این بی ایف کے زیر اہتمام ملک غلام مصطفی تبسم کی کتاب ’’ماں‘‘ شائع ہو گئی
maa
اسلام آباد (21اکتوبر 2015ء) نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی ہر نئی شائع ہونے والی کتاب نہ صرف اعلیٰ و معیاری اور حیرت انگیز طور پر کم قیمت کی وجہ سے شائقینِ کتب کی بھر پور توجہ سمیٹ رہی ہے بلکہ کتاب موضوع کے اعتبار سے بھی اہمیت و افادیت کی حامل ہوتی ہے۔ این بی ایف کے زیر اہتمام ملک غلام مصطفی تبسم کی 95 صفحات کی کتاب’’ماں‘‘ بھی اسی قبیل کی اشاعت میں ایک اہم اضافہ ہے جس کی قیمت 100 روپے ہے جسے ریڈرز کلب کے ممبران 55 فی صد ڈسکاؤنٹ پر صرف 45 روپے میں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب میں ماں کی عظمت کو قرآن پاک، اقوال نبویؐ ، مسلم مفکرین، غیر مسلم دانشوروں کی آراء، چند تاریخی اور مثالی ماؤں کے کردار اور احوال سمیت وہ سب اہم اور بڑی باتیں شامل ہیں جو ہر نسل کے نوجوانوں کی اخلاقی اور فکری تربیت کے لیے رہنما کا درجہ رکھتی ہیں۔ اس کتاب میں ماں کے تقدس و عظمت کے حوالے سے سنہری باتیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے قاری خدا سے ہم کلام ہو ۔ یہ کتاب نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی ایک اہم پیشکش ہے۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی اہم علمی و تحقیقی کتاب’’ پنجابی ادب دا ارتقاء‘‘ شائع ہو گئی
punjabi
اسلام آباد (21اکتوبر2015ء)نامور محقق و مصنف ، سکالر اور 50 سے زائد کتب کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی اہم علمی وتحقیقی اور ادبی کتاب’’ پنجابی ادب دا ارتقاء‘‘ کا نظر ثانی شدہ تازہ ایڈیشن الفیصل ناشران لاہور کے زیر اہتمام پُر کشش سرورق اور عالمی معیار کی طباعت کے ساتھ شائع ہو گیا ہے۔ 565صفحات کی کتاب کی قیمت 600 روپے ہے۔ انتساب ڈاکٹر وحید قریشی اور ڈاکٹر شہباز ملک کے نام ہے اور مصنف لکھتے ہیں کہ ان شخصیات سے انہوں نے تحقیق کے گُر سیکھے۔ بیک ٹائٹل پر ڈاکٹر محمد افضل، ڈاکٹر محمد اجمل، شریف کنجاہی، اشفاق احمد، ڈاکٹر محمد بشیر گورایا، محمد منشا یاد، ڈاکٹر گوہر نو شاہی، ڈاکٹر عصمت اللہ زاہد اور سجاد حیدر کی منتخب آراء شامل ہیں۔ یہ کتاب بالخصوص پنجابی تحقیق کے طلبہ کے لیے علم و معلومات کے ایک وسیع جہان کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاویدجو نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں، نے بڑی عرق ریزی اور نظر کی گہرائی کے ساتھ 1947 ء سے 2003 ء تک کے پنجابی ادب کی تمام اصناف کا تدریسی و تحقیقی انداز سے احاطہ کیا ہے۔ وسیع موضوع کی وجہ سے یہ کتاب ہر دور میں علم وا دب اور تحقیق کے طلبہ و اساتذہ اور شائقین کے لیے توجہ کا مرکز رہی ہے۔