پہلی لٹل فری لائبریری ہڈسن وسکونسن میں ٹوڈبول نے شروع کی جو ایک دم مقبول ہو گئی یہ خیال سبھی نے پسند کیا۔ ٹوڈنے لکڑی کا ایک بکس تیار کرایا جس کی بناوٹ کسی اسکول جیسی تھی۔ اس نے یہ بکس اپنے لان میں ایک چھوٹے سے بانس پر لگوا دیا ٹوڈ نے یہ لٹل فری لائبریری اپنی ماں کی یاد میں شروع کی تھی جو کتابوں سے بہت محبت کرتی تھیں اور ایک سکول ٹیچر تھیں اس کے بعد بول نے یہ آئیڈیا اپنے پارٹنررک بروکس کے ساتھ شیئر کیا جس نے اس کے فروغ کے لئے دل و جان سے کام کرنا شروع کیا۔ رک بروکس کی محنت رنگ لائی اور جلد ہی لٹل فری لائبریری عام لوگوں اور خاص طور سے بچوں میں مقبو ل ہونے لگی اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے شروع کرنا بہت آسان تھا۔ لائبریری کے مالکان خود اپنے لائبریری بکس تخلیق کر سکتے تھے یہ بکس عام طور سے گڑیا کے ایک چھوٹے سے گھر کے برابر ہوتاہے۔ ایسی لٹل فری لائبریری کے اوپر یہ عبارت لکھی ہوتی ہے:’’ٹیک اے بک لیوا ے بک ‘‘ یعنی ایک کتاب دیجیے اور ایک کتاب لیجیے‘‘ فروری2013ء تک ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تمام پچاس ریاستوں اور دنیا بھر کے چالیس ملکوں نے اس تعلیمی پروگرام کو پسند کر کے اختیار کرلیا ہے ان بھی مقامات پر لٹل فری لائبریریز نہ صرف قائم ہیں بلکہ بڑی تن دہی سے کام کررہی ہیں۔
لائبریری پروگرام

Little_Free_Library,_Easthampton_MA
اس پروگرام کا بنیادی مقصد اس طرح کی 2150 چھوٹی لائبریریاں قائم کرنا تھا۔ یہ تعداد اینڈریو کارنیج کی قائم کردہ لائبریریوں کی تعداد سے بھی بڑھ گئی۔ دنیا بھر کے ملکوں میں جنوری2013ء تک پانچ سے چھ ہزار کے درمیان لٹل فری لائبریریاں کام کررہی تھیں جن میں ایک تخمینے کے مطابق2010ء اور2013ء کے درمیان1650000کتابوں کا مفت لین دین کیاگیا۔ ویسے تو لٹل فری لائبریری کا آئیڈیا دیہی مقامات کے لئے دیاگیا تھا جہاں لائبریریاں بہت کم ہوتی ہیں مگر یہ شہروں او رقصبوں میں بھی بہت مقبول ہوا لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا خاص طورسے ان مقامات میں یہ لائبریریاں بہت چلیں جو حال ہی میں کسی قدرتی یا ناگہانی آفت کی زد میں آئے تھے۔ ایسی جگہوں کے بچے عارضی طورپر تعلیم و تربیت کی سہولتوں سے محروم تھے لٹل فری لائبریری نے ان کی اس محرومی کو دور کیا اور اس طرح تعلیم سے ان کا رشتہ جڑا رہا۔2010ء کے آخر میں امریکی ریاست وسکونسن کے گاؤں وائٹ فش بے میں اس لائبریری پر اعتراض کیاگیا اور وہاں لٹل فری لائبریری کے پراجیکٹ کو چلانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ وہاں موجود ایک لٹل فری لائبریری کو بھی ہٹانے کا حکم دے دیاگیا۔ اس گاؤں کے ٹرسٹیوں کا کہنا تھا کہ گاؤں کے ایک آرڈینینس کے مطابق گھروں کے بیرونی صحن میں ہر طرح کے ڈھانچے کی تعمیر منع ہے۔ یہ ٹرسٹی ایک اور بات پر بھی پریشان تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی لٹل فری لائبریری میں اگر کسی شخص نے قابل اعتراض یا غیر اخلاقی کتابیں رکھ دیں تو اس سے علاقے میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگست2013ء میں گاؤں نے خصوصی طورپر ایک نیا آرڈی ننس منظور کیا جس کے تحت لٹل فری لائبریری کے لکڑی کے بکس پرائیویٹ پراپرٹی میں رکھنے کی اجازت دیدی گئی تھی۔ اس طرح اس گاؤں کے لوگوں کو اور خاص طورسے بچوں کو لٹل فری لائبریری سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔2010ء کے موسم گرما تک ٹوڈبول کا مشن اور اس کے مقاصد واضح ہوتے چلے گئے۔ اسی سال اس نے پہلی لائبریری قائم کی۔ اصل اور اوریجنل ماڈلز ری سائیکلڈ میٹریل سے تعمیر کئے گئے تھے ہر ماڈل یکتا اور منفرد تھا۔ لیکن ان کا تھیم یا عنوان ایک اور مشترک تھا یعنی کتابوں کا تبادلہ یا لین دین کرنا اور لوگوں کو کسی مثبت مقصد کے لئے ایک جگہ جمع کرنا۔
لٹل فری لائبریری کا مشن

