تحریر: سلمان بشیر

library011بیسویں صدی کی آخری دہائی میں چیچہ وطنی شہر کی آبادی 80 ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور 10 کمرشل لائبریریاں موجود تھیں۔آج جب شہر کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق سوا لاکھ نفوس سے زائد پر مشتمل ہے تو ان دس میں سے زیادہ تر لائبریریاں اپنا وجود کھو چکی ہیں‘ ایک جوس کارنر اور چار سٹیشنری شاپس میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کتب بینی کے کم ہوتے ہوئے رجحان کی بڑی وجوہات میں کیبل، انٹرنیٹ اور موبائل فونز کی بھرمار اور نئی نسل کی دلچسپیوں میں تبدیلی ہے۔ معروف ماہر تعلیم اور ادبی شخصیت پروفیسر منیر ابنِ رزمی کا کہنا ہے کہ نئی نسل کتاب سے بے گانہ ہو کر اپنی تہذیب، ثقافت اور عظیم روایات سے نا آشنا ہو رہی ہے اور مسلسل ذہنی اور فکری انحطاط کا شکار ہے۔ ڈگریاں تو مل رہی ہیں لیکن تعلیم کا معیار پست ہو رہا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں لائبریری کا لازمی پیریڈ رکھ کر کتب بینی کو فروغ دیا جائے۔ کمرشل لائبریریوں کے زوال کی بڑی وجوہات میں جہاں جدید ذرائع ابلاغ کا کردارنمایاں رہا ہے تو وہاں کتب کی قیمتوں میں اضافہ اور اعلیٰ ادب کی تخلیق میں مسلسل کمی بھی اس کی اہم وجوہات ہیں۔ 80 اور 90 کی دہائی میں لائبریری قائم کرنے والے طارق غوری نے بتایا کہ2005ء تک ان کے قارئین کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور روزانہ 100 سے زائد افراد مختلف کتب اور رسائل جاری کرواتے تھے۔اب جس دن 10 سے 12 افراد کتابیں یا رسائل اپنے نام جاری کروائیں‘وہ کاروباری نقطۂ نظر سے بہتر دن تصور ہوتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے نئی کتب خریدنا بند کر دیں ہیں اور ماہانہ ڈائجسٹ ہی آمدنی کا واحد ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ پنجاب لائبریری بلاک نمبر 10 کے مالک امجد کے مطابق آج کتابوں کا مطالعہ کرنے والے افراد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ سکول وکالج جانے والی لڑکیاں اپنے فارغ اوقات میں خواتین کے ڈائجسٹ اور ان ڈائجسٹوں میں سلسلہ وار چھپنے والی کہانیوں کے کتابی سلسلے پڑھتی ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ اعلیٰ ادبی کتب پڑھنے کا رواج نہ پہلے کچھ زیادہ تھا، نہ آج لوگوں کی ترجیحات میں ایسی کتب شامل ہیں۔ زاہد کے مطابق 90ء کی دہائی میں ان کے قارئین کی تعدادسینکڑوں میں تھی جو عمران سیریز اورڈائجسٹوں کے سلسلوں کے علاوہ تاریخی، رومانی ، اصلاحی، نفسیاتی اور سائنس ڈائجسٹوں کے ساتھ ساتھ شاعری اور ادبی کتب زوق و شوق سے پڑھتے تھے لیکن آج انٹرنیٹ اور موبائل نے لائبریریوں کی افادیت کم ہی نہیں کی بلکہ تقریباًختم کر دی ہے۔ بلاک نمبر 18 میں واقع سلمان لائبریری کے منیجر عثمان یوسف کے مطابق اب ای کتب عام ہیں جب کہ نئی نسل کے مشاغل میں کتب بینی شامل نہیں ہے۔ بدلتے سماجی رویوں نے افراد کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔

Courtesy: http://m.dunya.com.pk/