تحریر:  محمد  اشرف  شکوری

ساؤتھ ایشئین لائبریریز کانفرنس کے ہنگاموں میں گم چھوٹی سی ایک خبر۔۔۔
محکمہ ہائر ایجو کیشن پنجاب : افسروں نے اساتذہ کو کلرک بنا دیا، لائبریری سائنس کے مضمون میں بھرتی ہونے والے کالجوں میں بطور لائبریرین تعینات۔۔۔
ابھی چند دن پہلے کی بات ہے جب ان اسامیوں کا اشتہار اخبار میں چھپا تھا تو اس وقت بہت سے افراد اور کچھ لائبریری ایسوسی ایشنیں اس کا کر یڈٹ اپنے کھاتے میں ڈال رہی تھیں اور پھر کچھ دن بعد جب کچھ پروفیشنلز کو بطور اساتذہ منتخب کر لیا گیا تھا تو مبارکبادوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا تھا جیسے لائبریرین ہونا بہت بڑی سزا ہو اور ہمارے یہ پروفیشنلز اس سزا کو کاٹنے لے بعد آزادی کی نعمت سے فیضیاب ہو رہے ہوں۔خیر اب جب یہ خبر آئی ہے کہ ان اساتذہ کو پھر سے لائبریرین بنا دیا گیا ہے تو جیسے سب کو سانپ ہی سونگھ گیا ہے۔کوئی احتجاج نہیں۔اب کی بار تو کریڈٹ لینے والے بھی خاموش ہیں۔
میں لائبریرین اور اور استاد میں کبھی کوئی فرق محسوس نہیں کرتا لیکن یہ اقدام ایک بہت بڑی بے ضابطگی ہے جس پر احتجاج کرنا ہم سب کا فرض ہے۔
اگر آپ لائبریرین ہیں اور آپ کا ضمیر ابھی خوشامد اور چاپلوسی کے بوجھ سے آزاد ہے تو اس پوسٹ پر کمنٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔شاید ان کے کانوں تک آپ کی آواز پہنچ جائے۔
new hirings