تحصیل جڑانوالا کی واحد سرکاری لائبریری پچھلے کئی سالوں سے عملہ کی غیر موجودگی، کتابوں کی عدم دستیابی، سہولیات کے فقدان اور ارباب اختیار کی عدم توجہ کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔ سرکاری لائبریری کی  حالت زار جہاں ایک طرف کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھنے والے طلبا  کے لیےتشویش کا باعث ہے وہیں کتابیں اور ناول پڑھنے کے شوقین افراد کے لیے بھی کسی پریشانی سے کم نہیں۔

ء 2012  میں اپ گریڈیشن کے بعد لائبریری میں عملہ تعینات کئے بغیر ڈی-سی-او  کے حُکم پرلائبریری کی تمام تر انتظامی ذمہ داریاں تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریشن  جڑانوالا کو سونپ دی گئی۔

فیصل آباد کے سابقہ ڈی-سی-او نسیم صادق کی طرف سے شہریوں میں مطالعہ کتاب کے شوق کو اُجاگر کرنے کے لیے سال 2012ء میں جاری کی گئی تقریبا 75 لاکھ روپے کی گرانٹ سے جڑانوالا میں سرکاری لائبریری کی برسوں پُرانی عمارت کو اپ گریڈ کیا گیا اور اپ گریڈیشن کے بعد لائبریری میں کسی بھی سطع پر عملہ تعینات کئے بغیر ڈی-سی-او  کے حُکم پرلائبریری کی تمام تر انتظامی ذمہ داریاں تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریشن  جڑانوالا کو سونپ دی گئی۔

جولائی 2012ء میں تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریشن جڑانوالا کی طرف سے لائبریری میں 6 عہدوں (لائبریرین، اسسٹنٹ لائبریرین، کلرک، چوکیدار، نائب قاصد، سویپر) پر تقرری کے لیے ای-ڈی-او فنانس کو سمری بھیجی گئی جو یہ کہہ کر رد کر دی گئی کہ لوکل گورنمنٹ ڈیولوشن پلان 2000 کے تحت پبلک لائبریروں کی انتظامی ذمہ داریاں صرف ضلعی حکومت سنبھالنے کی مزاج ہے اس لیے تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریشن کوکسی طرح کے فنڈز جاری نہیں کیے جا سکتے۔

لائبریری میں تقرریوں کے لیے فنڈز جاری نہ کئے جانے کے باعث اُس وقت کے تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریٹر نے تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریشن جڑانوالا کے واٹر ایڈ انسپکٹر کو لائبریری کا انچارج مقرر کیا جو کہ پچھلے 2 سال سے اکیلا بطور لائبریرین اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا ہے۔

لائبریری کا سُنسان استقبالیہ موٹر سائیکل کھڑی کرنے اور بکریوں کا چارہ رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

لائبریری کی کُل 2000 کتابوں میں سےتقریبا 1500 کتابیں ناکارہ ہو چُکی ہیں اور روزانہ آنے والی اخبارات کے پیسے لائبریرین کو اپنی جیب سے بھرنے پڑتے ہیں

     واٹر ایڈ انسپکٹر اور لائبریری کے انچارج محمد افتخار نے بتایا کہ لائبریری کے لیے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے لائبریری میں روزانہ آنے والی 7 اخبارات اور ایک میگزین کے پیسے اُنہیں اپنی جیب سے دینے پڑتے ہیں جو کے ایک ماہ کے تقریبا 3300 سو روپے بنتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ لائبریری کی کُل 2000 کتابوں میں سےتقریبا 1500 کتابیں ناکارہ ہو چُکی ہیں کیوں کہ کتابوں کے بچاؤ کے لیے کیمیکلز فراہم نہیں کیے جاتے۔ اُنھوں نے مزید بتایا کہ گنگاپُور کے سابقہ ناظم راؤ منور کی طرف سے لائبریری کو تحفے میں دیے گئے تینوں کمپیوٹرز عرصہ دراز سے خراب ہیں جس کے باعث لائبریری میں موجود کتابوں کا ریکارڈ کمپیوٹرازڈ نہیں ہو سکا۔ لائبریری کے انچارج محمد افتخار کے مطابق عموماً لوگ کتابیں پڑھنے آتے ہیں لیکن کتابوں کی عدم دستیابی کی بنا پر اُنہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گورنمنٹ بوائز کالج جڑانوالا کے ایک پروفیسر نے نام ظآہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کالج انتظامیہ کی طرف سے کئی بار حکام سے لائبریری کی بہتری کا مطالبہ کیا گیا جسے ہمیشہ نظر انداز کر دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ عموماً میڈیکل اور نان میڈیکل کے طالب علموں کو اپنی پڑھائی میں مدد کے لیے مختلف کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے اور لائبریری میں کتابیں نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بیرون شہر جانا پڑتا ہے۔

  •  حُسین شوگر ملز کی طرف سے عطیہ کیا گیا فرنیچر عرصہ داراز سے لوگوں کی آمد کا منتظر ہے۔

 

 تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریٹر جڑانوالا ارشاد محمود کا کہنا ہے کہ لُوکل گورنمنٹ ڈیولوشن پلان 2000ء کے تحت ضلعی حکومت اور ای-ڈی-او کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضلع بھر کی لائبریریوں میں سٹاف کی تقرری کے ساتھ ساتھ باقی تمام سہولیات کو بھی یقینی بناے۔ اُنھوں نے بتایا کہ تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریشن جڑانوالا کو سابقہ ڈی-سی-او کی طرف سےصرف کچھ عرصہ کے لیے لائبریری کو سنبھالنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن اُس کے بعد اب تک ذمہ داری واپس نہیں لی گئی۔

دوسری طرف ای-ڈی-او کمیونٹی ڈویلپمنٹ آصف تارڑ کا کہنا ہے کہ جڑانوالا کی سرکاری لائبریری کے انتظامی امور تمام دستاویزات کے ساتھ 2012ء میں ٹی-ایم-اے جڑانوالا کو منتقل کر دیے گۓ تھے اور اب ٹی-ایم-اے جڑانوالا کی ذمہ داری ہے کہ وہ لائبریری میں سٹاف، کتابوں اور دوسری بنیادی ضروریات کو یقینی بناۓ۔

بشکریہ۔

http://faisalabad.lokpunjab.org/pages/544