جیاﺅ جیہہ چین (ویب ڈیسک) چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور سر سبز درختوں میں گھرے ہوئے چھوٹے سے قصبے جیاﺅ جیہہ  جسے چین کے دارالحکومت بیجنگ کے قریب تر ہونے سے خاصا نقصان پہنچا ہے، اپنی بقاءکے لئے ایک انوکھا راستہ ڈھونڈا ہے۔ یہاں رہنےو الوں نے درختوں کی شاخوں کی مدد سے جو یہاں افراط سے ہیں، ایک لائبریری قائم کرلی ہے جس کی کتابوں کی کشش بیجنگ چلے جانے والوں کو ایک دن کے لئے ہی سہی یہاں واپس کھینچ لاتی ہے۔

اصل میں د ارالحکومت قریب تر ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ بیجنگ چلے گئے ہیں، صرف بڑے بوڑھے، تنہائی پسند اور غریب رہ گئے ہیں۔ لائبریری بنانے کا آئیڈیا ایک ایوارڈ وننگ آرکیٹکٹ لی زیاﺅ ڈینگ کا ہے جنہوں نے چین کے روایتی اور مغرب کے جدید طرز تعمیر کے امتزاج سے ایک ایسی عمارت تعمیر کی جس کی بنیاد اور اندرونی حصہ فولاد اور شیشے سے بنایا گیا جبکہ بیرونی دیواروں اور چھت کے لئے بانس اور سرکنڈے استعمال کئے گئے ہیں۔ بیجنگ کے کئی شہریوں نے اس لائبریری کے لئے کتابیں عطیے میں دی ہیں۔ اس طرح اس لائبریری کے قیام سے جیاﺅ جیہہ کی زندگی واپس لوٹ آئی ہے اور دو ریسٹورنٹ بھی چل پڑے ہیں۔