔ڈاکٹر محمود حسین لائبریری کا کل حجم تقریباََ ۴۰۰۰۰۰کے لگ بھگ ہے۔جس میں ۳۳۷۴۴۴ کتابیں ،۴۰۰۰۰ جرنل، ۶۱۵۰ مائکرو فلم،۵۰۰۰ ریسرچ رپورٹ،۲۰۰۰۰ دستاویز اور رپورٹس اور ۳۱۰۰۰ وہ کتابیں ہیں جو خاص طور پر ریسرچرزکی جمع کی گئی ہیں۔اس لائبریری میں ۱۵۰۰۰۰ کے قریب اخبارات موجاد ہیں بہت سی ۱۶۰۰ صدی کی کتابیں موجود ہیں جوکہ اس لائبریری کی شان بڑھانے میں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔
لائبریری کے پہلے اسسٹنٹ لائبریریں عبدالمعید تھے ۔ڈاکٹر محمود حسین لائبریری چیف لائبریریں مسسز راشدہ امان کی زیرنگرانی کام سرانجام وے رہا ہے۔اس لائبریری میں ایک سرکولیشن کا شعبہ بنایا گیا ہے جس کا کام طالب علموں کی ہر طرح سے مدد کرنا ہیں۔لائبریری اسٹاف میں دس اسسٹنٹ لائبریریں ۔پچیس لائبریری اسپیشلسٹ اور ایک سو کے قریب غیر پیشہ ور ملازم شامل ہیں۔بلاآخر لائبریریاں کسی بھی معاشرے میں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا تعلیمی سرگرمیوں کے لئے ضروری ہے اور پڑھے لکھے معاشرے کے لئے اس سے بڑا خزانہ کچھ بھی نہیں ہے۔یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے اور فنڈز کی کمی کیوجہ سے یہ تمام تر مجموعہ تباہ ہوجائے گا۔اس لائبریری ایسی ایسی کتابیں موجود ہیں جو پاکستان کے قیام کے بعد سے آج تک کسی نے مطالعہ تو دور کی بات دیکھی بھی نہیں ہونگی۔
اس کے علا وہ نوجوا ن نسل اپنا قیمیے وقت ا نٹر نیٹ اور گمیز میں ضا ئع کر دیتے ہے ۔ اور جا معات کے طلبہ کتا بوں کو تلا ش کر کے پڑ ھنے سے بہتر گو گل کر نے کو تر جیح دیتے ہے۔جس کی وجہ سے جا معہ کی لا ئبر یر ی سنسان پڑی ر ہتی ہے۔

یہ میر ی کتاب حیا ت ہے
ایسے دل کی آنکھ سے پڑ ھ ذرا
میں ورق ورق تیر ے سا منے
تیر ے روبرو تیرے پا س ہو

راؤ باسط علی/حافظہ حمنہ خان/عا ئشہ منہا ج، کراچی