pic3
تعلیم و تدریس کا فروغ اور ان لائبریریوں کے ذریعے لوگوں میں مطالعے کی محبت بیدار کرنا اور دنیا بھر میں کتابوں کے مفت تبادلے کو ممکن بنانا۔* مشترکہ سوچ مہارتوں تخلیقات اور عقل و دانش کے ذریعے دنیا بھر کی نسلوں کی فکری آبیاری کرنا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ لٹل فری لائبریری قائم کرنے کے لئے نہ توکوئی سرمایہ تھا۔ نہ عمارت نہ کسی طرح کا آفس تھا اور نہ ہی تن خواہ دار اسٹاف موجود تھا۔ سب کچھ ایک سوچ کے ذریعے پروان چڑھ رہا تھا اور لوگ اس منفرد خیال کی طرف کھینچے چلے آ رہے تھے۔ ایک فرد سے دوسرے فرد تک ایک برادری سے دوسری برادری تک ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور ایک شہر سے دوسرے شہر تک یہ تصور پھیلتا چلاگیا اور لوگوں میں فوراً ہی مقبولیت حاصل کرتا چلاگیا ہزاروں کتابیں اس لٹل فری لائبریری کے ذریعے مطالعے کے شوقین افراد تک پہنچ چکی ہیں۔ اس طرح تعلیم کا عمل مسلسل فروغ پا رہا ہے۔پہلی باقاعدہ لٹل فری لائبریری ہڈسن کے باہر سائیکل چلانے والے راستے پر قائم ہوئی۔ یہ راستہ ایک آرٹ گیلری اور کیفے زوما کے عقب میں میڈیسن کی مشرقی سمت میں واقع تھا۔ یہ 2010ء کا موسم گرما تھا۔ ستمبر میں ولی اسٹریٹ فیئر لگتا تھا اس میلے کا وقت آنے تک ہزاروں افراد اس لائبریری پر دیکھے گئے۔ مزید لائبریریوں کے تعمیر و قیام کے لئے فنڈز درکار تھے۔ اس ضمن میں دیہی کیشٹن(وسکونسن) کے ہنری ملرنامی ایک پرجوش کارپینٹر نے ابتدائی طورپر اپنی خدمات رضاکارانہ طورپر پیش کر دیں۔ اس نے سوسال پرانے ایک اناج گودا م کی لکڑی لے کر اپنا کام شروع کیا جو ایک طوفان بادوباراں میں تباہ ہوگیا تھا اس کے ساتھ ہی ایک فرد سے دوسرے فرد تک اس فری لٹل لائبریری کا پیغام عام ہوتا چلاگیا۔ لوگوں نے اس میں کشش محسوس کی اور اس کے اطراف جمع ہونے لگے۔کچھ لوگوں کو تو یہ آئیڈیا اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے اپنے گھروں کے قریب آزادانہ طورپر ایک ایسی فری لٹل لائبریریز قائم کرنا شروع کر دیں۔ یہ اس انوکھی لائبریری کا سحر ہی تھا جس نے بے شمار رضاکار اس کام میں معاونت کے لئے فراہم کر دیے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اس کے لئے چھوٹے موٹے عطیات بھی فراہم کر دئیے اور کچھ نے تو غیر رسمی شراکت داریاں اور اتحاد بھی قائم کر دئیے جس سے فری لٹل لائبریری کی مہم میں تیزی آ گئی اور یہ لائبریریاں عصر حاضر کے مطابق خود کو اپ گریڈ کرنے لگیں۔ باقی سارا کام خود ہی ہوتا چلاگیا اس کے چرچے دنیا بھر کے اخبارات میں بھی ہوئے اور بلاگزپر بھی اس کی باتیں کی گئیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے بھی فری لٹل لائبریری کے پیغام کو عام کیاگیا۔

Little-Free-Library-1
2011ء میں مقام یٗ علاقائی اور قومی ذرائع ابلاغ نے اس طرف توجہ کی جس کے نتیجے میں یہ ایک تحریک بن گئی۔ اس سال کے اختتام تک لگ بھگ400 فری لٹل لائبریریاں امریکہ بھر میں قائم ہو گئیں۔ اس کے بانی جانتے تھے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جب اس مہم یا تحریک کو ایک رسمی اور آزاد تنظیم کا روپ اختیار کر لینا چاہئے۔ مئی2012ء میں فری لٹل لائبریری باقاعدہ طورپر وسکونسن کی ایک غیر سرکاری تنظیم بن گئی جس کا ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی ہے۔ ستمبر میں انٹرنل ریونیو سرو س نے اس این جی او کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ جنوری2016ء تک رجسٹرڈ فری لٹل لائبریریوں کی مجموعی تعداد کا اندازہ 25ہزار کے درمیان لگایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ہزاروں مزید تعمیر کی جا رہی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہے گااور فری لٹل لائبریریوں کے ذریعے علم کے ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوتا چلاجائے گا۔

Courtesy: http://javedch.com/