اشرف علیLOC

امریکی حکومت بہت سی لائبریریوں کی کفالت کرتی ہے۔ ان میں سب سے مشہور اور بڑی لائبریری آف کانگریس ہے اس کا قیام 1800ء میں عمل میں آیا۔ کتب خانے کا مقصد اطلاعاتی معاملات میں مدد کرنا تھا۔ برٹش لوگوں نے 1812ء کی جنگ میں اس کتب خانے کو تباہ کر دیا تھا۔ مگر جیفرسن نے 1812ء میں اپنے ذاتی ذخیرے کو لائبریری کے ہاتھ فروخت کر دیا جس سے لائبریری آف کانگریس کو دوبارہ ترتیب دے دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ کتب خانے کو جیفرسن کی دی ہوئی درجہ بندی اسکیم کے تحت آراستہ بھی کیا گیا۔ کتب خانہ اکثر مالی بحرانوں سے گزرتا رہا۔ جگہ کی قلت کا سامنا بھی کتب خانے کو کافی عرصہ تک کرنا پڑا لیکن یہ مسئلہ اس وقت اور بھی بڑھ گیا جب اسمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ نے 1866ء میں اپنے رسائل اور جرائد کا قیمتی ذخیرہ لائبریری آف کانگریس کو دیا۔ اسی طرح 1867ء میں پیٹر فورس(Peter Force) کا امریکا نا کا ذخیرہ آنے سے لائبریری میں جگہ کی تنگی اور بڑھ گئی۔ اس کے ساتھ ہی لائبریری کا ذخیرہ اس وقت اور بھی تیزی سے بڑھنے لگا جب کانگریس نے کاپی رائٹ قانون (1877ء) منظور کیا۔ اس کے تحت ہر کتاب کی دو کاپیاں لائبریری میں جمع کروانا لازم قرار دیا گیا۔ اس پر لائبریری کے ناظم مسٹر اسپوفورخ نے دلیل پیش کی کہ لائبریری کیلئے ایک علیحدہ بلڈنگ کی سخت ضرورت ہے۔ کافی بحث و مباحثہ کے بعد آخر کار وہ کانگریس کو یہ بات باور کرانے میں کامیاب ہوا کہ حقیقتاً کتب خانہ جگہ کی قلت کا بری طرح شکار ہے۔ لہٰذا جگہ کا انتظام کیا گیا اور بیسویں صدی کے آغاز میں تھامسن جیفرسن کی عمارت 1939ء اور میڈلین کی بلڈنگ 1979ء میں کتب خانے کو دے دی گئیں۔ ہر برٹ پٹ نم کو 1899ء میں لائبریری آف کانگریس کا لائبریرین منتخب کیا گیا۔ اس کی نگرانی میں لائبریری کی کیٹلاگ کا کام مرکزی طور پر شروع ہوا۔ یہ کام بڑھتے بڑھتے اس قدر پھیلا کہ بالآخر بیسویں صدی کی چھٹی دھائی میں نیشنل یونین کیٹلاگ پرنٹ کیا جانے لگا اور بعد میں مشینی ریڈایبل ٹیپ کا سہارا لینا پڑا۔ اس طرح مطبوعہ مواد محفوظ کرنے کی طرف توجہ دی جانے لگی۔ لائبریری نے نابینا افراد اور معذور لوگوں کی ضرورتِ مطالعہ کو بھی پورا کرنا شروع کیا۔ اگرچہ لائبریری آف کانگریس کا علمی مواد حکومت کے کارکنوں کے کام کو مدد پہنچانے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا مگر 1900ء تک اس کو کافی طویل جدوجہد سے گزرنا پڑا تب جا کر کہیں اس کو نیشنل لائبریری کا درجہ حاصل ہوا۔ لائبریری ڈاکٹر ہربرٹ پٹنم کی زیر قیادت تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتی رہی۔ اس کا دائرہ کار کانگریس اور واشنگٹن کی ضرورت سے نکل کر بڑھتا گیا۔ اب مطبوعہ کیٹلاگ کارڈ کی جگہ یونین ببلو گرافیز اور دوسری معاون فہرستوں کا استعمال کرنا پڑا تا کہ ملکی اور غیر ملکی کتابوں کا تبادلہ کیا جا سکے۔ نابینا افراد کے مطالعہ کے مراکز کا انتظام لائبریری آف کانگریس کے علاوہ دوسری ریاستوں تک پھیلا دیا گیا۔ 1937ء میں جب نئی نیشنل آرکائیوز نے بہت سا سرکاری ریکارڈ اور مخطوطات لائبریری آف کانگریس سے حاصل کرلیے اور 1938ء میں نئی ملحقہ عمارت مکمل ہوئی تو قومی لائبریری میں جگہ کا مسئلہ کسی حد تک کم ہو گیا لیکن کتابوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی حفاظت کیلئے مزید کمروں کی ضرورت جگہ کی کمی کے مسئلے کو مستقل طور پر حل نہ کر سکی۔ امریکہ کے تیسرے صدر جیمز میڈلین کے نام سے تعمیر ہونے والی نئی عمارت بھی کچھ سال بعد علمی مواد کو اپنے اندر سما نہ سکی۔ لائبریری آف کانگریس کی ترقی کی رفتار کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ کتب خانے کا ذخیرہ چھ کروڑ سے زائد آئیٹمز پر مشتمل ہے جب کہ 2000 ملازمین ان کتابوں کی دیکھ بھال اور تنظیم میں مصروف ہیں۔ علمی مواد میں ہر سال جو اضافہ ہوتا ہے اس کی تعداد پانچ لاکھ ہے۔ کتب خانے کا ایک بڑا ذخیرہ جو چودہ لاکھ جلدوں پر مشتمل ہے، نارتھ ا مریکن لائبریریز میں پایا جاتا ہے۔ لائبریری آف کانگریس مختلف لائبریریز کا مجموعہ ہے۔ جس طرح برٹش میوزیم کی لائبریری ہے ( حالیہ برٹش لائبریری) کانگریس لائبریری میں تین لاکھ پچاس ہزار جلدیں چینی زبان میں اور اتنی ہی تعداد میں روسی زبان میں اور روس سے متعلق کتب ہیں۔ کتب خانے میں رسائل و جرائد، موسیقی، موشن پکچرز اور نقشہ جات کا ذخیرہ بھی بہت زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ کتب خانے کی سرگرمیاں کتابوں سے ہٹ کر ثقافتی مرکز کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ یہاں ادبی مجالس اور تصاویری نمائشوں کا انعقاد بھی آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ لائبریری آف کانگریس کے مشرقی علوم کے شعبہ میں دوسرے ممالک اور زبانوں کے ادب کے علاوہ برصغیر ہندو پاک کی زبانوں کا بھی بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ راقم نے اس کتب خانے میں اردو، فارسی، ہندی، سنسکرت اور بنگلہ زبان پر نہایت قیمتی مخطوطات، مطبوعات اور اخبارات دیکھے ہیں اور حقیقت یہ کہ ان میں سے بہت سے جواہر پاروں سے ہمارے کتب خانے محروم ہیں۔ لائبریری آف کانگریس کے علاوہ واشنگٹن شہر میں 100 سے زائد دوسری سرکاری لائبریریاں بھی قائم ہیں۔ ان میں دو قومی کتب خانے بھی شامل ہیں۔ ایک نیشنل لائبریری آف میڈیسن جو میری لینڈ میں واقع ہے، علم طب پر یہ دنیا کی سب سے بڑی لائبریری کہی جاتی ہے۔ اس کی تاریخ 1865ء سے شروع ہوتی ہے۔ 1962ء تک اس میں ایک لاکھ تیس ہزار آئٹمز تھے۔ اس میں کام کرنے والا عملہ 1300 افراد پر مشتمل ہے، سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کی خدمات اس کے فرائض میں شامل ہیں۔ خودکار خدمات، کمپیوٹر کا استعمال اور اطلاعاتی مواد کی فراہمی کیلئے یہ کتب خانہ سر فہرست ہے۔ جدید میڈیکل لٹریچر کا اشاریہ مرتب کیا جاتا ہے۔ میڈلر (Medlar) سسٹم کے تحت اطلاعات فراہم کرتا ہے۔ انڈس میڈیکس(Indus Medicuss) میڈیکل ادب پر مفید معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ دوسری نیشنل لائبریری ’’دی نیشنل ایگری کلچرل لائبریری‘‘ ہے۔ یہ 1862ء میں ڈیپارٹمنٹ آف ایگری کلچر کی کوششوں سے قائم ہوئی۔ ابتدا میں اس کا ذخیرہ سات ہزار جلدوں پر مشتمل تھا۔ لیکن 1929ء میں اس کا ذخیرہ دولاکھ تک پہنچ گیا جب کہ 1970ء میں اس کی کتابوں کی تعداد 13 لاکھ تک جا پہنچی۔ اس میں زراعت کی کتابوں کے علاوہ رسائل و جرائد کا ذخیرہ بہت اہم ہے۔ خود کار خدمات میں یہ بھی اولین کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے جہاں الیکٹرانک کے ذریعے حصولِ کتب اور حوالہ جاتی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ نیز مختلف موضوعات پر اشاریہ اور کتابیات بھی جدید آلات اور مشینوں کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ امریکہ میں سرکاری کتب خانوں کے علاوہ تعلیمی اور مخصوص نجی اداروں کے کتب خانے بھی واشنگٹن کے علاوہ دوسری ریاستوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ امریکہ کی موجودہ ترقی میں ان کتب خانوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ٭…٭…٭

Courtesy: http://dunya.com.pk/